- الإعلانات -

’’ الخالد ۔ ون ‘‘مضبوط دفاعی حصاراور

پا ک سپہ سالار نے کہا ہے کہ کسی نے ہ میں اشتعال دلایا تو اسے پوری قوت سے جواب دیا جائیگا ۔ دو روز قبل ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا میں چین اور یوکرائین کے تعاون سے تیار کردہ ٹینک الخالد ۔ ون کو فوج کے حوالے کرنے کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ہماری دفاعی اور آپریشنل تیاریاں ملک کے اندر اور باہر امن کو یقینی بنانے کیلئے ہیں ۔ انہوں نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کی مصنوعات‘ انکے تکنیکی معیار اور ادارے کی استعداد پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے ایسی مصنوعات تیار کرنے کی تعریف کی جن کی سلامتی کے ابھرتے ہوئے ماحول میں اشد ضرورت ہے اور اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ الخالد ۔ ون کو ان فارمیشنوں کے سپرد کیا جارہا ہے جن کا دوران جنگ اہم اور فیصلہ کن کردار ہوتا ہے ۔ ماہرین نے اس ضمن میں کہا ہے کہ پاکستان کو اس خطے میں جس شاطر و مکار دشمن سے پالا پڑا ہے اسکی بنیاد پر ہ میں دفاع وطن کے تمام تقاضوں کو بہرصورت ملحوظ خاطر رکھنا ہے جس کی عساکر پاکستان مکمل اہل بھی ہیں اور اپنے پیشہ ورانہ فراءض کی انجام دہی میں ہمہ وقت چوکس بھی ۔ مبصرین کے مطابق قیام پاکستان کے بعد اگر بھارت نے پاکستان کو خلوص دل کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختار پڑوسی ملک کی حیثیت سے تسلیم کرلیا ہوتا تو پاکستان بھارت کشیدگی کی کبھی نوبت ہی نہ آتی اور دونوں ملک باہمی تعاون سے ہر شعبے میں ترقی کی منازل طے کرکے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوچکے ہوتے مگر پاکستان کی سلامتی کیخلاف بھارت کی شروع دن کی بدنیتی کے باعث ان دونوں پڑوسی ممالک میں کبھی دوستانہ مراسم استوار نہ ہوسکے اور نہ ہی باہمی تعاون کی خوشگوار صورتحال پیدا ہوسکی ۔ یاد رہے کہ بھارت نے پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی منصوبہ بندی کو اپنی حکومتی پالیسی کا حصہ بنایا جس کے تحت کشمیر پر تسلط جما کر پاکستان کیخلاف جنگی جنون بھڑکایا گیا اور اسے آبی دہشت گردی کا شکار کیا گیا ۔ واضح رہے کہ بھارت نے اپنی شروع دن کی بدنیتی کی بنیاد پر ہی پاکستان پر 65ء اور 71ء کی جنگیں مسلط کیں اسے سانحہ سقوط ڈھاکہ سے دوچار کیا اور پھر باقیماندہ پاکستان کی سلامتی کے بھی درپے ہوگیا جس کیلئے اس نے خود کو ایٹمی طاقت بنایا اور سازشوں اور گیدڑ بھبکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا جو ہنوز جاری ہے اور اس ماہ کنٹرول لائن پر پاک فوج نے بھارت کا دسواں جاسوس ڈرون گرایا ہے ۔ ایسے سازشی اور عیار دشمن کے مقابل ہ میں یقیناً اپنا دفاعی حصار مضبوط بنانے کی مجبوری لاحق ہوئی جس کیلئے پاکستان کی سول اور عسکری قیادتوں نے اپنے ادوار حکومت میں ملک کو ایٹمی قوت بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ بالآخر بھٹو مرحوم کے دور سے شروع ہونیوالا سرخروئی کا یہ سفر نوازشریف کے دور میں 28 مئی 1998ء کو جوابی ایٹمی دھماکوں کی سرخروئی کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار ہوا اسکے ساتھ ساتھ پاکستان نے اپنی دفاعی ضرورتوں کے مطابق ٹیکٹیکل ہتھیاروں سمیت جدید اسلحہ کے حصول و تیاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ یاد رہے کہ بھارت نے موذی سانپ کی طرح بے شک پاکستان کی سلامتی کیخلاف اپنی زہر ناکیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے مگر اسکے ایٹمی قوت سے ہمکنار ہونے کے بعد اسے پاکستان پر دوبارہ باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی جرات نہیں ہوئی البتہ اس وقت ہندو انتہاء پسندوں کی نمائندہ بھارت کی مودی سرکار نے اپنی جنونیت اور توسیع پسندانہ عزائم کے باعث دونوں ایٹمی ممالک کو ایک دوسرے کے مقابل ضرورلا کھڑا کیا ہے جبکہ خطے میں دوسرے ممالک بالخصوص چین کے ساتھ جاری اسکی شرارتوں نے پورے خطے اور تمام اقوام عالم کیلئے بھی سنگین خطرات پیدا کر دیئے ہیں ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ عساکر پاکستان کو سرحدوں پر صرف بھارت ہی نہیں بلکہ این ڈی ایس کی جانب سے بھی ملک کی سلامتی کو لاحق خطرات کے تناظر میں دفاع وطن کے تقاضے نبھانے ہیں جس کیلئے وہ ہمہ وقت چوکس اور سرحدوں پر دشمن کی پھیلائی سازشیں ناکام بنانے کیلئے مکمل تیار ہیں اور جانفشانی کے ساتھ دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دے بھی رہی ہیں ۔ پاک افواج ملک کے اندر دشمن کے پھیلائے دہشت گردوں سے بھی نبردآزما ہیں اور ملک کی سلامتی کے تحفظ کے تقاضے نبھا رہی ہیں ۔ ماہرین کے مطابق ہ میں افغانستان میں شروع کی گئی امریکی نیٹو فورسز کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے ناطے ملک کے اندر بدترین دہشت گردی سے پالا پڑا جس میں ہماری سکیورٹی فورسز کے دس ہزار جوانوں اور افسران سمیت ملک کے 70 ہزار سے زائد شہریوں نے جام شہادت نوش کیا ہے ۔ افواج پاکستان کو اس تناظر میں سرحدوں کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر بھی دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ لڑنا پڑی جو کئی مراحل سے گزرتے ہوئے اب دہشت گردوں کی مکمل سرکوبی پر منتج ہورہی ہے جبکہ ہزیمتیں اٹھاتے دہشت گرد اس وقت بھی خیبر پی کے اور بلوچستان میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کی شکل میں پاکستان کی سلامتی چیلنج کرتے نظر آتے ہیں ۔ ان دہشت گردوں کو بھی یقینی طور پر ہمارے ازلی دشمن بھارت کی ہی سرپرستی اور معاونت حاصل ہے جو ہر محاذ پر پاکستان کی سلامتی کے درپے ہے ۔ دو سری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے، طویل ترین فوجی محاصرہ اور ظلم و بربریت پر 5 اگست کو یوم استحصال کے طور پر منایا جائے گا اور 5 اگست کووزیراعظم عمران خان آزاد و جموں کشمیر کا دورہ کریں گے ۔ اس دن ملک بھر میں بھارتی مظالم کی بھر پور مذمت کے لئے خصوصی تقاریب اور ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا ۔ بھارتی فوجی کشمیریوں کو قتل کرنے، پیلٹ گنز کے استعمال اور جبری گمشدگی میں ملوث ہیں ۔ ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا تھا کہ حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ دنیا کو حقیقت کا علم ہونا چاہئے لیکن مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ۔ موصوف کا اس سلسلے میں مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور کشمیریوں کو جیلوں میں بھیجا جارہا ہے ۔ بھارت نے کرونا وائرس کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا کر دی ہے اور عالمی برادری کو اب بیدار ہونے کی ضرورت ہے ۔ سیکرٹری اطلاعات اکبر حسین درانی نے اسی ضمن میں کہا کہ پچھلے سال 5 اگست کوبھارت کی یکطرفہ کارروائی نہ صرف غیر قانونی تھی بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی خلاف ہے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کے مطابق ہندوستان کی جانب سے کشمیر پر قبضہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اور بھارتی یکطرفہ فیصلے کو پاکستان اور کشمیری دونوں تسلیم نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کا ہندوتوا ایجنڈا یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر مسلمانوں کو غلام بنا کر رکھیں اور پاکستان کے ساتھ بھی تناءو جاری رہے لیکن دو ایٹمی ممالک کے مابین ایسا ماحول امن کےلئے خطرہ ہے ۔ ایسے میں امید کیا جانی چاہیے کہ دنیا بھارت کو لگام ڈالے گی ورگرنہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔