- الإعلانات -

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب مےں

عالمی سطح پر پھوٹنے والی کووڈ 19وباء کے باعث دنےا کو اےک بحرانی کےفےت کا سامنا ہے جس مےں خوف اور بے ےقےنی کا دور دورہ ہے زندگی بعض اوقات آپ پر اےسے حالات مسلط کرتی ہے جو انسانی دائرہ اختےار سے باہر ہوتے ہےں ،تا ہم انتخاب ہمےشہ اچھی قےادت کے ہاتھ مےں ہوتا ہے کہ ان مشکل حالات مےں اپنے بہتر فےصلے سے وہ کےسے نبرد آزما ہو کر قوم کو نکالتی ہے ۔ جنگ عظےم زوروں پر تھی لندن،جرمنی کی فضائی ےلغار اور بمباری سے بری طرح برباد ہو رہا تھا ۔ برطانوی وزےر اعظم چرچل اپنے زےر زمےن کےبن مےں موجود تھے ۔ جنگ کا نقشہ زمےن پر کھلا پڑا تھا ۔ برطانوی فوج کی شکست اور ہزےمت کی خبرےں آ رہی تھےں مگر چرچل نے ہمت نہ ہاری اور نہ قوم کو کم ہمتی،کمزوری،ناکامی ،ہزےمت اور انحراف کا درس دےا بلکہ اپنی مےز پر اےک جملہ لکھ رکھا تھا کہ ’’ےہ دور ابتلا بھی گزر جائے گا‘‘کہتے ہےں کہ ;68;iscretion is the better part of valourےعنی احتےاط پسندی اور حزم کا راستہ اختےار کرنا ہی بہادرانہ روش ہے لےکن جب اس راستے سے اجتناب کی پالےسی ہی اختےار کر لی جائے اور حکمرانوں کی اشےر باد بھی اسی طرز عمل کی عکاس ہو تو پھر ےہ اےسے ہی ہے کہ خود کشی کا پھندا خود اپنے گلے مےں ڈالناحالانکہ دنےا کی متعےن اور اختےا ر کردہ سمت اختےار کرنا ہی تقاضائے دانش ہوتا ہے ۔ کہتے ہےں کہ;77;oving is not important in which directions we are moving is the most important thingکورونا کی تباہ کاری کے حوالے سے ہماری قےادت کا ہنوز اسی ضد پر اصرار کہ ملک بند نہےں ہو سکتا ،کاروبار اور معمول کا سفر جاری رکھنا ہی حکمت و دانائی ہے ۔ آغاز مےں اسے معمولی نزلہ زکام سے تعبےر کےا گےا اور ساتھ ےہ فرمان بھی جاری ہوا کہ مےں گورکن نہےں ہوں ،مےرے ہاتھ مےں جادو کی چھڑی نہےں ہے ۔ برازےل کے صدر بولسو نارو کی اسی ضد کا انجام 50ہزار برازےلےوں کی جان لےنے پر منتج ہوا ۔ برازےلی صدر امرےکی صدر سے بھی آگے نکل گئے ۔ اب بھی روزانہ وہاں پانچ سو سے زائد افراد اس وباء کے کارن ہلاک ہو رہے ہےں ۔ اٹلی کے ڈاکٹرز کی اےسوسی اےشن (;6578776879;) کے مطابق کووڈ19کی جنگ مےں ان کے تےس ہزار ہےلتھ ورکرز متاثر ہوئے جبکہ چھتےس ہزار نرسز اور اےک سو پےنسٹھ ڈاکٹرز اپنی جان سے ہاتھ دھو بےٹھے ۔ اس ناقابل تلافی نقصان کے باوجود انہوں نے اپنے وزےر اعظم کے فےصلوں کو سراہتے ہوئے ڈاکٹرز کی ہداےات کومقدم رکھا ۔ ان کے بروقت اور غےر متزلزل اقدامات نے اٹلی کو موت کے منہ سے نکال لےا ۔ اس دور مےں بھی عوام کی قسمت کے بہتر فےصلے کرنے والے بے لوث حکمران دنےا مےں موجود ہےں ۔ نےوزی لےنڈ کی وزےر اعظم جےسنڈا آرڈرن کی شخصےت اور صلاحےتوں سے اےک عالم واقف ہے ۔ جےسنڈا آرڈرن کو صرف اےک ہی سال کے عرصے مےں دو شدےد ترےن امتحانوں سے گزرنا پڑا ۔ نےوزی لےنڈ کی دو مساجد مےں اےک سفےد فام حملہ آور کے ہاتھوں نماز جمعہ کے وقت 51مرد و خواتےن شہےد ہو گئے اور49شدےد زخمی ہوئے ۔ جےسنڈا نے حجاب پہن کر شہداء کے لواحقےن کو جس انداز سے اظہار تعزےت کےا اور دلاسا دےا اس نے عالمی سطح پر وزےر اعظم کو اےک سنجےدہ ،زےرک اورمدبر لےڈر کی حےثےت سے نماےاں کےا ۔ ان کے اس ہمدردانہ طرز عمل مےں ےہ خےال ہمارے ذہن مےں عود کر آےا کہ کاش ہمارے سربراہ مملکت بھی اسی ہمدردانہ جذبے کے حامل ہو جائےں ۔ کورونا وائرس کی وباء کے اس مشکل دور مےں اےک سربراہ مملکت کو کےسا کردار ادا کرنا چاہیے ےہ بھی نےوزی لےنڈ کی وزےر اعظم نے پوری دنےا کو بتاےا ۔ 7جون کو وہ فخرےہ اعلان کر رہی تھےں کہ نےوزی لےنڈ مےں کورونا کا آخری مرےض بھی صحت ےاب ہو چکا ہے اور ہم اےک بار پھر نارمل زندگی کی طرف جا رہے ہےں ۔ نےوزی لےنڈ نے تےن نکاتی پروگرام پر من و عن عمل کےا ۔ جےسنڈا آرڈرن نے 25مارچ کو سخت ترےن لاک ڈاءون کا اعلان کےا اور ےہ اپنی شدےد ترےن صورت مےں 25اپرےل تک برقرار رہا ۔ جان ہاپکنز کی رپورٹ کے مطابق نےوزی لےنڈ مےں کورونا کے کل 504,1کےسز تھے ،صرف 22اموات ہوئےں مگر وزےر اعظم نے 7جون تک انتظار کےا اور جب آخری مرےض بھی صحت ےاب ہو گےا تو جےسنڈا نے قوم کو خوشخبری سنائی کہ وہ کورونا سے پہلے کی نارمل زندگی کی طرف واپس آ جائےں ۔ افسوسناک حقےقت ےہ ہے کہ پاکستان نے دوسرے ممالک کے تجربات سے سےکھنے کی کوشش ہی نہ کی اور خود تجربہ کرنے سے موت کی بے رحم بھٹی مےں کود پڑا ۔ نےوزی لےنڈ کی وزےر اعظم کے مطابق لاک ڈاءون جتنا جلدی لگتا ہے اتنا نقصان کم ہوتا ہے اور لاک ڈاءون جتنا سخت ہوتا ہے اتنا مختصر ہوتا ہے ۔ چےن ،اٹلی،اور فرانس نے بھی دو ماہ کے سخت لاک ڈاءون کے بعد کورونا کو مات دی ۔ جرمنی،سپےن،ےونان،جنوبی کورےا ،وےتنام ،بےلجئےم اور ڈنمارک نے بھی سخت لاک ڈاءون کی پالےسی اپنائی اور کامےاب رہے ۔ ان ممالک مےں زندگی کا پہےہ پھر سے چل پڑا ہے جس سے دم توڑتی معےشت کی سانسےں بحال ہو رہی ہےں ۔ ہمارے ہاں پاکستان مےں 2مارچ2020کو گلگت مےں کورونا کی اےک مرےضہ سامنے آئی ۔ 15مارچ کو سندھ مےں 76اور لاہور مےں اےک کےس تھا ۔ ہم نے تو صورتحال کو قابو مےں کرنا تھا لےکن بگاڑ بےٹھے ۔ ہماری قےادت نے صرف مےڈےا برےفنگ اور قوم سے خطابات مےں ہی خےالی پلاءو پکا کر کورونا کے خلاف جنگ جےتنے کی کوشش کی اور بری طرح ہار بےٹھے ۔ ہر خطاب مےں وزےر اعظم کا اسی بات پر زور رہا کہ کورونا سے ڈرنا نہےں لڑنا ہے ،صرف بلند بانگ دعووں کے مےنار کھڑے کئے گئے جس کے باعث پاکستان ابھی تک اس وائرس کا بری طرح شکار بنا ہوا ہے ۔ پاکستان مےں کورونا متاثرےن کی تعداد اےک لاکھ 93ہزار سے تجاوز کر چکی ہے ۔ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد چار ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ روزانہ کی بنےادپر 150کے قرےب لوگ موت کے منہ مےں جا رہے ہےں ۔ اب صورتحال ےہ ہے کہ کورونا کا پھےلاءو بڑے شہروں سے نکل کر چھوٹے شہروں اور قصبات کو اپنی لپےٹ مےں لے رہا ہے ۔ کورونا کے جو متاثرےن نظروں سے اوجھل ہےں وہ گنتی مےں نہےں ۔ ہماری ٹےسٹنگ کی استعداد محدود ،شہروں مےں ناکافی اور دےہات مےں نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ان دنوں ےہ تعےن کرنا کہ کونسی موت کورونا کی وجہ سے ہوئی اور کس موت کے ساتھ وائرس کا کوئی تعلق نہےں ۔ راقم کے گاءوں مےں انہی اےام مےں بےس کے قرےب اموات ہو چکی ہےں اور ارد گرد کے دےہات مےں بھی اموات کا شمار نہےں لےکن ان اموات کی حتمی وجہ کسی کو معلوم نہےں ۔ دوسرے آج عوام کو معاشرے مےں موجود مافےاز کے رحم و کرم پر چھوڑ دےا گےا ہے ۔ جان بچانے والی ادوےات ناےاب اور بلےک مےں ان کی ہزاروں گنا زائد قےمت پر حصول ممکن ہے ۔ حکومت اس ساری صورتحال مےں منقار زےر پر نظر آتی ہے ۔ حکومت نے ;72;erd immunityکا فارمولہ اپنا لےا ہے جس کے مطابق ےہ وائرس اےک بار ہر اےک کو اپنی لپےٹ مےں لے گا ۔ جو موت کے منہ مےں چلا گےا کوئی پرواہ نہےں اور جو بچ گےا اس کی اپنی قسمت وفاقی وزےر منصوبہ بندی اسد عمر کا ےہ خدشہ اسی حقےقت کا ترجمان ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک ملک مےں متاثرےن کی تعداد تےن لاکھ اور جولائی کے آخر تک 12لاکھ تک پہنچ سکتی ہے ۔ ہماری گڈ گورننس کا ےہ عالم ہے کہ

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب مےں

ےہی وجہ ہے کہ سپرےم کورٹ آف پاکستان کے چےف جسٹس کو اپنے حالےہ رےمارکس مےں کہنا پڑا کہ کورونا نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دےا ۔ نہےں معلوم اےن ڈی اےم اے کےسے کام کر رہا ہے ۔ معےشت بےٹھ چکی ہے ،حکومت کے پاس کوئی معاشی پلان نہےں ،بحران کو دےکھنے والا کوئی نہےں ہے ۔ معزز قارئےن کسی پلاننگ کے بغےر سمت متعےن کی جائے تو کوئی کام بھی کامےابی سے ہمکنار نہےں ہوتا ۔ مےڈےا پر تقارےر کو صرف اےک سہانے خواب سے ہی تعبےر کےا جا سکتا ہے ۔ اےک مخصوص وقت کے بعد جو رزلٹ سامنے آئے گا اور کورونا کی اپنائی گئی حکمت عملی کے حوالے سے بھی وہ بتائے گا کہ آےا اس کے علاوہ بھی قےادت کے پاس کوئی آپشن موجود تھا لےکن شائد باقی صرف پچھتاوا ہی بچے گا اور خدا نہ کرے کہ اےسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے

اپنے دیے کو چاند بتانے کے واسطے

بستی کا چراغ بجھانا پڑا مجھے