- الإعلانات -

نیاپاکستان ہاءوسنگ پراجیکٹ،وعدوں کی تکمیل کی جانب اہم قدم

بلاشبہ وطن عزیز میں بھوک کے بعد سب سے بڑا مسئلہ اپنا گھر نہ ہونا ہے اس حوالے سے موجودہ حکومت کی جانب سے غریب اور عام شہریوں کو اپنے گھر کی چھت کا تحفظ دینے کیلئے پیشرفت تیزی سے جاری ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نیا پاکستان ہاءوسنگ پروگرام کے تحت گھروں کی تعمیر کے منصوبے کی تکمیل کیلئے پُرعزم ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے رابطہ کمیٹی ترقی و تعمیرات کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیا پاکستان ہاءوسنگ پروجیکٹ میں پہلے مرحلے میں ایک لاکھ گھر بنیں گے، پروجیکٹ کےلئے 30 ارب کی سبسڈی دی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پروجیکٹ صرف اسی سال کےلئے رکھا ہے، تعمیرات میں جو بھی سرمایہ کاری کرے گا اس سے پوچھ گچھ نہیں ہوگی ۔ کبھی کسی حکومت نے عام لوگوں کو گھر بنانے کےلئے ایسی آسانی پیدا نہیں کی، عوام بھی ہاءوسنگ پروجیکٹ سے بھرپور فائدہ اٹھائیں ۔ حکومت غریب طبقے کی مدد کرے گی تاکہ آسان قسطوں پر اپنا گھر خرید سکیں ، آنے والے دنوں میں تعمیرات سے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا ۔ نیا پاکستان ہاءوسنگ منصوبہ غریبوں کی ترقی کیلئے وزیراعظم کا خواب پورا کرنے کی جانب ایک قدم ہے ۔ متعدد صنعتیں بالواسطہ اور بلاواسطہ ہاءوسنگ کے شعبے سے منسلک ہیں جس سے اقتصادی سرگرمیاں اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے ۔ ہاءوسنگ کا شعبہ نوجوانوں کیلئے ان کے ایک کروڑ نوکریوں کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ حکومت کم ;200;مدنی والے افراد کیلئے قرضوں کی سہولت بھی ;200;سان بنائے گی ۔ حکومت کا یہ پراجیکٹ خوش آئند ہے ۔ یقینا اپنا گھر سکیم کامیاب ہوگی اور یہ وہ سکیم ہے جس سے ملک میں گھروں کی قلت پوری ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کےلئے رو زگارکے مواقع بھی پیدا ہوں گے ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے کارکردگی کے معاملے پر اب کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کارکردگی نہ دکھانےوالوں کو گھر کی راہ دکھانے کی ٹھان لی اور واضح کیا حکومتی امور میں کوتاہی برداشت نہیں ۔ وزرا، مشیران اور معاونین کواب کارکردگی دکھاناہوگی جبکہ سیکریٹریز، بیوروکریسی اور اداروں کے سربراہان کو کارکردگی سے جانچا جائے گا ، حکومتی فیصلوں پرکتناعمل ہوا;238;وزرا و دیگرکو حقائق بتانا ہوں گے ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ کئی دہائیوں سے باری، باری برسراقتدار آنیوالی سیاسی جماعتوں اور حکومتوں سے بھلائی اور خیرخواہی کی توقع اٹھ جانے کے بعد ہی عوام نے تبدیلی کی خواہش میں عمران خان کوووٹ دیا اور عام انتخابات کے بعد بننے والی حکومت سے بھی ماضی کی طرح بہت سی توقعات وابستہ کر لی تھیں تاہم دو سال گزرنے کے باوجود حکومت سے بندھی امیدیں پوری نہ ہونے پر عوام کو مایوسی ہوئی ۔ حکومت کو فوری طور پر گورننس سمیت تمام حکومتی معاملات پر توجہ دینا ہو گی تا کہ اس سے وابستہ عوام کی امید ٹوٹنے نہ پائے اور انفرادی و اجتماعی ترقی و خوشحالی کا سفر جاری رہے ۔ امیدکی جاتی ہے کہ عمران خان کی حکومت تبدیلی اور خوشحالی لانے میں ہر صورت کامیاب ہوگی ۔ اگرعمران خان ناکام ہو گئے تو پاکستان کی مڈل کلاس شدید ترین مایوسی کا شکار ہوگی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی کی کسی بھی حکومت نے بہتری پر کوئی توجہ نہیں دی سیاست سیاست کا کھیل کھیلنے والی حکومتیں اور ان کے ارباب بست و کشاد صرف سیاست و کرسی کے معاملات میں ہی الجھے رہے اور کبھی بھی عوامی مسائل کی طرف توجہ نہیں دی، اگرچہ وہ اقتدار ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود کے نعرے لگا کر ہی حاصل کرتی رہیں ۔ نیز وزیراعظم عمران خان نے ٹڈی دل کنٹرول کےلئے نیشنل ایکشن پلان کے فیزٹو کی منظوری دےدی اور متاثرہ کسانوں کو بھی ایک پیکیج کے ذریعے معاوضہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاکہ کوویڈ19 کے ساتھ ٹڈی دل حملہ بھی پاکستان کےلئے بڑا چیلنج ہے ۔ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف نے لوکسٹ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا ، جہاں وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزرا،معاونین خصوصی اور عسکری حکام شریک ہوئے ۔ وزیراعظم نے ٹڈی دل کنٹرول کےلئے نیشنل ایکشن پلان کے فیزٹوکی منظوری دےدی اور فیصلہ کیا کہ متاثرہ کسانوں کو بھی ایک پیکیج کے ذریعے معاوضہ دیا جائے گا ۔ وزیراعظم نے ٹڈی کے حملے کو قابو کرنے پر پاک فوج، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کوسراہتے ہوئے کہا کوویڈ19 کے ساتھ ٹڈی دل حملہ بھی پاکستان کےلئے بڑا چیلنج ہے، غذائی تحفظ کی خاطرحکومت ٹڈی دل پرقابوپانےکی ہرکوشش کرے گی ۔ تمام تر کوششوں کے باوجود ٹڈی دل خدانخواستہ بے قابو ہوتا ہے تو اس کی تباہ کاریوں کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے جس سے ملک قحط کی لپیٹ میں آ سکتا ہے ۔ پاکستان ایسے بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے ۔ پاکستان کے پاس مطلوبہ تعداد میں سپرے والے جہاز موجود ہیں ۔ ان کو آپریشنل حالت میں لانا ہو گا ۔ خوش آئندامریہ ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے مریضوں کی تعداد کم ہوئی ہے جبکہ جاں بحق ہونےوالے افراد کی تعداد میں بھی کمی ہوئی ہے جو یقینا خدائے بزرگ و برتر کی خاص رحمت ہی ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی تدابیر بھی کافی حد تک کارساز ثابت ہورہی ہیں اس لئے حالات کا تقاضا ہے کہ ماسک کے استعمال اور سماجی فاصلوں سمیت تمام حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ رب ذوالجلال کے حضور اپنی بے بسی کا اظہار بھی کرتے رہیے ۔

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کا اعزاز

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرزکویہ اعزازہمیشہ سے حاصل رہاہے کہ اس کی خبروں پرنوٹس لئے جاتے ہیں ۔ ماضی میں چیف جسٹس آف پاکستان بھی پاکستان گروپ آف نیوزپیپرزکی کئی خبروں پرازخودنوٹس لے چکے ہیں ۔ پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے انگلش اخبار دی ڈیلی پیٹریاٹ میں شاءع رپورٹ پر وزیر اعظم عمران خان نے فوری ایکشن لیتے ہوئے چیئرمین پیمرا کو بلایا اور کیبل وویب چینلز کنٹینٹ چلنے بارے تفصیلات طلب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے غیر اخلاقی کنٹینٹ کی تشہیر کی گنجائش نہیں ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانیوالی جعلی خبروں کو کنٹرول کیا جائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ جعلی خبریں پھیلانے والے کیبل چینلز کے لائسنس منسوخ کیے جائیں ، اس کے ساتھ ساتھ پیمرا قوانین میں ترمیم ، واضح قومی الیکٹرانک وڈیجیٹل میڈیا پالیسی بنائی جائے ۔ پیمرا غیر ملکی چینلز کی نگرانی کرے، کیبل ٹی وی پر بھارتی مواد نشر پر زیرو ٹالرینس ہونی چاہیے ، بھارتی مواد بند کرانے کیلئے پیمرا کارروائی کرے ، وزیر اعظم عمران خان نے کیبل ٹی وی پر غیر اخلاقی فل میں بھی فوری بند کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے غیر قانونی ویب چینلز کیخلاف کارروائی کیلئے پیمرا اور پی ٹی اے سے جواب طلب کر لیا ، اس کے ساتھ ساتھ وزیرا عظم نے نیوز کٹیگری لائسنس کے بغیر نیوز چینلز کے طور پر کام کرنے والے چینلز کیخلاف بھی کارروائی کی ہدایت کر دی ۔

ترک عدالت کاتاریخی اقدام

ترکی کی ایک اعلیٰ عدالت نے آیا صوفیہ کی عجائب گھرکی حیثیت ختم کرنے کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے جس کے بعد اب اس تاریخی ورثے کے ایک مرتبہ پھر مسجد میں تبدیل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے ۔ واضح رہے کہ ترکی کی اعلی عدالت کونسل ;200;ف اسٹیٹ میں کیس چل رہا تھا کہ کیا ;200;یا صوفیہ کی موجودہ حیثیت یعنی عجائب گھر کو ختم کرکے اسے مسجد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں ۔ ترکی کی کونسل ;200;ف اسٹیٹ نے اس کیس کا فیصلہ 2 جولائی کو سنانا تھا لیکن اس دن مختصر سماعت کے بعد فیصلے کو 15 دن کے لیے موخرکر دیا گیا ۔ تاہم جمعہ کو عدالت نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے آیا صوفیہ کی میوزیم کی حیثیت ختم کر دی ہے ۔ اس فیصلے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ترکی کے مغرب اور عیسائی برادری کے ساتھ تعلقات کشیدگی ہو سکتے ہیں ۔ یاد رہے کہ یہ عمارت چھٹی صدی میں بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول کے دور میں بنائی گئی تھی اور تقریبا 1000 سال تک یہ دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر تھی ۔ 1453 میں سلطنتِ عثمانیہ نے اسے ایک مسجد بنا دیا تھا لیکن 1934 میں مصطفی کمال اتاترک کے دور حکومت میں اسے ایک میوزیم میں تبدیل کردیا گیا اور اِس وقت یہ عمارت اقوام متحدہ کے ورلڈ ہیریٹیج فہرست میں بھی شامل ہے ۔ یاد رہے کہ ترک کے موجودہ صدر طیب اردوان نے الیکشن مہم کے دوران آیا صوفیہ کو ایک مرتبہ مسجد بنانے کا وعدہ کیا تھا ۔