- الإعلانات -

سی پیک روشن مستقبل کی ضمانت

اس میں کوئی شک نہیں کہ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ پاک چین دوستی کی عمدہ ترین مثال اور دور حاضر کا منفرد منصوبہ ہے جو کہ چین اور پاکستان کو یورپ اور دوسرے ممالک سے ملائے گا، آج پوری دنیا کی نظریں اس منصوبے پر مرکوز ہیں ۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کے حوالے سے ایک بہترین منصوبہ ہے اور پاکستان کے روشن مستقل کی ضمانت ہے ۔ وزیر اعظم نے سی پیک کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک چین دوستی کے مظہر سی پیک منصوبے کو ہر حال میں پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے اور اس کے ثمرات ہر خاص وعام پاکستانی تک پہنچائے جائیں گے ۔ سی پیک انفرا اسٹرکچر اور دیگر منصوبوں کا ایک مجموعہ ہے جو 2013 سے پاکستان میں زیر تعمیر ہیں ۔ پہلے اس کا حجم 46 ارب ڈالر تھا لیکن 2017 کے مطابق سی پیک منصوبوں کی مالیت 62 ارب ڈالر ہوگئی تھی ۔ نومبر 2016 میں سی پیک اس وقت فعال ہوا تھا جب چینی کارگو زمینی راستے سے گوادر پہنچا تھا اور وہاں سے بحری راستے سے افریقہ اور مغربی ایشیا پہنچایا گیا تھا جبکہ کچھ بڑے توانائی منصوبوں کو 2017 کے آخر میں شامل کیا گیا تھا ۔ اس بڑے منصوبے میں پاکستان کو درکار انفرا اسٹرکچر کی تیزی سے بہتری اور جدید ٹرانسپورٹ نیٹ ورک، توانائی کے متعدد منصوبے اور خصوصی اقتصادی زونز شامل ہیں ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں بلکہ بہت سے ممالک کیلئے خوشحالی کا پیش خیمہ ہے ۔ عالمی ماہرین اقتصادیا ت کے اندازے کے مطابق اس منصوبے سے چین، جنوبی ایشیا ء اور وسط ایشیا ء کے تقریباً تین ارب افراد کو فائدہ پہنچے گا ۔ جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان اس منصوبے کی بدولت مخصوص تجارتی رہداریوں کی تعمیر سے بر اعظم ایشیا ء کی تقریباً نصف آباد ی اس منصوبے کے مثبت اثرات سے فیض یاب ہوگی ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو اکنامک کوریڈور کا معاہدہ پاکستان اور چین کے اقتصادی تعاون کی تاریخ کا سب سے زیادہ اہم معاہدہ ہے، اس منصوبے کے آغاز کے بعد سے اب پاکستان کی معاشی خوشحالی کی منزل زیادہ دور نہیں ۔ پاک چین اقتصادی راہداری ایک ایسا ترقیاتی پروگرام ہے جس کے تحت جنوبی پاکستان میں واقع گوادر کی بندرگاہ کو ہائی ویز، ریلوے اور پاءپ لائنوں کے ذریعے چین کے جنو ب مغربی علاقے شن جیانگ سے مربوط کیا جا رہاہے ۔ چین اور پاکستان کی اعلیٰ قیادتیں اس منصوبے کی تکمیل میں ذاتی دلچسپی لے رہی ہیں اس لئے اس منصوبہ پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے ۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی و معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں گوادر کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے پر عزم ہیں ۔ گوادر میں انٹرنیشنل ایئر پورٹ منصوبہ گوادر کی ترقی کا پیش خیمہ ہوگا ۔ گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹس کی تعمیر جاری ہے ۔ 230 ملین ڈالر لاگت کے ایئر پورٹ کا میگا منصوبہ گوادر کی ترقی کا پیش خیمہ ہوگا ۔ جہاں تک کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا سوال ہے تو تھر بلاک 6 تقریباً1;46;4 بلین ٹن کوئلے کے ذخائر کا حامل اور 66;46;1 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل بلاک ہے اور اس بلاک کے کوئلے کے تجزیے اور تحقیق کے بعد تصدیق کی گئی ہے کہ یہاں موجود کوئلے کو گیس، یوریا;223; کھاد اور ماءع (ڈیزل) میں تبدیل کرکے ان اشیاء کی درآمد پر خرچ کیا جانے والا خطیر ذرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے ۔ سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کیلئے ملک میں امن وامان کی صورتحال کو بہترکرنا ہوگا ۔ چین پاکستان کا دوست ہمسایہ ملک ہے اور سی پیک دونوں ممالک کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ سی پیک کے ذریعے ملک میں بہتر روزگار کے مواقع میسر ہونگے ۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ملکی برآمد ات میں واضح کمی آئی ہے اس کی بڑی وجہ ملک میں سیاسی استحکام اور امن وامان کی صورتحال ہے ۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ۔ بہتر منصوبہ بندی سے حالات بہتر ہوسکتے ہیں ۔ سی پیک کے ذریعے جی ڈی پی میں 3;46;5فی صد اضافہ ہوگا ۔ گوادر اکنامک زون اور راہداری سے ملحقہ معاشی زون سے ملک کی قسمت تبدیل ہوگی ۔ سی پیک کے ذریعے پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کو ترقی کا موقع ملے گا ۔ سی پیک پہلے مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ۔ وزیراعظم نے سی پیک کے پہلے مرحلے کے تمام منصوبے تیز تر اور جلد مکمل کی ہدایت کی ہے ۔ سی پیک کا دوسرا مرحلہ ریلوے کا مکمل ڈھانچہ تبدیل کر رہے ہیں ۔ 1870 کلومیٹر کا ریلوے ٹریک، ریلوے کراسنگ، سگنلز سب تبدیل ہو رہے ہیں ۔ پاکستان کو جلد منافع بخش ریلوے ملے گی ۔ ایم ایل ون منصوبہ حتمی منظوری کےلئے ایکنک کو بھجوا دیا گیا ہے ۔ پاک، چین تعلقات کسی ایک حکومت تک نہیں ، سدا بہار ہیں ۔ دونوں ممالک کی مثالی دوستی سے سب مستفید ہورہے ہیں ۔ سی پیک ہر پاکستانی کی محبت کی عکاسی کرتا ہے ۔ سی پیک، پاکستان، چین آہنی بھائی چارے، قیادت کے مابین محبت کا عکاس ہے ۔ پاکستان میں صنعتی ترقی،اقتصادی زونز کی بنیاد رکھی دی گئی ہے ۔ سی پیک کی کامیابی میں ہر ادارے اور فرد کا کردار اہم ہے ۔ توانائی کے شعبے میں ایک منصوبہ مکمل ہوچکا اور 9 تکمیل کے مراحل میں ہیں ۔ اربوں ڈالرز کے یہ منصوبے ملکی تقدیر بدل دیں گے ۔ یہاں تک کہ کورونا وباء بھی سی پیک منصوبوں کو متاثر نہیں کرسکا ۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے سے معیشت پر بہتر اور بھرپور مثبت اثرات ہوں گے ۔ سی پیک منصوبوں سے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار ملے گا ۔ ہر صوبے میں خصوصی اقتصادی زونز بنا رہے ہیں ۔ یہ تاریخی موقع ہے جب ہم ملک میں صنعتی انقلاب کی بنیاد رکھ رہے ہیں ۔ ہیوی مکینیکل کمپلیکس نے پاکستان کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ پاکستان کے انجنیئرنگ شعبے میں ایچ ایم سی نے اپنا بھرپور کردار نبھایا ہے ۔ بھرپور محنت اور لگن سے ایچ ایم سی کی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔ چین ہیوی مکینیکل کمپلیکس کی میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہا ہے ۔ وزیراعظم نے سی پیک اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ اس ادارے کی کارکردگی اور استطاعت کو مزید موثر بنانے کےلئے تما م ضروری اقدامات کئے جائیں ۔