- الإعلانات -

نئے نوول کورونا وائرس اور ہوا میں نمی کے درمیان تعلق دریافت

نئے نوول کورونا وائرس کی وبا کے آغاز میں ہوا میں نمی کی کم سطح نے اسے مقامی سطح پر پھیلانے میں کردار ادا کیا۔

درحقیقت ہوا میں ایک فیصد نمی کی کمی سے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے کیسز کی شرح میں 6 فیصد اضافہ ہوگیا۔

یہ بات آسٹریلیا اور چین کے سائنسدانوں کی مشترکہ تحقیق میں دریافت کیا گیا۔

سڈنی یونیورسٹی اور شنگھائی کی فوجان یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنسدان کا یہ کام موسم اور جنوبی نصف کرے میں موسم کے درمیان تعلق پر کسی طبی جریدے میں شائع ہونے والی پہلی تحقیق ہے۔

محققین نے بتایا کہ کووڈ 19 ممکنہ طور پر ایک سیزنل بیماری کی شکل اختیار کرسکتا ہے جو اس دورانیے میں نمودار ہوا کرے گا جب ہوا میں نمی کی سطح کم ہوتی ہے، ہمیں سرما کے وقت کے بارے میں سوچنا ہوگا کیوکہ وہ کووڈ 19 کا وقت ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے Transboundary اینڈ ایمرجنگ ڈیزیز میں شائع ہوئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ وبا چین، یورپ اور شمالی امریکا میں سرما کے دوران پھیلنا شروع ہوئی تھی اور ہم یہ دیکھنا چاہتے ھتے کہ گرما کے اختتام اور خزاں کے آغاز میں آسٹریلیا میں موسم اور کووڈ 19 کے درمیان کیا تعلق سامنے آتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جب موسم کی بات آتی ہے تو ہم نے دریافت کیا کہ سرد درجہ حرارت نہیں بلکہ ہوا میں نمی کی کم سطح اس کے پھیلنے کی مرکزی وجہ ہے، یعنی ممکنہ طور پر لگتا ہے کہ یہ مرض سردیوں میں خطرہ بڑھا سکتا ہے جب ہوا میں نمی کی سطح کم ہوجاتی ہے، مگر شمالی نصف کرے میں ایسے ممالک جہاں ہوا میں نمی کی سطح کم رہتی ہے وہاں گرم موسم میں بھی اس کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

نمی کیوں اہمیت رکھتی ہے؟
محققین کا کہنا تھا کہ ایسی حیاتیاتی وجوہات موجود ہیں جو نمی کو اس طرح کے وائرسز کے پھیلاؤ کے لیے اہم ثابت کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب نمی کی سطح کم ہوتی ہے تو ہوا خشک ہوجاتی ہے اور ذرات کا حجم کم ہوجاتا ہے، جب آپ چھینکتے اور کھانستے ہیں تو یہ ننھے ذرات ہوا میں زیادہ دیر تک معطل رہتے ہیں، جس سے دیگر افراد کے بیمار ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس کے مقابلے میں جب ہوا میں نمی زیادہ ہوتی ہے تو یہ ذرات بڑے اور بھاری ہوتے ہیں اور بہت جلد سطح پر گرجاتے ہیں۔

تحقیق کے دوران 26 فروری سے 31 مارچ کے دوران آسٹریلیا میں مقامی طور پر پھیلنے والے کورونا وائرس سے متاثر 749 مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیقی ٹیم نے مریضوں کے علاقوں کے قریبی موسمیاتی مراکز کے ریکارڈ کا جائزہ لے کر وہاں جنوری سے مارچ 2020 تک بارش، درجہ حرارت اور ہوا میں نمی کا تجزیہ کیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ہوا میں کم نمی سے کیسز کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے، یعنی نمی کی شرح میں ایک فیصد کمی بھی کووڈ 19 کے کیسز کی شرح میں 6 فیصد اضافہ کرسکتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں خشک موسم میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی۔

اس سے قبل اپریل میں یالے یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے تھے۔

جریدے Annual Review of Virology میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ وائرس کے پھیلنے اور موسم کے درمیان تعلق کا جائزہ مختلف تحقیقی رپورٹس میں لیا جارہا ہے اور، 2 بنیادی عناصر اس کے لیے اہمیت رکھتے ہیں وہ ہے ماحولیاتی پیرامیٹر اور انسانی رویوں میں تبدیلیاں۔

مختلف درجہ حرارت اور نمی سے وائرسز کے پھیلائو اور استحکام پر اثرانداز ہوتے ہیں، مثال کے طور پر ایک نئے تجزیے سے عندیہ ملتا ہے کہ سرد خشک ہوا سردیوں میں انفلوائنزا کے پھیلنے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔

تحقیق میں وضاحت کی گئی کہ کس طرح سردی کی ٹھنڈی اور خشک ہوا نئے کورونا وائرس کے پھیلنے پر ممکنہ طور پر اثرانداز ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ جب سرد، خشک ہوا چاردیواری کے اندر آتی ہے اور پھر گرم ہوتی ہے تو گھر کے اندر نمی کا تناسب گھٹ کر 20 فیصد رہ جاتا ہے، نمی میں اتنی کمی ہوا میں موجود وائرل ذرات کے سفر کو آسان بنادیتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جسم کی سانس کی نالی کے باہر موجود خلیات خشک ماحول میں اچھی طرح کام نہیں کرپاتے، وہ وائرل ذرات کو اس طرح خارج نہیں کرپاتے، جیسا دیگر حالات میں کرتے ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کھلے ماحول میں بہت زیادہ نمی بھی وائرس کے پھیلائو میں معاونت کرتی ہے، مثال کے طور پر استوائی علاقوں میں ہوا میں موجود ذرات زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں بیشتر گھروں اور عمارات میں ہوا کے اخراج کا نظام ناقص ہوتا ہے، جبکہ لوگ بہت قریب رہتے ہیں، جس سے زیادہ نمی کے نتیجے میں وائرس پھیلنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ لوگ سال کے کسی بھی حصے میں وائرس کو ایک دوسرے سے تعلق اور آلودہ سطح کو چھونے سے پھیلا سکتے ہیں اور بچنے کا بہترین طریقہ ہاتھوں کی صفائی اور سمای دوری کی مشق ہے۔