- الإعلانات -

بھارتی عزائم کے خلاف سیاسی وعسکری قیادت کاپختہ عزم

بھارت مختلف حیلے بہانے بناکرپاکستان کے خلاف سازشیں کرتارہتاہے ۔ دراصل مقبوضہ کشمیر میں اس کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے ۔ ;200;ج وادی میں سخت ترین کرفیو کو پورے گیارہ ماہ ہوگئے ہیں مگر کشمیریوں کے بھارتی فورسز کی بربریت اور سفاکیت کے باوجود جذبہ حریت میں کمی نہیں ;200;ئی ۔ ان کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ تمام پابندیاں توڑ کر احتجاج اور مظاہرے کرتے ہیں ۔ بلاشبہ بھارت کا رویہ ہٹلر اور مسولینی کے فاشزم سے زیادہ خطرناک ہے مگر بھارت مقبوضہ وادی میں کشمیری حریت جدوجہد کے سامنے بے بس ہوچکاہے ۔ وہ اس ہزیمت پر بوکھلا کر پاکستان کیخلاف کوئی مہم جوئی کرسکتا ہے ۔ اس کیلئے پاک افواج، سیاسی قیادت اور قوم پوری طرح تیار ہے ۔ اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی کوئی حماقت کی تو اس کا جواب اسے ان شا اللہ 27 فروری 2019 سے بھی بڑھ کر دیاجائے گا ۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کی داخلی و بیرونی سلامتی صورتحال کا جائزہ لیا گیاجبکہ مقبوضہ کشمیر میں زیادتیوں اورپاکستان کو درپیش چیلنجز پر غورکیاگیا اجلاس کے شرکانے اس عزم کا اظہارکیاکہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتاہے تاہم ملکی خود مختاری کا ہر قیمت پردفاع کیا جائے گاپاکستان اپنے عوام اورجغرافیائی سالمیت کا تحفظ کرناجانتا ہے ۔ اجلاس میں عالمی برادری پر زوردیاگیاکہ وہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور زیادتیوں کا نوٹس لے ،اجلاس میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے میں شہید سیکورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی، چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے شرکت کی ۔ اجلاس میں قومی قیادت نے واضح پیغام دیاکہ پاکستان کی خود مختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا ۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پر امن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے لیکن ہم اپنے عوام اور اپنی جغرافیائی سالمیت کا تحفظ اور دفاع کرنا بھی جانتے ہیں اور اس کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔ اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ اس کا نوٹس لے ۔ اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہادری اور مربوط کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان سٹاک ایکس چینج پر حالیہ حملہ کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا ۔ گزشتہ دوماہ سے بھارت نے نہ صرف لائن آف کنٹرول پر سول آبادی کوبھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایابلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پروادی کے کئی ا ضلاع بالخصوص ضلع بارہ مولا میں مظالم کی انتہاکرتے ہوئے درجنوں کشمیری نوجوانوں کوشہیدکیا،ظلم کی انتہا دودن قبل اس وقت ہوئی جب ایک معصوم ننھے بچے کے سامنے اس کے نانا کوگولیوں سے چھلنی کردیاگیا جس پر عالمی انسانی حقوق کی تنظی میں بھی چلا اٹھیں ۔ ;200;ج بھارت کی مودی سرکار ہندو انتہا پسندی پر مبنی اپنی جنونیت کے جس راستے پر چل رہی ہے جس میں پاکستان ہی نہیں پورے خطے اور پوری اقوام عالم کی سلامتی کو سخت خطرات لاحق ہوچکے ہیں اسکے تناظر میں پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے ۔ مودی سرکار کی جانب سے پاکستان سے ملحقہ ;200;زاد کشمیر اور اسکے شمالی علاقہ جات بشمول گلگت بلتستان پر شب خون مارنے کی بھی اعلانیہ تیاریاں جاری ہیں جو ہماری جانب سے اپنے گھوڑے ہمہ وقت تیار رکھنے کی ہی متقاضی ہیں ۔ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کا جو مسکت جواب چین کی فوج نے لداخ میں گزشتہ روز بھارتی سورماءوں کی درگت بنا کر دیا ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق لداخ سے بھارتی قبضہ چھڑوالیا ہے جس پر بھارتی قیادت کو چپ سی لگ گئی ہے ۔ اس سے کشمیر پر ہمارے اصولی موقف کو بھی یقینا تقویت حاصل ہوئی ہے ۔ بھارتی گیدڑ بھبکیوں اور ملکی سلامتی کیخلاف اسکی ہر سازش اور جارحیت کا فوجی طاقت سے جواب دیا جائیگا ۔ بلاشبہ ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی ہی ہمارا دفاعی حصار ہے ۔ ہمارا دفاع یقینا ہمارے ایٹمی قوت ہونے کے ناطے سے ہی ناقابل تسخیر ہوا اور مکار دشمن کو ہر محاذ پر شکست دینے کیلئے تمام سیاسی وعسکری قیادت پُرعزم ہے ۔

پاک چین کاعالمی فورمزپرباہمی تعاون بڑھانے پراتفاق

بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے تمام پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں ،نیپال اورچین کے ساتھ توباقاعدہ جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں چین کے ہاتھوں بھارتی فوج ہزیمت کاسامنابھی کرچکی ہے ۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان کی خطے میں امن کے لئے کوششیں حوصلہ افزاء ہیں مگردوسری طرف بھارت تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ جنگی عزائم رکھتاہے ۔ بھارت چین فوجی کشیدگی کے بعدپاکستان نے پہلی بار چین سے کہا ہے کہ انڈیا کی توسیع پسندانہ پالیسیوں سے خطے میں امن کو خطرہ ہے اورعلاقائی سکیورٹی صورتحال بھی خراب ہوتی جارہی ہے ۔ پاکستان نے عالمی برادری کو بھی واضح پیغام دیاکہ وہ ایک چین کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے اور ہانگ کانگ تائیوان تبت اور سنکیانگ کے معاملے پر بیجنگ کے موقف کی حمایت کرتاہے ۔ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی اور ان کے چینی ہم منصب وانگ ژی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہواہے جس میں دوطرفہ علاقائی اور بین الاقوامی ایشوز پر تبادلہ خیال اورعالمی فورمز پر باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیاگیا ۔ چینی وزیرخارجہ نے شاہ محمود کوعلاقائی صورتحال پر بریفنگ دی اور خطے میں امن واستحکام کے فروغ کیلئے پاکستانی کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا ۔ شاہ محمود نے زوردیاکہ خطے میں تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہئے ۔ شاہ محمود نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے علاوہ مقبوضہ میں آبادی کا تناسب بھی بدلنے کی کوشش کررہاہے ۔ پاک چین دوستی جو ہرمشکل وقت میں قائم ودائم رہی ۔ اب بھی اس سنگین صورتحال میں بھی دونوں ملکوں کا چلنا خطے میں امن برقراررکھنے کےلئے خوش آئندہے ۔

ایک اورٹرین حادثہ20 لوگوں کی زندگیوں کو نگل گیا

ٹرین حادثات اسی طرح ہو رہے ہیں جس طرح دہائیوں پہلے ہوا کرتے تھے ۔ کہیں پھاٹک نہیں ہے کہیں سب سہولتیں ہیں ۔ کہیں ٹریک پر بس ویگن کار پھنس جاتی ہے اور ٹرین اسکے پرخچے اڑا دیتی ہے ۔ دنیا کے ہر شعبے میں جدت نظر ;200;تی ہے مگر ریلوے کا سسٹم دقیانوسی ہے ۔ اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے ۔ گزشتہ روز کا حادثہ بھی افسوسناک ہے ۔ سکھ خاندان کے 20افراد ہلاک ہوگئے ۔ ڈرائیورنے کچے راستے سے ریلوے لائن عبورکرنے کی کوشش کی،حادثے کاشکار خاندان پشاور سے عزیزکی تعزیت کیلئے آیاتھا ۔ حادثہ شیخوپورہ میں فاروق آباد اور بحالی ریلوے اسٹیشن کے درمیان بغیرپھاٹک جاتری روڑ پر واقع سچا سودا پھاٹک کی کراسنگ پر پیش آیا ۔ بعد دیگرے ٹرینوں کے حادثات حکومت اور وزیر ریلوے کےلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے ۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران ریلوے حادثات میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ گزشتہ ادوار میں بھی ان کھلے پھاٹکوں کی وجہ سے کئی خونی حادثات رونما ہوئے ۔ اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے عوام کی طرف سے بارہا محکمہ ریلوے سے اپیل کی گئی کہ وہ ریلوے پھاٹکوں کا نظام بہتر بنانے کے ساتھ کھلے پھاٹکوں پر گیٹ لگانے کے بھی انتظامات کرے ۔ مگر ابھی تک اس طرف توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ ملک بھر میں بیسیوں کھلے ریلوے پھاٹک خونی حادثات کا موجب بنتے ہیں ۔ ;200;زادی کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ ریلوے کے نظام میں بہتری لائی جاتی مگر افسوس اس کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی اور نہ ہی جدید تقاضوں کو پیشِ نظر رکھا گیا جن کی وجہ سے ہماری ریلوے بہت سے حادثات سے دو چار ہوئی جو سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد کی ہلاکت کا باعث بنی ۔ اگر ان حادثات کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ زیادہ تر حادثات ریلوے کے ناقص نظام کا نتیجہ تھے ۔ جدید دور میں جدید تقاضوں کے پیشِ نظر جدید ایجادات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔