- الإعلانات -

مودی چین کا نام کیوں نہیں لیتا

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے بعد بھارت کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل بپن راوت اور آرمی چیف منوج موکنڈ نراواکے ہمراہ لداخ کا دورہ کیا ہے جہاں انہیں بھارتی فوج کی جانب سے علاقے کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی گئی ۔ مودی نے لداخ میں ‘نمو’ کے مقام پر اگلے مورچوں پر فوجیوں سے خطاب بھی کیا ۔ بھارتی وزیرِ اعظم نے دورے کے دوران اسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے بھارتی فوجی زیرِ علاج ہیں ۔ نریندر مودی نے ایسے وقت میں لداخ کا دورہ کیا جب چین کے ساتھ سرحدی تنازع پر حال ہی میں ہونے والی جھڑپوں میں 20 بھارتی فوجی ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے ۔ البتہ چین نے اپنے فوجیوں کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی تھیں ۔ فوجی جھڑپ کے بعد دونوں ملکوں نے علاقے میں فوجی تنصیبات میں اضافہ کر دیا تھا ۔ کشیدگی ختم کرنے کے اعلانات کے باوجود دونوں ملک ایک دوسرے پر سرحدی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں ۔ مودی کو گزشتہ ماہ لداخ کی وادی گلوان میں ہونے والی جھڑپ میں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد تنقید کا سامناہے ۔ بھارت کی اپوزیشن جماعتیں خصوصاً انڈین نیشنل کانگریس نے مودی کی پالیسی پر تنقید کی تھی ۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں کا اصرار تھا کہ بھارتی وزیرِ اعظم چین کے ساتھ تنازع کے حقائق سامنے لائیں ۔ چنانچہ مودی اپنی شکست کی شرمندگی مٹانے کےلئے لداخ جا پہنچے ۔ گو کہ مودی نے گزشتہ ہفتے بیان بازی میں چین کو سبق سکھا دیا تھا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے لداخ میں چینی افواج کو بھرپور جواب دیا ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے چین کو دھمکایا بھی کہ بھارت دوستی نبھانے کے علاوہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے ۔ لداخ کا کل رقبہ 45 ہزار مربع میل یعنی ایک لاکھ 17 ہزار مربع کلو میٹر ہے ۔ اس کے جنوب مشرق میں لداخ رینج، قراقرم رینج اور دریائے سندھ کے بالائی کے علاقے شامل ہیں ۔ پاکستان کی جانب یہ گلگت بلتستان سے جا ملتا ہے ۔ کارگل اور سیاچن اسی حصے میں واقع ہیں ، جسے دنیا کا بلندترین محاذ جنگ کہا جاتا ہے ۔ چین اور بھارت کے درمیان 3500 کلو میٹر طویل سرحد کی مستقل حد بندی اب تک نہیں ہوئی ہے ۔ سرحدی حد بندی پر دونوں ملکوں کا الگ الگ موَقف ہے ۔ 1962 میں سرحدی تنازع پر دونوں کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے ۔ بھارتی دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا نے لداخ میں چینی کے ساتھ جاری کشیدگی پر مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ چین نے لداخ میں اپنی فرنٹ لائنز کو تبدیل کر کے بھارتی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ نئی دہلی ابھی فوجی و سفارتی مذاکرات طے کرنے میں ہی مصروف ہے ۔ اگر مودی سرکار کو ایسے ذلت آمیز طریقے سے ہی سرنڈر کرنا تھا تو وہ لداخ سے ماوَنٹین سٹرائیک کور اور بکتر بند بریگیڈ کو ہٹا لے ۔ مودی نے لداخ میں اگلے مورچوں سے تقریباً آدھا گھنٹہ خطاب کیا اور حیرت کی بات یہ کہ اس نے ایک دفعہ بھی چین کا نام تک نہیں لیا ۔ خطاب کا آغاز و اختتام ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’وندے ماترم‘ جیسے نعروں سے کیا ۔ مودی نے چین کے ساتھ لگنے والی سرحد پر تعینات بھارتی فوجی اہلکاروں کی بہادری اور حوصلے کی تعریفوں کے پل باندھنے پر ہی زیادہ تر وقت اور دھیان صرف کیا ۔ نریندر مودی نے اپنے خطاب میں بھارت کو ایک امن پسند ملک کے طور پر پیش کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔ اوردبے الفاظ میں چین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ توسیع پسندی کی جنگ کا دور ختم ہوچکا ہے اور آج ترقی کی جنگ چل رہی ہے ۔ کہا کہ توسیع پسندی کی جنگ لڑنے والوں کو ہمیشہ شکست و ریخت سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ ماضی میں توسیع پسندی نے انسانیت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔ توسیع پسندی کا جنون جس کسی پر بھی سوار ہوا ہے اس نے ہمیشہ عالمی امن کے لیے خطرہ پیدا کیا ہے ۔ مودی نے چین کے ساتھ چپقلش پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جو بھارتی فوجی گلوان کی وای میں شہید ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ آج ان 20 بہادر فوجیوں کو ملک کا ہر شہری خراج عقیدت پیش کرتا ہے ۔ انہیں سلام پیش کرتا ہے ۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اس سے دنیا بھر میں بھارت کی طاقت کا پیغام پھیل گیا ہے ۔ آپ کا حوصلہ ان پہاڑوں سے بلند ہے ۔ وزیر اعظم کا لداخ کا اچانک دورہ بھارتی فوج کےلئے تو حوصلہ افزا ہو سکتا ہے مگر انہوں نے چین کے متعلق جو محتاط لب ولہجہ اختیار کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت، چین کے ساتھ کسی بھی قسم کی رسہ کشی سے باز رہنے کو ہی ترجیح دے رہا ہے ۔ اس کے برعکس پاکستان کے متعلق بھارت کے تمام لیڈران کالہجہ انتہائی جارحانہ ہوتی ہے اور امن کی بجائے جنگ پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے ۔ دراصل طاقتور کے سامنے کمزور کا لب و لہجہ ہمیشہ مصالحانہ اور نرم ہوتا ہے ۔ جب بات پاکستان کی ہوتی ہے تو گھس کے مارنے کی ہی باتیں کی جاتی ہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک فوجی ہسپتال میں زیر علاج وادی گلوان جھڑپ کے زخمی فوجیوں سے ملاقات میں کہا کہ بھارت دنیا کی کسی بھی طاقت کے سامنے جھکا ہے نہ جھکے گا ۔ یہ بات میں آپ جیسے بہادر فوجیوں کو دیکھنے کے بعد کہتا ہوں ۔