- الإعلانات -

حکومت اوراپوزیشن ملکی مفاد میں قانون سازی کریں

حکومت نے قومی اسمبلی سے جو دوبل منظورکرائے ہیں اب وہ سینیٹ سے بھی کثرت رائے سے منظور ہوگئے ہیں اس حوالے سے حکومت نے جن تحفظات کا اظہارکیاہے وہ انتہائی قابل غورہیں شاہ محمودقریشی نے کہاکہ ہم ملکی مفاد کےلئے اوراپوزیشن ذاتی مفاد کے ایجنڈے پرکام کررہی ہے اسی وجہ سے اس نے ان بلوں کی مخالفت کی ۔ بہرحال ایک بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ اپوزیشن چاہے جتناشورشرابہ کرے احتجاج کرے، بل کی کاپیاں پھاڑے،سپیکر کے ڈائس کاگھیراءو کرے حکومت آخرکار بل منظورکراہی لیتی ہے ۔ لہٰذا حالات کاتقاضاہے کہ اپوزیشن بھی حکومت کے ساتھ مل کرچلے آنے والے دنوں میں اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے بھی یہی محسوس ہورہاہے کہ حکومت ہی کی فتح ہوگی ۔ قومی اسمبلی میں شدید شورشرابے اورہنگامے کے دوران کثرت رائے سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل(ترمیمی)بل 2020 اور انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020کی کثرت رائے سے منظوری دے دی گئی اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیراءو کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑدیں وزیرخارجہ کو مائیک دینے پرشورشرابہ جبکہ شاہ محمود قریشی اور جے یوآئی کے اسعدمحمود کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ اس موقع پر شاہ محمودنے کہا کہ ایسے نہیں چلے گا اگر میں نہ بول سکا تو کوئی نہیں بول سکے گاجس پر مولانا اسعد محمود نے کہاکہ ہماری خیر ہے آپ کونہیں بولنے دیا جائیگا ۔ ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے کہاکہ حکومت جس راستے پر چل رہی ہے اس میں نظرآرہاہے کہ بہت جلد ان کی بولتی بند ہونے والی ہے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعیدنے کہا کہ احتساب ضرور ہوگا ۔ اپوزیشن کو این آر او نہیں ملے گا ن لیگ کے پارلیمانی لیڈرخواجہ آصف کا کہناتھاکہ ہم احتساب کیلئے تیارہیں ان کی بھی قبروں کا حساب لیا جائے ۔ وزیر خارجہ نے گزشتہ روز احتساب آرڈیننس ہمارے ہاتھ میں تھما کر کہا کہ ان کو اس کے علاوہ کوئی لینا دینا نہیں ہے اور عوام کو یہ پیغام پہنچایا کہ ایف اے ٹی ایف قومی مفاد کا معاملہ ہے لیکن اپوزیشن کی دلچسپی نیب آرڈیننس میں تھی ۔ آج آپ چیخ چیخ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور سارا الزام ہم پر ڈال دیتے ہیں ۔ ملک کو اس وقت بہت سے اندرونی و بیرونی خطرات اور مشکل چیلنجوں کا سامنا ہے جن کا پوری قوم کو متحد ہوکر مقابلہ کرنا چاہئے، ایسے حالات میں حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کوئی نیک فال نہیں ہے، ایک طرف اپوزیشن جماعتیں قومی مفاد کا حوالہ دے کر ان مسائل و مشکلات کو حکومت کے خلاف استعمال کرنے، اس کی صفوں میں دراڑیں ڈالنے، اسے چلتا کرنے اور نئے انتخابات کی راہ ہموار کرنے کےلئے زور لگا رہی ہیں تو دوسری طرف حکومت اپنے اقتدار کو دوام دینے کیلئے اپوزیشن کو دبانے میں مصروف ہے، سیاست کے اس کھیل میں حکومت کی اتحادی جماعتیں اور ناراض ارکان بھی اپنے اپنے مطالبات منوانے اور مراعات سمیٹنے کی فکر میں ہیں ۔ حکومت اور اپوزیشن میں محاذ آرائی کا یہ مناسب موقع نہیں ہے، دونوں ریاست کے دو پہیے ہیں جو مل جل کر ہی معاملات کو صحیح سمت میں آگے لے جا سکتے ہیں ۔ سیاست ضرور کریں مگر ملک کے اہم ترین مسائل پر افہام و تفہیم کی راہ بھی نکالیں اور انہیں مل جل کر حل کریں ۔ اپوزیشن کو جائز معاملات میں حکومت کا موقف سمجھنا چاہئے اور اس کا ساتھ دینا چاہئے اور حکومت کو بھی ملکی سلامتی معاشی استحکام کےلئے اپوزیشن کے ساتھ اپنے رویے میں نرمی پیدا کر کے اس کی معاونت حاصل کرنا چاہئے ۔ تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے جب حکومتوں نے بدترین مخالفین کو جیلوں سے بھی رہا کیا اور قومی کاز کےلئے ان کی حمایت حاصل کی، حکومت اور اپوزیشن‘ دونوں کے ارکان عوام کے ووٹوں سے اسمبلیوں میں آئے، انہیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہئے ۔ جہاں تک کرپشن کی روک تھام کامعاملہ ہے تو فی الحقیقت کرپشن کی روک تھام کو یقینی بنانے کےلئے مالی معاملات پر پارلیمنٹ کی نگرانی ہی سب سے موثر طریقہ ہے جو دنیا کے تمام جمہوری ملکوں میں راءج ہے ۔ لہٰذا کسی لیت و لعل کے بغیر اس پر عملدرآمد کیا جانا چاہیے ۔

استعفوں کے ساتھ احتسا ب بھی لازمی

حکومت کے دومشیروں کے استعفیٰ دینے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ جو کارکردگی نہیں دکھائے گا وہ گھرروانہ ہوجائے گا ۔ ماضی کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وزراء یامشیرجومرضی کرتے رہیں انہیں کوئی پوچھنے والانہیں تھالیکن پاکستا ن تحریک انصاف کی حکومت نے یہ ایک نئی تاریخ رقم کی ہے کہ جو کام نہیں کرے گا وہ گھرجائے گایہاں ایک چیزکا ایک اضافہ انتہائی ضروری ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف اپنے مشیریاوزیرکوصرف گھرنہ بھیجے بلکہ اس پراگرکسی کرپشن ،اقرباء پروری کے الزامات عائدہوئے ہیں تو اس بارے میں بھی تحقیقات کرکے قرارواقعی سزادی جائے ۔ وفاقی کابینہ کے دو اہم ممبران نے عمران خان کی کابینہ چھو ڑ دی ہے ۔ دونوں ممبران غیر منتخب ہیں ۔ وزیر اعظم کے معاونین خصوصی بر ائے نیشنل ہیلتھ سروسز ، ریگو لیشنز اینڈ کو آ ر ڈی نیشن ڈاکٹر ظفر مرزا اور معاون خصوصی بر ائے ڈ یجیٹل پا کستان مس تانیہ ایس ایدروس نے اپنے اپنے عہدہ سے استعفیٰ د یدیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے دو نوں کے استعفے منظور کر لئے ہیں ۔ کابینہ ڈویژن نے انکے مستعفی ہونے کا با ضابطہ نو ٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے ۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ انہوں نے کارکردگی پر تنقید کی وجہ سے استعفیٰ دیا، عمران خان کی ذاتی دعوت پر ;877279; چھوڑ کر پاکستان آیا تھا ۔ اطمینان ہے ایسے وقت پر جا رہاہوں جب کورونا وائرس کے پھیلاءو میں کمی آ رہی ہے، جبکہ تانیہ ایدروس کا کہنا ہے کہ میری دہری شہریت پر سوال اٹھائے گئے، میری دہری شہریت کی وجہ سے ڈیجٹل پا کستان کا مقصد دھند لا رہا تھا، اپنی بہترین صلاحیتوں اور وزیر اعظم کے وژن کے مطابق اپنے ملک کی خدمت جاری رکھوں گی ۔

نظام کی خرابیاں درست کرنا انتہائی ضروری

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرزکے چیف ایڈیٹراورروز ٹی وی کے چیئرمین سردار خان نیازی نے اپنے مقبول ترین پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی پارٹی کی طرفداری نہیں کرتے ہم تو ہمیشہ سچی بات کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، اس سے پہلے پی پی سودے بازی کر کے اور این آر او لے کے دوبارہ حکومت میں آ جائے اس سے بہتر ہے کہ صدارتی نظام نافذ کر دیا جائے،اگر سسٹم یہی رہا تو یہ پیپلز پارٹی والے دوبارہ آ جائیں گے ۔ بڑے بڑے مگر مچھوں کو بارگینگ کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن 40سال پرانے کیس میں کچھ لوگوں کو پکڑ لیا جاتا ہے ۔ میر شکیل ہمارے پرانے دوست ہیں ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے ۔ اٹھارویں ترمیم کے کچھ کلاز کے بارے میں میں نے پٹیشن دائر کی تھی جس پر ججز نے جو یمارکس دیئے وہ ویب ساءٹ پر موجود ہیں ۔ عمران خان ایماندار آدمی ہیں یہاں پر انویسٹر آنا چاہتا ہے لیکن عمران خان کی ٹیم صاف ستھری نہیں ہے ۔ یہاں پیسہ چلتا ہے تو فائل چلتی ہے، سی ڈی اے کے آپشن میں انویسٹر آئے ہیں اور 20ارب روپے سے زائد کی انویسٹمنٹ یہاں کی ہے ۔ یہاں پر خوف کا عالم نہیں ہونا چاہیے ۔ میڈیا کو دبانے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے ۔ اخبارات اور ٹی وی چینل کے بقایا جات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت کو پچھلے ادوار حکومت کی بھی ادائیگیاں کرنی چاہئیں ۔ ظفر مرزا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کے فارما سٹیکل کمپنیوں کے ساتھ تعلقات بھی تھے ، ان کے دور میں ادویات بھی مہنگی ہوئیں ۔ جبکہ ایک اور معاون خصوصی ثانیہ ایدروس کے استعفے سے مجھے بالکل خوشی نہیں ہوئی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی آفتاب جہانگیر نے کہا کہ جس طرح کراچی پانی میں ڈوبا ہوا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے لوگوں کا اربوں روپے کا نقصان ہوا لوگوں کی عید کی خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں ۔ کراچی کاپیسہ کراچی پرخرچ ہوناچاہیے ۔