- الإعلانات -

عظیم لوگ

آج دنیا میں کامیاب لوگ سمجھنے والے اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں میں انتہائی ناکام لوگ تھے لیکن کامیابی نے ان کے قدم اسی لیے چومے کہ انھوں نے ہمت نہیں ہاری ۔ ہر کامیاب کتاب، سمینار یا زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ ناکامی محض کامیابی کی طرف بڑھنے کی پیش رفت ہے ۔ اور یقینا حقیقی زندگی کے اُتار چڑھاؤ انہی بنیادی اصولوں پر عمل پیرانظر آتے ہیں ۔ تاہم بظاہر صرف اس ایک جملے کی معلومات ایسی سطحی بات ہے جو اس گہرائی کو سمجھنے میں مکمل طور پر مدد فراہم نہیں کرتی ۔ بالکل اسی طرح جیسے پانی کو ایک گلاس میں دیکھنا اور دریا میں دیکھنا دو مختلف باتیں ہیں ۔ جب معلومات کا اصل زندگی پر اطلاق ہوتا ہے تو تب وہ ایک طاقت بن جاتی ہے ۔ اس معاملے میں اس کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ یہ دیکھنے کے قابل ہونا کہ ناکامی دراصل کیا شے ہے، ناکامی ایک فیڈ بیک ہے ۔ ہم اس فیڈ بیک سے مختلف مفید نتاءج حاصل کر سکتے ہیں اور اس طرح ہم کامیابی کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں ۔ تاہم دیگر کئی باتوں کی طرح یہ بات بھی جتنی پیچیدہ ہے سننے میں اتنی آسان لگتی ہے ۔ ہر شخص کو روز مرّہ کی زندگی میں کسی نہ کسی ڈرامے کا سامنا ہوتا ہے اور اس جوار بھاٹے میں بنیادی قواعد و اسباق کو بھول جانا بڑا آسان ہوتا ہے اور جب کوئی آئیڈیا، کوئی اقدام یا کوئی بھی کام کارآمد نہ ہو، خصوصاً کاروبار میں ، تو ناکامی کا احساس ہوتا ہے ۔ کوئی بھی فن پارہ محنت کے بغیر شاہکار نہیں کہلا سکتا ہے محنت ایک ایسی بھٹی ہے جس میں ڈھل کر کوئی رفعت کی معراج کو چھو سکتا ہے اسی لیے شاعر نے کہا ہے کہ ۔ نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا اور وہ عوام بھی بڑی خوش نصیب ہے جن کو جواں ہمت،محنت شعار، ایماندار، قیادت نصیب ہو جس سرکاری وسائل کو ذاتی وسائل سمجھ کر استعمال نہ کریں اور وہ قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں وہ سرکاری خزانے کو اپنی ذاتی تعیش کے لئے استعمال نہ کریں اس سلسلے میں یہ ایک واقعہ سنتے چلیےواقعہ یوں ہے کہ ناروے کے شاہی محل سے حکومت کو درخواست آئی کہ شاہی محل کے صوفے ٹوٹ پھوٹ کر خستہ اور خراب حال ہو چکے ہیں ‘ اس لیے یہ صوفے تبدیل کرنے کےلئے نئے صوفے خریدے جائیں ۔ ناروے کی حکومت نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ اس سال کے سرکاری بجٹ میں نئے صوفے خریدنے کی گنجائش نہیں ہے‘ اس لیے اس ڈیمانڈ کو اگلے سال کے بجٹ میں دیکھ لیں گے ۔ شاہی محل نے دوسری درخواست بھجوا دی‘ درخواست میں لکھا تھا کہ چلیں ان صوفوں کی پالش ہی نئی کروا دیں ۔ ناروے کی حکومت سے جواب آیا کہ چونکہ اس مالی سال کےلئے شاہی محل کا بجٹ ختم ہو چکا ہے اس لیے برائے مہربانی آپ اگلے سال تک انتظار کر لیں ۔ اسلامی تاریخ تو ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے جہاں اپنی ذات کی پرواہ کیے بغیر ملی مفاد کو مقدم جانا گیا ہے عظیم اقوام کی سوچ بھی عظیم ہوتی ہے وہ ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹتے ہیں وہ ایک دوسرے کی مسیحائی کرتے ہیں وہ جاں بلب ہوتے ہوئے بھی دوسرے ساتھی کا خیال رکھتے ہیں ایسے عظیم لوگوں کی موجودگی میں بکرے کی سری سات گھروں کا چکر کاٹ کے واپس گھر آجاتی ہے شاید میرے ساتھ والا زیادہ ضرورت مند ہے واصف علی واصف نے عظیم لوگوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ عظیم لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو پیدا ہوتے ہی عظیم ہوتے ہیں ۔ ان کی پیدائش پر فطرت کی طرف سے نشانیاں نازل ہوتی ہیں ،چرند پرند کو باخبر کیا جاتا ہے کہ آ گیا وہ جسے بھیجا گیا عظمت کا تاج پہننے کیلئے ۔ چھوٹے دل والے لوگ اس میں حسد نہ کریں ،یہ اس سماج کی بہت عزت ہے جس میں منتخب اور مقدس نفوس کو بھیجا جائے ۔ چھوٹا آدمی جھگڑتا ہے،لڑتا ہے کہ اس نے عظیم ہونا تھا،وہ پروں کے بغیر پرواز کرنا چاہتا ہے ۔ وہ صلاحیتوں کے بغیر مرتبہ چاہتا ہے،وہ حق کے بغیر حصہ لینا چاہتا ہے،اس کے نصیب میں محرومی لکھی جا چکی ہے ۔ فطرت کے کام دیکھتے جاؤ،اس نے کوا بنایا اور مور بنایا ۔ یہ بظاہر فرق ہے لیکن دونوں ایک ہی جلوے کے حصے ہیں ۔ رات دن کا حصہ ہے، دن رات کا حصہ ہے ۔ زندگی موت کا حصہ ہے،موت زندگی کا حصہ ہے ۔ اس میں جھگڑے کی کوئی بات نہیں ۔ دوسری قسم کے عظیم لوگ وہ ہیں جو محنت کو کرامت بناتے ہیں ۔ وہ اپنے عمل میں تواتر قائم کرتے ہیں ،اپنی لگن میں استقامت قائم کرتے ہیں ،اپنے سفر میں یکسوئی حاصل کرتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ چل کر آخر ایک دن وقت کی بلند چوٹیاں سر کر لیتے ہیں ۔ یہ کام بھی ہر ایک کے بس کا نہیں ہے ۔ چھوٹے ظرف کے لوگ اگر یہ عزم کرلیں کہ کسی درخت کے پتے گن کر دم لیں گے تو آدھا کام کرنے کے بعد وہ بالعموم یہ کہیں گے ’’چھوڑو یہ کیا کام ہے ہم کوئی اور بڑا کام کریں گے‘‘ اور اس طرح مقاصد بدلتے بدلتے بے مقصدیت پیدا کرکے گمنامیوں کی وادیوں میں چلے جاتے ہیں ۔ تیسری قسم کے عظیم لوگ وہ انسان ہیں جنہیں کوئی لمحہ،کوئی خوش نصیب لمحہ،کوئی انسان،کوئی نصیب ساز انسان،کوئی واقعہ،کوئی خوشگوار واقعہ اچانک ان کے پاس سے گزرتا ہوا انہیں عظیم بنا جاتا ہے ۔ ایسے کتنے لوگ ہیں جو رات کو گمنامی کی نیند سوئے اور صبح ناموری کی روشنی میں بیدار ہوئے ۔ یہ تو عام فہم بات ہے ۔ کسی خاموش شاعر کا کلام چھپنے سے پہلے عظیم نہیں ہوتا اور کلام چھپ جائے تو ناموری عطا ہو جاتی ہے ۔ ایک انسان اپنے شب و روز میں میانہ زندگی گزار رہا ہے ۔ اس کے سامنے ایک چیلنج آتا ہے،وہ اس چیلنج کو قبول کرتا ہے اور ایک خوش بخت عمل کر گزرتا ہے ۔ نتیجہ یہ کہ وہ عظیم غازی علم الدین شہید بن جاتا ہے ۔ اس طرح بے شمار مثالیں ہیں ان لوگوں کی،جنہیں واقعات نے عظیم بنایا ۔ یہاں تک تو بات واضح ہے کہ عظیم لوگ آتے رہتے ہیں ،اپنی عظمتوں کو فیض بناتے ہیں اور کبھی کبھی اپنی عظمتوں کو ایک جھنڈا بنا کر کسی سرزمین پر گاڑ جاتے ہیں ۔ آنے والی نسلیں انہیں دعائیں دیتی ہیں ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مذہب کے حوالے سے عظیم لوگوں کے ساتھ وابستگی اس وقت تک خطرناک ہو سکتی ہے جب تک وہ عظیم لوگ ایک مذہبی زندگی نہ گزار رہے ہوں ۔ ہم تھوڑی دیر کیلئے عظیم لوگوں کو باعث عزت سمجھتے ہوئے اپنے لئے اولی الامران لیں تو اولی الامر کا اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کا تابع ہونا ضروری ہے ورنہ اس کی اطاعت کی بجائے اس کے خلاف جہاد لازمی ہے ۔ یہ بات ہمارا ذہن قبول نہیں کر سکے گا ۔ ہم کسی ایک صفت میں حاصل ہونے والی عظمت کے نتیجے میں بننے والے عظیم آدمی کو باعث تقلید مان لیتے ہیں اور یہاں سے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے ۔ ایک عظیم وکیل ضروری نہیں کہ عظیم امام مسجد ہو ۔ بس عظیم کو اسی شعبے تک عظیم سمجھنا چاہئے جس میں اس نے عظمت حاصل کی ۔ اس شعبے میں اس کی تقلید بھی جائز ہے لیکن اس کو اس کے شعبے سے نکال کر دوسرے شعبے میں باعث عظمت ثابت کرنا دھوکا ہے ۔ مثلاً لارڈ رسل کا فلسفہ صحیح ہے،خوبصورت ہے لیکن اس کی زندگی کی تقلید کرنا ہمارے لئے جائز نہیں ہے ۔ اس کا فلسفہ سند لیکن اس کی زندگی مومن کیلئے غیر مستند ہے ۔ اپنے ہاں بھی جو لوگ عظیم ہیں ،ان کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جائے ۔ جس شعبے میں اور جس مقام پر وہ عظیم ہیں ان کو سلام پیش کیا جائے اور جہاں ان کی زندگی معذرت سے گزر رہی ہے،وہاں سے گریز کیا جائے ۔ ہماری قوم ایک مثالی عظمت اور عظیم آدمی کی تلاش میں ہے اور یہ بڑے افسوس کی بات ہے ۔ ہم لوگ سمجھ نہیں سکتے کہ دنیا کے عظیم انسانوں میں صرف ایک یا چند صفات کی عظمت ہے ۔ واحد عظیم ہستی حضور اکرمﷺ کی ہے جن کی زندگی کا ہر شعبہ مثالی،ہر عمل بے مثال،جن کی ہر صفت،جن کی نشست و برخاست،جن کا جاگنا سونا اور جن کا بولنا سننا باعث تقلید ہے ۔ جن کے نقش قدم پر چلنا ہی فلاح کی راہ ہے ۔ باقی تمام عظیم ہستیوں کا ان کی اس صفت کے مطابق جائزہ لینا چاہئے،جس میں وہ عظیم ہیں ۔ ہر آدمی،خواہ کتنا ہی عظیم ہو،تقلید کے قابل نہیں ۔ اگر ہم ہر ایک کو قابل تقلید رہنما بناتے رہے تو قوم ایک بے جہت اور بے سمت سفر میں گم ہو سکتی ہے ۔ اکابرین ملت کو آفتاب رسالتﷺ کی کرنیں ہی مانا جائے ۔ بس نور ظہور سب حضورﷺ کا ہے ۔ باقی سب عظمتیں صرف دیکھنے کیلئے ہیں ،تقلید کیلئے نہیں ۔ تقلید صرف اس ذات کی جسے اللہ کی تائید حاصل ہے ۔