- الإعلانات -

ٹینیٹ کے بعد مولان کی ریلیز بھی التوا کا شکار

ہولی وڈ کے لیے موسم گرما بہت اہمیت رکھتا ہے جس کے دوران متعدد بڑی فلموں کو ریلی کیا جاتا ہے اور اسے سمر سیزن قرار دیا جاتا ہے۔

مگر 2020 میں کورونا وائرس کے نتیجے میں بیشتر فلموں کی ریلیز ممکن نہیں ہوسکی اور جن فلموں ٹینیٹ اور مولان کو جولائی کے آخر میں ریلیز کیا جانا تھا، ان کو بھی التوا میں ڈال دیا گیا ہے۔

پہلے ڈائریکٹر کرسٹوفر نولان کی فلم ٹینیٹ 17 جولائی کو ریلیز ہونا تھی، مگر پھر یہ تاریخ 31 جولائی اور گزشتہ ہفتے 12 اگست کردی گئی۔

دوسری جانب امریکا میں کوورنا وائرس کے کیسز میں دوبارہ تیزی سے اضافے کے بعد ڈزنی اسٹوڈیوز نے بھی اپنی فلم مولان کو 24 جولائی کی بجائے 21 اگست کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تحریر جاری ہے‎

ڈزنی کے شریک چیئرمین ایلن ہورن اور ایلن برگ مین نے مشترکہ بیان میں کہا ‘وبا کے نتیجے میں ہمیں مولان کی ریلیز کی تاریخ کو بدلنا پڑا، مگر ہم حالات کے مطابق لچکدار رویہ اختیار کریں گے، اس سے ہمارا فلم کی طاقت اور امید کے پیغام پر یقین بدلا نہیں’۔

25 جون کو وارنر برادرز نے بھی اعلان کیا تھا کہ ٹینیٹ اب 31 جولائی کی بجائے 12 اگست کو ریلیز ہوگی۔

وارنر برادرز کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے فلم کو جمعے کی بجائے ہفتے کے وسط میں ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ناظرین اپنے وقت کے مطابق اسے دیکھ سکیں، ہمارا ارادہ اسے زیادہ عرصے تک سنیماؤں میں چلائے رکھنا ہے، تاکہ ایک بہت مختلف مگر کامیاب ریلیز حکمت عملی کو تشکیل دیا جاسکے۔

امریکا بھر میں کمپنیوں کی جانب سے سنیماؤں کو ٹینیٹ اور مولان کی نئی ریلیز تاریخوں میں وسیع پیمانے پر کھولنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

اے ایم سی تھیٹرز، ریگل سنیماز اور سائن مارک شمالی امریکا کے 3 بڑے مووی تھیٹرز کمپنیاں ہیں، جو جولائی کے وسط تک دوبارہ سنیما گھروں کو کھولنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

جہاں سب سے پہلے 2010 کی فلم انسیپشن کو ریلیز کیا جائے گا اور دیگر چھوٹی نئی فلموں کو بھی ناظرین دیکھ سکیں گے۔

مگر مختلف امریکی ریاستیں کووڈ 19 کے کیسز میں اضافے کے نتیجے میں جولائی میں سنیما کھولنے کے منصوبے غیریقینی صورتحال کا شکار ہوچکے ہیں۔

کیلیفورنیا میں کیسز میں اضافے کے بعد ڈزنی نے اگلے مہینے ڈزنی لینڈ کھولنے کا ارادہ ملتوی کردیا جبکہ نیویارک کے گورنر بھی ریاست میں سنیماؤں کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ التوا میں ڈال دیا۔