- الإعلانات -

سید آل عمران خورے کدھر گیا

سید اعلیٰ عمران پو ٹھوہار کی شان ، نوجوان شاعر ،اینکر ، ادیب ، نعت گو 25جون بروز جمعرات کو دار فانی سے دار بقاء منتقل ہوئے ۔ آپکی اس جدائی کو اہل پوٹھوہار کے ہر طبقے نے محسوس کیا ۔ اب ہم سب کے پاس دعائیں اور آنسوءوں کا خراج ہی رہ گیا ہے ۔ میں محمد بخش نے درست فرمایا ہے ۔ لے او یار حوالے رب دے ، اے میلے چار دناں دے ، اس دن عید مبارک ہو سی ، جد دن فیر ملاں گے ۔ سید آل عمران کی ایک تحریر آپ کی خدمت میں پیش کر رہاں ہوں ۔ ، لکھتے ہیں نور پیر کے ویلے یہ خواہش رہتی ہے کہ اپنے یا سریع الرضا رب کریم سے پیارپریت ۔ درود تاج کا سلسلہ ۔ ۔ آئمہ طاہرین کی دعاءوں اور زیارات سے آغاز ہو ۔ ۔ ۔ پھر جی چائیے تو خواب نگر میں میٹھی نیند کے مزے کروں ۔ ۔ ۔ آج حسب عادت جاگا، مناجات سلسلہ قائم ہوا ۔ ۔ ۔ باتیں محبتیں اپنے رب کریم سے ہوئیں ۔ ۔ ۔ مناجات سلسلے کے بعد سونے لگوں تو نیند نہ آئے ۔ ۔ شریک سفر سے کہا آج ابھی ہی ناشتہ بنا دوں آنکھ نہیں لگ رہی ۔ ناشتہ کیا شکر کے ساتھ ۔ اخبار کا مطالعہ ۔ اچانک نوائے وقت کے کالم ٹی ٹاک پر نظر پڑی ۔ پیارے طلعت عباس خان کا کالم تندرستی ہزار نعمت ہے پڑھنے لگا ۔ طلعت عباس خان میری سرزمین گوجر خان ،گاءوں بھائی خان مین جی ٹی روڈ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کے داد جوت علی خان پاکستان بننے سے پہلے بمبئی میں پولیس انسپکٹر تھے ۔ طلعت عباس خان یہ تین بھائی ہیں ، سب سے بڑے بھائی افتخار عباس خان آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی رہے ، خالد عباس خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے پہلے ڈپٹی اٹارنی جنرل رہے اور میرے دوست بھائی طلعت عباس خان ایڈووکیٹ ا سپریم کورٹ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں ،آپ فری لائنس کالم لسٹ ہیں ۔ ٹاک شوز میں بھی اکثر جاتے ہیں ،شعر بھی کہتے ہیں ۔ طلعت عباس خان کمال کے محبت کرنے والے انسان بھی ہیں ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پریکٹس کرتے ہیں ۔ جی دار محفلی اور اوکھے ویلے میں کام آنے والے انسان ہیں ۔ ۔ ۔ ایک بار میرے ایک بہت عزیز دوست جو بادشاہ ہیں کسی وجہ سے تنگ دستی کا شکار ہو گئے ۔ ۔ ۔ وہ عزیز دوست مجھے اکثر فاءف سٹار ہوٹل میں لے جاتے تھے، خدمت کرتے ،عمدہ سے عمدہ کھانا کھلاتے ۔ مزے کراتے ۔ ساراسارا دن اچھی سے اچھی جگہوں کی سیر کرواتے عزت کرتے اور دعائیں لیتے اور کہتے شاہ جی ہم آپ کے غلام ہیں ۔ زندگی کے دن گزرتے گئے اچانک وہ تنگ دستی کے گھیرے میں آ گئے ۔ ۔ ۔ ایک دن میرے پاس آئے تو کہنے لگے شاہ جی سپریم کورٹ کا اچھا سا وکیل ڈھونڈیں ایک ضروری کام ہے لیکن میرے پاس اس وقت میرے پاس وکیل کی فیس دینے کے پیسے نہیں ہیں ۔ سنا ہے وکیل فیس کے بغیر کام نہیں کرتے ۔ ۔ یہ سن کر میں اندر سے پریشان ہو گیا ۔ ۔ ۔ مالک کیا کروں ۔ یہ شخص تو میرا غمگسار ہے ۔ عزت کرنے والا ہے ۔ اس کی کیسے مدد کروں ۔ دعائیں کرتے ہوئے سوچنے لگا ۔ فوری میرے ذہن میں طلعت عباس خان کا نام آ گیا ۔ خان صاحب سے رابطہ کیا اور ان کے بتانے ہوئے دفتر آئی ایٹ مرکز پہنچے ۔ ۔ فیس کے حوالے سے بات کی ۔ ۔ طلعت عباس خان عقیدت میں بولے آپ کا آنا ہی فیس ہے میں نے فیس کا مطالبہ کیا آپ سے کیاہے ۔ بغیر فیس اور خرچے کے آپ نے کیس سپر یم کورٹ میں دائر کیا ۔ کیس دائر دائر کرنے کے بعد ہ میں پتہ چلا کہ وہاں اے اور آر بھی سپریم کورٹ کا وکیل کرنا پڑتا ہے ۔ یہ خان صاحب نے خود بندوبست کیا ،کوئی خرچے کے پیسے نہیں لئے ۔ ہمارے پاس تھے بھی نہیں لیکن کیا مجال کہ خانصاحب کے لہجے میں پیار میں کوئی تبدیلی دیکھی ہو ۔ سپریم کورٹ میں خاطر توازیخ بھی کرتے رہے ۔ کیس لگا اور ہم یہ کیس جیت بھی گئے ۔ اس کے کچھ عرصے بعد میرے اس دوست کے حالات کچھ ٹھیک ہو گئے ۔ وہ میرے پاس آیا آءوآپ کے وکیل دوست کے گھر چلتے ہیں ۔ متھائی دیتے ہیں اور ،فیس دیتے ہیں ۔ یہ سن کر میں بہت خوش ہوا ۔ خانصاب سے کہا ہم آپ سے چائے پینے کےلئے دوست کے ساتھ آنا چاءتا ہوں ۔ کہا پوچھنے کی کیا بات ہے ۔ ہمارے دروازے شاہ جی آپ کےلئے کھلے ہیں ۔ گھر پہنچے تو اسی گرم جوشی سے ملے ۔ چائے پلائی ۔ ہم نے آج آنے کی وجہ بتائی کہ آج پرانے کیس کا حساب چکانے آئیں ہیں ۔ یہ مٹھائی اور یہ فیس لائیں ہیں ۔ خانصاحب نے کہا مٹھائی تو رکھ لیتا ہوں یہ فیس نہیں لیتا ۔ شاہ جی آپ کے اس دھرتی پہ بہت احسنات ہیں ۔ اس خطے کی مرتی ہوئی پوٹھوہاری زبان ادب اور ثقافت کو آپ نے زندہ کیا ہے ۔ کیا یہ کم ہے ۔ میں یہ فیس نہیں لے سکتا ۔ میرے آپ کی دل سے نکلنے والی دعائیں ہی کافی ہیں ۔ بحرحال رخصت ہوتے ہوئے زبردستی فیس کا لفافہ چھوڑ آئے تھے ۔ میں ایسا کرنے پر دونوں دوستوں اور عزیزوں کی طرف سے سرخرو ہوا ۔ ۔ ایک دوست نے عزت رکھی اور میرا بھرم رکھا ۔ یہ توفیق تو میرے رب کریم کی طرف سے ہے ۔ اسی کا سب کرم ہے شکر الحمدا;203; ۔ ۔ ۔ آج طلعت عباس خان کا کالم دیکھا تو ساری باتیں آنکھوں کے سامنے دوڑنے لگیں ۔ ۔ ۔ طلعت عباس خان کینسر جیسی موذی بیماری میں مبتلا رہے اور پھر اپنے ہمدردوں اور عزیزوں کی دعاءوں سے شفا یاب بھی ہوئے ۔ ۔ ۔ اپنے اس آج کے کالم میں طلعت عباس خان نے اپنے محسنوں کی محبتوں کا ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ ہم روز دوسروں کو درست کرنے کی باتیں کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ معاشرے کو اندھیرا بنانے کی کوشش میں مگن رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ہر چیز میں نقص ڈھونتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ بقول کاشف ممتاز ہم نے حسین زندگی کا چہرہ خود بگاڑ دیا ہے ۔ ۔ اور قصور بھی دوسروں کو ٹھہراتے ہیں ۔ ۔ ۔ طلعت عباس خان نے اپنے محسنوں کا ذکر کیا ہے مشکل میں کام آنے والوں کو یاد رکھا کریں ۔ ۔ ایسے عالم میں بھیگی آنکھوں اور درد بھرے لہجے میں خان صاحب کو کال ملائی ۔ شفا یابی کی مبارک دی ۔ ۔ محسنوں کو شاباش دی ۔ ۔ ۔ جس سے جی خوش ہو گیا ۔ ۔ اپنے سارے محسن سامنے گھومنے پھرنے لگے ۔ ۔ ۔ طلعت جی خدا آپ کو سلامت رکھے ۔ ۔ ۔ وہ لوگ ہمیشہ خوش رہتے ہیں جو دوسروں کے بھرم رکھتے ہیں ،دوسروں پردست شفقت رکھتے ہیں ،اور دوسروں کا احساس کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ انسانوں کے دکھ درد میں شامل ہوا کریں ۔ نفر توں کے نہیں پیار کے بیج بویا کریں ۔ آپ بھی ٹی ٹاک پڑھا کریں اور انجوائے کریں ۔ یہ خوبصورت تحریر سید آل عمران کی ایک یاد گار تحریر ہے ۔ جو ہ میں یاد دلاتی رہے گی کہ سید ال عمران ہمارے درمیان موجود ہیں ۔ ا;203; جنت میں انہیں اعلی مقام عطا کرے ۔ عزیز و اقارب کو صبروجمیل عطا کرے ۔ آمین ۔ سید آال عمران دنیا سے ٹرانسفر ہوا ہے ۔ مرا نہیں ۔ زندہ ہے اور زندہ رہے گا ۔ ہمت والا ، غمگسار پیارا انسان ، سید آل عمران خورے کدھر گیا ۔ اس موقع پر ال عمران کی شریک سفر کا ضرور ذکر کرونگا ۔ آپ نے اپنی کڈنی دے کر اپنی ساتھی کو زندہ رکھنے کی ایک بھرپور کوشش کی ۔ مثال قائم کی ۔ ا;203; آپ کو اس کا اجر دے ۔ آپکے بیٹے سے ملا ہوں وہ اپنے ابو کی کاپی ہے ۔ انشا ا;203; وہ اپنے باپ کا نام روشن کرے گا ۔ سید اختر امام رضوی مرحوم کے بعد سید ال عمران نے میڈیا میں پوٹھوہار کا نام اپنی شاعری ڈرامے ، بطور اسٹیج ا انیکر ،لکھاری کے روشن کئے رکھا ۔ پوٹھوار ی زبان اور اس کی ثقافت کو عروج بخشا ۔ ہمارے اس دھرتی کے محسن کی بے شمار خدمات کے پیش نظر حکومت پنجاب اور حکومت پاکستان کو چائیے کہ اب اس کی فیملی کےلئے گرائنٹ کا علان کریں تانکہ فیملی باعزت زندگی گزار سکے ۔ آل عمران سچے سیدزادے تھے ۔ اپنی خوبصورت مسکراہٹ ، اپنے فن ،اپنی یادوں سے ہمیشہ ہمارے درمیان رہے گے ۔ جانا تو سب نے ہی ہے لیکن یہ ہمارا یار کچھ جلد ہی چلا گیا ۔ اگر سید ال عمران دوستی نہ نبھاتا اور اپنے یار سبحان شفیق ملک کو کرونا کی حالت مین دیکھنے نہ جاتا تو شاید یہ کچھ دن اور ہمارے درمیاں رہ جاتا ۔ اس کا یہ دوست سبحان شفیق ملک جو برطانیہ میں پیداہوا ۔ پھر وہاں کا سابق میئر میلنٹن برطانیہ کا بنا ۔ اب کچھ عرصے سے پاکستان میں شفٹ ہو چکا تھا ۔ راقم کی ملاقات طارق مرزا کی کتاب کی رونمائی کے روز ہوئی ۔ بری سادہ طبیعت کا مالک تھا ۔ اس تقریب میں خالد فاروق قاضی ، ڈاکٹر فرید پراچہ ، ، محمد اظہار الحق ، بیگ راج ، سبحان شفیق ملک نے شرکت کی تھی ۔ اب یہ ساتھی ملک شفیق بھی کرونا کی وجہ سے دنیا سے پہلے خود گیا ا اور کچھ دن ہی بعد اپنے دوست آل عمران کو بھی اپنے پاس بلا لیا ۔ خوشی ہے کہ دونوں دوستوں آل عمران اور ملک شفیق نے بھرپور لاءف گزارتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے ۔ یہ سچ ہے کہ جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی ۔ حضرت علی رضہ کا فرمان ہے ۔ جو بہت اچھا لگے اسے بہت کم ملا کرو، جو انتہا سے زیادہ اچھا لگے اسے صرف دیکھا کرو اور جو دل میں سما جائے اسے صرف یاد کیا کرو کیونکہ جو آپ کے جتنا قریب ہوتا ہے دنیا اسے اتنا ہی دور کر دیتی ہے ۔ یہ اب سب کے دلوں میں سما چکا ہے ۔ اب اسے یاد کیا کریں گے ۔