- الإعلانات -

ہندوستان خطے میں بدامنی پھیلانے کا مرتکب

بھارت اپنے پڑوسی ممالک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کررہا ہے ۔ ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند تنظیموں کے پیچھے ہمیشہ را کا ہاتھ کار فرما ہوتا ہے ۔ کیا بھارت خطے کے ممالک کو عدم استحکام کا نشانہ بنا کر خود خطے کا چودھری بننا چاہتا ہے ۔ صرف اپنے ہاں ہی نہیں بلکہ بھارت خطے کے دوسرے ممالک میں بھی دہشت گردی کر رہا ہے ۔ سری لنکا، نیپال بھوٹا ن ، بنگلہ دیش اور پاکستان ، ہر ملک کو اس نے عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی ۔ ہمارے ہاں بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔ بلوچستان کی نام نہاد علیحدگی پسند تنظیم بی ایل اے کو مشرف آمریت میں بلوچ قوم پرست اور سابق گورنر و وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بگتی کی ایک فوجی اپریشن کے دوران ہلاکت کے بعد اپنی ملک دشمن سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کا موقع ملا تھا جس کے دوران بی ایل اے نے غیرمقامی باشندوں بالخصوص پنجابی آباد کاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع کیا اور پھر اس تنظیم نے ایف سی کے اہلکاروں کو بھی ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا ۔ جب اس تنظیم نے بلوچستان میں پاکستان مخالف ریلیوں کے انعقاد اور ان میں پاکستان کے جھنڈے جلانے اور پاءوں تلے روندنے کا سلسلہ شروع کیا تو یہ عقدہ کھلا کہ ہماری سالمیت کمزور کرنے کے درپے ہمارا ازلی دشمن بھارت بی ایل اے کی مکمل سرپرستی اور فنڈنگ کررہا ہے جبکہ بھارتی ’’را‘‘ کی جانب سے اس تنظیم کے عسکری ونگ کو دہشت گردی کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے ۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس میں بھارت میں داعش دولت اسلامیہ اور عراق(آئی ایس آئی ایل) کی بڑھتی طاقت اور 2019 میں سری لنکا میں ایسٹر سنڈے پر ہونے والے حملوں کو بھی اجاگر کیا گیا تھا ۔ پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ملوث ہے ۔ بھارت کو ’’را‘‘ کی مداخلت سے باربار آگاہ کیا ۔ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ایک ڈوزیئر بنا کر اقوام متحدہ اور امریکی دفتر خارجہ کے حوالے کیا گیا جو خود بھارت کے دہشت گرد ہونے کا بھی بین ثبوت ہے ۔ اس تناظر میں عساکر پاکستان اور اسکے ذیلی اداروں نے بلاشبہ دفاع وطن کے تقاضے نبھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کی ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیری عوام کے خلاف اس کے جاری جرائم سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے ۔ پاکستان دہشت گردی کا خود شکار رہا ہے ۔ جس میں سرحد پار سے ہمارے عوام کے خلاف ہونے والی دہشت گردی بھی شامل ہے ۔ دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے ہزاروں شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ ہمارے ہزاروں قانون نافذ کرنے والے بہادر جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں ۔ دہشت گردی کی لعنت کا مقابلہ کرنے میں پاکستان کی قربانیوں اور شراکت کو عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے ۔ چند سال قبل پاکستان پر مغربی سمت سے وار کرنے کےلئے بھارت نے افغانستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوج افغانستان میں تعینات کی جا نی تھی ۔ یوں بھارت نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کےلئے پاک افغان سرحد پر دباوَ بڑھانا تھا اور افغانستان میں بھارتی فوج کی تعیناتی بھی اسی مہم کا ایک حصہ تھا ۔ اب افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد بھارت کو اصل مسئلہ اسی فوج کا پڑا ہوا ہے ۔ امریکہ اپنی فوج کو افغانستان سے نکال کر بھارتی فوج کے ذریعے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن افغانستان ، روسی افواج کی طرف بھارتی افواج کا بھی قبرستان ثابت ہوگا ۔ کابل میں بھارتی سفارت خانہ کے علاوہ قندھار، جلال آباد، مزار شریف اور ہرات میں قونصل خانے پاکستان کے خلاف بھارتی خفیہ کارروائیوں کے بڑے مراکز ہیں ۔ جہاں افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔ بھارتی قونصل خانوں سے پاکستان بالخصوص پشاور اور قبائلی علاقہ جات میں منفی سرگرمیوں کےلئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔ قندھار کا بھارتی قونصل خانہ تو افغانستان میں ’’را‘‘ کا ہیڈ کوارٹر ہے ورنہ اگر دیکھا جائے تو قندھار میں افغانستان کے قونصل خانے کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔ بھارت کی افغانستان سے تجارت اور بھارتیوں کی آمدورفت جلال آباد کے راستے سے ہوتی ہے ۔ قندھار کے راستے نہ تو تجارت ہوتی ہے اور نہ ہی بھارتی سفارتکاروں اور عام شہریوں کی آمدورفت ۔ پاکستان بارہا ایسی دستاویزات ثبوت کے طور پر پیش کرچکا ہے جن کے مطابق بھارت افغان سرزمین کو بلوچستان میں حالات خراب کرنے اور دہشت گردی کی کارروائیوں کےلئے استعمال کر رہا ہے ۔ افغانستان کے حکمران اسکی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے چلے آرہے ہیں ۔ بھارت کے ایماء پر کم و بیش اڑھائی ہزار کلو میٹر سرحد کو انہوں نے غیرمحفوظ بنا دیا ہے ۔ بھارت افغان سرزمین پاکستان میں مداخلت کیلئے استعمال کرتا آرہا ہے ۔ اسکے ناقابل تردید ثبوت اقوام متحدہ اور امریکہ کے سامنے رکھے جاچکے ہیں مگر اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ اسلامی اخوت کا تقاضا تھا کہ پاکستان اور افغانستان سرحد کو مل کر محفوظ بناتے مگر افغان حکمران ذاتی مفادات کے اسیر بن کر بھارتی مفادات کو پاکستانی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں ۔ پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے پاک فوج حکومت اور قوم متحد اور ایک پیج پر ہے ۔