- الإعلانات -

ملک بھر میں کورونا وائرس کے دو لاکھ 8 ہزار سے زائد مریض، 4257 جاں بحق

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس کے مزید 5 ہزار سے زائد کیسز سامنے آگئے جس کے بعد مریضوں کی تعداد دو لاکھ 8 ہزار سے زائد ہوگئی جب کہ تاحال 4257 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 23 ہزار سے زائد کورونا ٹیسٹس کیے گئے، جس کے بعد اب تک وائرس کے 12 لاکھ 62 ہزار 162 افراد ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ملک میں کورونا وائرس کے 5 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی کل تعداد 2 لاکھ 8 ہزار 452 ہوگئی۔ ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ 97 ہزار 73 مریض صحت یاب ہو گئے۔

پاکستان میں کورونا متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ سندھ میں ہے جہاں اب تک 81 ہزار 955 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ پنجاب میں 74 ہزار 778 ، خیبر پختونخوا میں 26 ہزار 115، بلوچستان میں 10 ہزار 426، اسلام آباد میں 12 ہزار 643، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 470 اور آزاد کشمیر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد ایک ہزار 65 ہوگئی ہے۔
کورونا وائرس کے سبب ملک بھر میں مزید 140 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے ساتھ پاکستان میں کورونا سے لقمہ اجل بننے والوں کی مجموعی تعداد 4 ہزار 257 ہوگئی۔ پنجاب میں ایک ہزار 681، سندھ میں ایک ہزار 269، خیبر پختونخوا میں 922، اسلام آباد میں 127، بلوچستان میں 116، گلگت بلتستان میں 24 اور آزاد کشمیر میں 28 افراد کورونا وائرس سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔