- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں بچے کی تصویرنے دنیاکے ضمیرکوجھنجھوڑکررکھ دیا

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم انتہاکوپہنچ چکے ہیں ،بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بربریت کی نئی مثال قائم کردی اور 3سالہ نواسے کے سامنے اس کے نانا کو شہید کردیا ، ننھا بچہ خون میں لت پت اپنے نانا کی لاش پر بیٹھا ہوا تھا اور انہیں جگانے کی کوشش کرتا رہا ، شہید بشیر احمد خان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بھارت کے قابض اہلکاروں نے انہیں کار سے نکال کر شہید کیا ، چھوٹے بچے کی اپنے نانا کی لاش پر بیٹھی تصویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور یہ ان انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو ایک طویل عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ، قابض بھارتی فورسز کی جانب سے کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی جاری ہے اور واقعے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ سوشل میڈیا پر اس وقت ٹاپ ٹرینڈ پر ایک تصویر موجود ہے جس میں ایک چھوٹا، تقریبا 3 سالہ بچہ خون میں لت مت اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے پاس سیکورٹی اہلکار کھڑے ہیں ۔ اس بارے میں برطانوی خبررساں ادارے کی ایک رپورٹ میں یہ بیان کیا گیا کہ یہ واقعہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں ماڈل ٹاءون علاقے سوپور میں پیش آیا ۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں اپنے نانا کی لاش پربیٹھے ہوئے تین سالہ بچے کی چیخ وپکارسنے ۔ مودی کا فسطائی بھارت کشمیرکی آزادی کانعرہ بلندکرنے والے بے گناہ شہریوں کوقتل کررہاہے ۔ واقعہ ماورائے عدالت قتل ہے ایسے مظالم کی کہیں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظی میں اپنی خاموشی توڑیں اور کشمیریوں کے حقوق کےلئے آوازبلندکریں ۔ ارض کشمیر جسے دنیا جنت نظیر کہتی ہے ، ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے جس پر بھارت نے جبراً تسلط قائم کر رکھا ہے ۔ کشمیری عوام کا شمار دنیا کی ان چند اقوام میں ہوتا ہے جنہوں نے طویل عرصہ تک آزادی کےلئے جد و جہد کی اور اس جدو جہد کی پاداش میں ظلم و ستم کا ایک طویل سلسلہ برداشت کیا اور کر رہے ہیں ۔ کشمیری عوام بالکل نہتے ہیں اور مقابلہ ان کا ایک ایٹمی طاقت سے ہے ، جن کے دل پتھر ہیں اور وہ کسی بھی طرح کا ظلم و ستم ڈھاتے ہوئے کانپتے نہیں ہیں ۔ آئے روز کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت نے دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ ادھر بھارتی فوج کی لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی سے ایک بچہ شہید ہوگیا، پاک فوج نے موَثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا ۔ بھارتی ناظم الامور گوراو اہلووالیا کو دفتر خارجہ طلب کرکے لائن آف کنٹرول پر بھارتی قابض فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں ، بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک بے گناہ شہری کی شہادت اور 5کے زخمی ہونے پر پاکستان کی طرف سے شدید احتجاج کیاگیا ۔ رواں سال بھارت نے جنگ بندی کی 1546 خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا جس کے نتیجے میں 14 بے گناہ شہری شہید اور 114 زخمی ہوگئے ۔ بھارتی فوج کی جانب سے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے زوردیا گیا کہ بے حسی پر مبنی یہ بھارتی اقدامات نہ صرف 2003 کے جنگ بندی معاہدے بلکہ عالمی انسانی حقوق اور عالمی اقدارکی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔ ان واقعات سے خطے میں پہلے سے کشیدہ ماحول مزید خراب ہوگا ۔ بھارت شہری آبادی کونشانہ بناکرعالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے، شہری آبادی کونشانہ بنانا بھارتی فوج کا انتہائی بزدلانہ فعل ہے ۔ ایل او سی پر مودی سرکار کی اشتعال انگیزیاں خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں ، بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے، پاک فوج بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے، 22 کروڑ عوام بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ بھارتی عزائم کو پوری دنیادیکھ رہی ہے ۔ امریکی جریدے فارن پالیسی کے مطابق لداخ میں چین کے ہاتھوں پسپائی کے بعد بھارت کی پڑوسی ملک پاکستان سے لڑائی کا خدشہ ظاہر کردیا اور کہا بھارت ہمیشہ اندرونی مسائل اور مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے سیزفائر لائن پر کشیدگی بڑھاتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے پاکستان اوربھارت کے تعلقات تناءو کا شکار ہیں اور دونوں ممالک نے سفارتی عملے میں پچاس فیصدکمی کردی ہے ۔ یاد رہے گزشتہ سال امریکی جریدے کی تحقیق میں کہا گیا تھا پاکستان اوربھارت میں نیوکلئیرجنگ ہوئی توکروڑوں افراد مارے جائیں گے ، ایٹمی جنگ سے کاربن کا اخراج ہوگا اور دھوئیں کا گہرا بادل فضا میں اٹھے گا، جو ایک ہفتے میں پوری دنیا کولپیٹ میں لے لے گا ۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری جبر و استبداد کے واقعات سے پردہ ہٹانے کے ساتھ ساتھ کنٹرول لائن پر آزاد کشمیر میں کی جانے والی گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرا رہا ہے، اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ اقوام متحدہ بھی آنکھیں کھولے اور مسئلہ کشمیر جو سلامتی کونسل میں زیر التوا ہے اپنی قراردادوں پر بلاتاخیر عملدرآمد کرائے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ واضح موَقف اپناتے ہوئے بھارت کے خلاف موَثر کارروائی کی جائے ۔

حکومت کوکوئی خطرہ نہیں ،مدت پوری کرے گی

حکومت نے ملک کے بزرگ پنشنرز کے حوالے سے انتہائی احسن فیصلہ کیاہے ، وزیراعظم پاکستان نے ای اوبی آئی کے حوالے سے جووعدہ کیاتھا اس کو عملی جامہ پہنادیاہے ۔ وفاقی کابینہ نے ای او بی آئی پنشنرز کی پنشن 6500 سے بڑھا کر 8500 کرنے کی منظوری دیدی ہے جس کا اطلاق یکم جنوری 2020سے ہو گا ای او بی آئی ماہ اپریل، مئی، جون اور جولائی کی پنشن اور بقایاجات ادا کرے گی ،پنشنر یکم اگست سے اضافی شدہ پنشن اور بقایا جات حاصل کر سکتے ہیں جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سمیت تین پن بجلی منصوبوں کی منظوری دی،وزیراعظم نے صوبائی مالیاتی ایوارڈکے اجرا پرزوردیاہے جن پائلٹس کے لائسنس مشکوک تھے انہیں برطرف کر دیا گیا ہے، اب ہمارے جوپائلٹس جہاز اڑا رہے ہیں ان کی ڈگریاں سو فیصد کلیئر اورعالمی معیار کی ہیں ، جعلی ڈگریوں کے حامل پائلٹس کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہو گی،وزیراعظم نے پائلٹس کے معاملے پر دوبارہ سمری طلب کرلی ہے، مائنس ون اپوزیشن کا شوشہ ہے ،حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ،تمام اتحادی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں ،اپوزیشن احتساب کے ڈرسے عمران خان کو ہٹاناچاہتی ہے، بلاول بھٹو نے کون سی گرم ہوادیکھی ہے ،انہیں وراثت میں پارٹی ملی ہے، آڈیٹرجنرل رپورٹ کرپشن نہیں ہوئی ہمارے دور میں اعتراضات میں 70سے 80فیصد کمی آئی ہے،اپوزیشن کو معلوم ہے کہ اگر عمران خان ان کے راستے سے ہٹ جائے تو ان کے ماضی کی کرپشن کا نہیں پوچھا جائے گا، ماضی میں پی آئی اے، اسٹیل ملز میں بے شمار سیاسی بھرتیاں کی گئیں ۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اسپیکر قومی اسمبلی کے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا عندیہ دیا ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت آصف زرداری کو قتل کرنا چاہتی ہے،مائنس ون والی بات عمران خان ضرور جانتے ہونگے، عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جو پاکستان میں کشمیر پر اتفاق رائے پیدا نہ کرسکے، عمران خان خود مائنس ون کی بات کررہے ہیں ، دیکھتے ہیں وہ کتنی دیر وزیراعظم رہتے ہیں ، شوگر کمیشن کا ڈرامہ این آر او تھا، وزیراعظم وزیرِاعلی پنجاب،اسد عمر اور جہانگیر ترین کو بچایا گیا، اس حکومت نے کورونا پھیلایا،کیسزاور اموات کم ہونا سفید جھوٹ ہے،عوام تنگ آ چکے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ کسی کو وزیر اعظم بنادو لیکن عمران خان نہ ہو، سلیکٹڈ حکومت کا کوئی مستقبل نہیں اور نہ ہی مینڈیٹ ہے ۔ اپوزیشن کی مخالفت اورتنقیدجمہوریت کاحسن ہوتی ہے لیکن یہ تنقید برائے تنقیدنہیں ہوناچاہیے،حکومت چاہے جس کی بھی ہواس کو اپنامقررہ وقت پورا کرناچاہیے اور پھر پانچ سال کے بعدیہ عوام کی مرضی ہے کہ وہ دوبارہ موقع دیتی ہے یانہیں ۔ اصل طاقت عوام کاووٹ ہی ہے تمام سیاسی جماعتوں کو اس کا احترام کرناچاہیے ۔