- الإعلانات -

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح اور تحرےک آزادی پاکستان

جولائی کومادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا 53واں ےوم وفات گزر گےا ۔ تارےخ پاکستان کا وہ دن بہت المناک تھا جب محترمہ فاطمہ جناح نے 9جولائی 1967کو عالم فانی سے عالم بقاء کی طرف کوچ کےا ۔ بانےان پاکستان کی ےادوں کے چراغ آج بھی شمع فروزاں بن کر جگمگا رہے ہےں وہ عظےم بھائی کی عظےم بہن تھےں قائد اعظم ان کے بارے مےں اکثر کہا کرتے تھے کہ مےں جب بھی گھر آتا تو مےری بہن مےرے لئے امےد کی کرن ثابت ہوتےں ۔ ےہی کرن تھی جس نے قائد اعظم;231; کو حوصلہ اور ہمت دی کہ وہ جس عظےم مشن پر کام کر رہے ہےں اس مےں انہےں ضرور کامےابی و کامرانی نصےب ہو گی ۔ اگر قوموں سے دلےر اور انسان تعمےر کرنے والی عورتوں کو نکال دےا جائے تو ان اقوام کی صبح کبھی شام سے ہمکنار نہےں ہوتی شکست اور پستی ہی ان کا مقدر بنتی ہے ۔ مادر ملت بھی انسان ساز اور انسان تعمےر کرنے والی ہستی تھےں انہوں نے حصول پاکستان مےں اپنے بھائی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر انتھک کام کےا اور اقبال;231; کا اےک آزاد اور خود مختار وطن کے حصول کا خواب شرمندہ تعبےر ہوا ۔ مادر ملت 1903مےں پےدا ہوئےں دو برس کی عمر مےں آغوش مادر سے محروم ہو گئےں سات برس تک اپنے والد کے زےر نگرانی تربےت حاصل کی چند برس بعد والد کے انتقال پر قائد اعظم;231; کے پاس بمبئی چلی گئےں آٹھ برس کی عمر مےں قائد اعظم;231;نے ان کی تعلےم و تربےت کا فرض اپنے ذمہ لےا اس دور مےں لڑکےوں کےلئے انگرےزی تعلےم کا دلانا آسان کام نہ تھا لےکن قائد اعظم;231; نے بڑی جراَ ت سے ان کا کانونٹ سکول مےں داخلہ کرواےا ۔ قائد اعظم ;231; محترمہ سے عمر مےں سترہ برس بڑے تھے ۔ مےٹر ےکولےشن کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1926ء مےں دندان سازی کا کورس کرنے کےلئے کلکتہ گئےں کورس مکمل کرنے کے بعد واپس آئےں اور دو برس تک ےہےں پرےکٹس کی ۔ 1930ء مےں گول مےز کانفرنس مےں شرکت کےلئے قائد اعظم ;231;کے ہمراہ انگلستان تشرےف لے گئےں ۔ 1935ء تک وہےں قےام کےا اور اسی سال واپس ہندوستان واپس آئےں ۔ مادر ملت قائد اعظم;231; کے ہمراہ جلسوں مےں شرکت کرتےں قائد اعظم;231; کے دوش بدوش سےاسی سر گرمےوں مےں پورے انہماک سے حصہ لےتی رہےں انہوں نے بچپن ہی مےں سےاسی فضا مےں آنکھ کھولی اور سےاست مےں حصہ لےا ۔ برصغےر پاک و ہند مےں عورتوں مےں سےاسی شعور کی بےداری مےں آپ کا فعال کردار تھا ۔ قائد اعظم;231; نے اےک مرکزی کمےٹی برائے خواتےن قائم کی جس مےں محترمہ فاطمہ جناح کی صدارت مےں لاہور مےں خواتےن کا اےک عظےم الشان اجتماع ہوا جس مےں خواتےن نے آنے والے انتخابات کےلئے بھی تےاری شروع کر دی ۔ قائد اعظم;231; نے خواتےن کو حکم دےا کہ وہ ہر قصبے اور گاءوں جائےں اور خواتےن کے ووٹ رجسٹر کرےں قائد اعظم;231; جانتے تھے کہ خواتےن کا اسلام اور نظرےہ پاکستان پر غےر متزلزل اےمان ہے خواتےن نے پوری دنےا مےں تمام رکاوٹوں کے باوجود اسلام اور اپنی قوم کےلئے زبردست قربانےاں دےں ۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو اسلام سے والہانہ لگاءو تھا انہوں نے ہمےشہ مشرقی لباس کو ترجےح دی ۔ 3دسمبر1949ء کو اسلامی اقتصادی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ا;203; کے دےن کی طاقت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام سے جو ہمارا مشترکہ رشتہ ہے ےہ تمام حد بندےوں کو توڑ دےتا ہے چاہے وہ جغرافےائی ہوں ےا کوئی اور،ےہی وہ رشتہ ہے جس نے کرہ ارض پر بسنے والے مسلمانوں کو باہم متحد کر دےا ہے ۔ 28مارچ1948ء کو ڈھاکہ رےڈےو سے قوم کو خطاب کر کے کہا کہ آپ اپنے ادب اور آرٹ مےں اسلامی تہذےب و معاشرت کو زندہ کرےں ،اپنے عظےم ماضی سے رشتہ جوڑےں ۔ انہوں نے ہمےشہ اپنی تقرےروں مےں اسلام کی سر بلندی کا تذکرہ کےا مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ہمےشہ اپنے بھائی کی طرح نوجوانوں کو حصول علم کی طرف توجہ دےنے ،اسلام کو اپنی زندگےوں مےں عملی طور پر اپنانے اور پاکستان کو نصب العےن بنانے کی تلقےن فرماتےں ۔ 1964ء مےں محترمہ فاطمہ جناح نے اےوب خان کے مقابلے پر صدارتی امےدوار بننا منظور کےا ۔ ےہ دور مطلق العنانی کا دور تھا امےر محمد خان گورنر مغربی پاکستان کی گرفت پورے مغربی پاکستان کی بےوروکرےسی پر تھی ۔ اس زمانہ مےں کوئی بھی حکومت وقت کیخلاف بات کرنے کی اپنے مےں ہمت نہےں پاتا تھا الےکشن مےں ان کے خلاف حکومت کی پوری مشےنری اور سےم و زر کے جال بچھا دیے گئے لےکن ستر سالہ مادر ملت جو اس وقت اپنے پےری کے عالم مےں تھےں اس نحےف و نزار خاتون نے اےوان حکومت اور قصر شاہاں لرزہ بر اندام کر دیے ۔ حبےب جالب نے اس وقت ان کی الےکشن مہم کا نقشہ جن الفاظ مےں کھےنچا ہے ان مےں عوامی جذبات کی صحےح ترجمانی ملتی ہے ۔

اک آواز سے اےوان لر ز اٹھے ہےں

لوگ جاگے ہےں تو سلطان لرز اٹھے ہےں

آمد صبح بہاراں کی خبر سنتے ہی

ظلمت شب کے نگہبان لرز اٹھے ہےں

ماں کے قدموں مےں ہی ہے جنت ادھر آ جاءو

اک بے لوث محبت ہے ادھر آ جاءو

اس طرف ظلم ہے ،بےداد ہے، حق تلفی ہے

اس طرف پےار ہے ،الفت ہے ادھر آ جاءو

حبےب جالب نے انتخابی مےدان مےں ان کی آمد کا نقشہ اشعار ذےل مےں خوب کھےنچا ہے

مےداں مےں نکل آئی، اک برق سی لہرائی

ہر دست ستم کانپا، بندوق بھی تھرائی

ہر سمت صدا اٹھی، مےں آئی ہوں مےں آئی

حکومت وقت کے تمام وسائل پر تصرف رکھنے کی وجہ سے اور تمام آمرانہ و جابرانہ ہتھکنڈے استعمال ہونے کے سبب ظلمت سچ پر چھا گئی ،بددےانتی ،دےانتداری پر بھاری پڑ گئی ،اس وقت پاکستانی ووٹرز نہےں تھے بی ڈی سسٹم راءج تھا بی ڈی ممبرز بھی خرےد لئے گئے ۔ محترمہ کو 49951ممبران کے مقابلے مےں صرف296691ممبران کے ووٹ ظاہر کئے گئے ۔ ظاہری طور پر مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ہرا دےا گےا لےکن عوام کے دلوں اور ذہنوں جےت ان کی ہی ہوئی ۔ نجم آفندی کے اس شعر کے مصداق

ےہ ہلاکتوں کی جزا ملی ےہ عناءتوں کا صلہ دےا

جو چراغ مےری قبر کا تھا اسے کربلا مےں بجھا دےا

لےکن تارےخ کسی کو معاف نہےں کرتی ےہ سب کچھ بتانے والی کچھ نہ چھپانے والی حقےقتوں کی ترجمان ہوتی ہے ۔ تارےخ نے دےکھا کہ جن لوگوں نے ان کو بظاہر شکست دے کر ذلت کا نشانہ بنانا چاہا بالآخر ان کے ہی حصے مےں ہی ذلت و رسوائی آئی اور قوم نے ان کو بری طرح دھتکار دےا ۔ حبےب جالب نے کہا تھا

مر کے بھی مرتے ہےں کب مادر ملت کی طرح

شمع تارےک فضاءوں مےں جلانے والے