- الإعلانات -

دہشت گردوں کی پشت پناہی کون کر رہا ہے

بھارت کوآج کل چین، نیپال اور بھوٹا ن کے مقابلے میں شکست کا سامنا ہے ۔ بھارتی حکومت اس ہزیمت کا بدلہ لینے کےلئے پاکستان میں پراکسی وار کو دوبارہ شروع کر رہی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ لداخ کے محاذ پر چینی قبضے اور بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار پاکستان ہے ۔ ہندوستان کو پاکستان میں امن اور ترقی برداشت نہیں ہو رہی ۔ لہذا اس کا سارا غصہ پاکستان کے خلاف نکل رہا ہے ۔ کبھی ایل او سی پر نہتے شہریوں پر فائرنگ کر کے اور کبھی پاکستان میں دہشت گردی کر کے ۔ گزشتہ روز 4 دہشتگردوں نے پاکستان سٹاک ایکس چینج پر دستی بموں سے حملہ کر دیا جبکہ آٹو میٹک ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی جس کی زد میں آ کر ایک پولیس اہلکار اور 2 سکیورٹی گارڈ جاں بحق جبکہ 3 پولیس اہلکار، 2 سکیورٹی گارڈ اور 2 شہری زخمی ہو گئے اور رینجرز نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کو ٹھکانے لگادیا اور بڑے نقصان سے بچالیا ۔ شدت پسندوں کے حملے میں چاروں حملہ آوروں سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہو ئے ۔ بلوچ لبریشن آرمی کے جس مجید بریگیڈ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اسے مجید بلوچ نامی شدت پسند کے نام پر تشکیل دیا گیا جس نے 1970 کی دہائی میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر دستی بم سے حملے کی کوشش کی تھی ۔ یہ وہی بریگیڈ ہے جس نے گذشتہ برس گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی ۔ بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے گذشتہ ماہ کے دوران بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں پر تین حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی گئی تھی ۔ اس کالعدم شدت پسند تنظیم کی پشت پناہی بھارتی خفیہ ایجنسی را کر رہی ہے ۔ یہ سمجھ لیں کہ بی ایل اے را ہی کی ایک شاخ ہے جو اپنے بڑوں کے کہنے پر دہشت گردی پھیلا رہی ہے ۔ ہندوستان کو پاکستان میں امن اور ترقی برداشت نہیں ہو رہی، سکیورٹی فورسز کی محنت اور عوام کے تعاون سے کراچی میں امن و امان بہتر ہوا ۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ہونیوالے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن نے ایک دفعہ پھر ہماری داخلی سلامتی پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی لیکن پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں ، کی بروقت کارروائی نے دہشت گردوں کے مضموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ۔ محکمہ انسدادِ دہشت گردی سندھ (سی ٹی ڈی) کے انچارج کا کہنا ہے کہ حملے کی مماثلت کسی حد تک 2018 میں چینی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے سے ہے ۔ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی متعلقہ اداروں کی جانب سے کلیئر تھی اور حملہ آوروں میں سے ایک سلمان نامی شخص کے نام پر رجسٹر تھی ۔ سلمان نامی حملہ آور کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ سے ہے ۔ چینی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی چوری شدہ نہیں بلکہ کلیئر تھی ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ;39;دہشت گردوں کے پاس کافی فنڈز;39; موجود ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ مارکیٹ سے گاڑیاں خرید کر استعمال کرتے ہیں ۔ اور یہ فنڈز کہاں سے آتے ہیں اس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ بھارت ان کی پشت پناہی کرتا ہے ۔ ثبوت کے طورپر کلبھوشن کا بیان ہی کافی ہے کہ وہ بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کرانے کا ذمہ دار ہے ۔ ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری نے پاکستان سٹاک ایکسچینج پر حملے پر کہا کہ یہ دہشت گرد حملہ کسی دشمن غیر ملکی ایجنسی کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا جس میں ان کے مطابق انڈیا کی خفیہ ایجنسی ’را‘ سرِفہرست ہے ۔ دشمن غیر ملکی ایجنسیوں بالخصوص را کی اس حوالے سے بے چینی کا ہ میں ادراک ہے ۔ پچھلے کئی سالوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ آپریشن کی وجہ سے دہشت گردوں کی کارروائیوں کا دائرہ سکڑ گیا ہے ۔ ہ میں اس حوالے سے پوری طرح ادراک ہے کہ بچی کھچی سلیپر سیلز، مددگاروں اور سہولت کاروں کو جمع کیا جائے جن میں ایم کیو ایم لندن، بی ایل اے اور بلوچستان میں دیگر گمراہ لوگوں کو جمع کر کے صوبے کا امن خراب کیا جائے گا ۔ کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے سے اب تک کے دوران دہشتگردوں نے کئی مرتبہ حملوں کی کوششیں کیں اور ان میں سے لوگ پکڑے بھی گئے ۔ خفیہ اداروں کی جانب سے اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ سٹاک ایکسچینج پر حملہ کیا جا سکتا ہے، اس لیے سیکیورٹی ادارے پہلے سے آج کے حملے کے لیے تیار تھے ۔ حملہ آور عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے اور سٹاک ایکسچینج کے احاطے میں ہی داخل ہو پائے ۔ ٹریڈنگ فلور پر کاروباری سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں ۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج پاکستانی معیشت کی علامت ہے اور یہاں حملہ کرنے کا مقصد سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کرنا اور پاکستان کا تاثر دنیا بھر میں غیر محفوظ ملک کے طور پر پیش کرنا شامل تھا ۔ کراچی سٹاک ایکسچینج کا دفتر کراچی کے ;39;وال سٹریٹ;39; آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے اور اس کے ساتھ سٹیٹ بینک پاکستان، پولیس ہیڈ کوارٹر اور کئی دیگر بینکس اور میڈیا ہاوَسز کے دفاتر ہیں ۔ سندھ رینجرز کا مرکزی دفتر بھی ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ اس عمارت میں روزانہ کئی سو افراد کاروبار اور روزگار کے سلسلے میں آتے ہیں ۔ اسی محل وقوع کو مدنظر رکھتے ہوئے دہشت گردوں نے اس عمار ت کو چنا ۔ ایسا حملہ ناکام بنانا آسان نہیں اور اس میں کامیابی کے بعد سیکیورٹی اداروں پر اعتماد بڑھ گیا ہے ۔ جب تک اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیں گے حملے ہوتے رہیں گے ۔ جب تک دفاعی انداز میں رہیں گے تو دفاع ہی کرتے رہیں گے ۔ اس واقعہ کے بعد بھارت کو پیغام مل گیا کہ ہم آپ کیلئے تیار ہیں ۔ شرپسند دوبارہ سراٹھانے کی کوشش کررہے ہیں اور پوری قوم دہشت گردوں کو شکست دینے کیلئے تیار ہے ۔ سٹاک ایکس چینج کی عمارت پر چار دہشت گردوں کا حملہ درحقیقت پاکستان کی سالمیت پر کھلا حملہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے کراچی کسی بھی بڑے نقصان سے محفوظ رہا ہے ۔ بھارت ہر قدم خطے میں پاکستان کی مصالحانہ کوششوں کے برعکس اٹھاتا ہے ۔ عوام نے دہشت گردوں کو پہلے بھی شکست دی ،ان شاء اللہ آئندہ بھی قوم فوج کے شانہ بشانہ دہشت گردی کا خاتمہ کرے گی ۔ حکام کو چاہیے کہ کراچی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے اس واقعے کی تحقیقات کرتے وقت بھارت کی شاطرانہ چالوں کو بھی نگاہ میں رکھیں ۔