- الإعلانات -

وانی کی شہادت اور بھارتی سازشیں !

دہلی سرکار مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کے لئے بھرپور زور لگا رہی ہے اور اس ضمن میں تمام ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جن کا تصور بھی کسی مہذب معاشرے میں نہیں کیا جا سکا ۔ سنجیدہ حلقوں کے مطابق دہلی کے حکمران یوں تو سیکولر ازم اور جمہوریت کے دعوے کرتے نہیں تھکتے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف آئے روز ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ شاید دہلی کے حکمرانوں میں انسانیت کی ادنیٰ سی رمق بھی باقی نہیں ۔ خصوصاً پچھلے 4 سال سے تو مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی تشدد اور مظالم کچھ اتنے تسلسل سے جاری ہیں ، جنھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم کوئی جدید دور میں نہیں بلکہ قدیم زمانے میں جی رہے ہیں ، جب ہلاکو اور چنگیز خان کے دور میں کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کیے جاتے تھے اور انسانی حقوق کی پامالی کی جانب کوئی کان نہیں دھرتا تھا ۔ کچھ ایسی ہی صورتحال مقبوضہ کشمیر میں درپیش ہے ، جہاں نہتے کشمیریوں کو شہید کرنا، پیلٹ گنز کا بے دریغ استعمال اور عفت مآب کشمیری خواتین کی بے حرمتی روزمرہ کا معمول ہے، جبکہ انسانی حقوق کے عالمی چیمپئن اس صورتحال پر چپ سادھے ہوئے ہیں ۔ سبھی جانتے ہیں کہ 4 سال قبل 8 جولائی 2016 کو کشمیریوں کے اہم رہنما برہان وانی کی شہادت کے بعد وادی میں صورتحال مزید ابتری کا شکار ہوگئی اور جدوجہد آزادی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی ۔ واضح ہو کہ شہید کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی جن پر قابض فوج کی فائرنگ سے بے شمار کشمیری شہید اور450 سے زائد زخمی ہوگئے تھے ، اس کے بعد مقبوضہ ریاست میں ظلم کی کالی رات مزید گہرا کر رہ گئی ہے اور اب تلک ان گنت کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، بظاہر کوئی نہیں جانتا کہ تشدد کی یہ سیاہ رات کب ڈھلے گی اور صبح آزادی کا اجالا کب نمودار ہو گا، کیونکہ قابض بھارتی فوج کے مقبوضہ وادی میں مظالم ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے چلے جا رہے ہیں ۔ اس پس منظر میں کشمیریوں نے اپنے بطل حریت ’’برہان مظفر وانی‘‘ کی شہادت کی چوتھی برسی عقیدت و احترام سے منا ئی ۔ مبصرین کے مطابق وانی تو اپنی جاں جانِ آفریں کے سپرد کر گیا، مگر ابھی تک اس کی شہادت نے دشمنوں پر ایسا لرزہ طاری کر رکھا ہے جس کا بھارتی فوجی کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، گویا اس فردِ واحد نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ جس دھج سے کوئی مقتل کو گیاوہ شان سلامت رہتی ہے، یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں ۔ برہان وانی کی شہادت کے موقع پر مشترکہ حریت کانفرنس کی جانب سے وادی میں مکمل ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے ۔ ماہرین کے مطابق کشمیر کی آزادی کی تحریک میں یوں تو ہر دن ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ گذشتہ 70 ۔ 80 برس میں قابض بھارتی حکمرانوں نے کشمیری عوام کے خلاف لگ بھگ ہر ہفتے،عشرے بعد کوئی نہ کوئی ایسا ظلم ڈھایا ہے جس کو فراموش کرنا کشمیری عوام کے بس کی بات نہیں مگر پھر بھی کچھ دن اور تاریخیں اس حوالے سے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں ۔ انہی میں سے ایک 13 جولائی کا دن بھی ہے ۔ کیونکہ 13 جولائی 1931 کو کشمیر کے ہندو ڈوگرہ حکمرانوں نے 22 کشمیریوں کو شہید کر کے گویا تحریکِ آزادی کشمیر کی باقاعدہ بنیاد رکھ دی تھی ۔ یہ سانحہ سری نگر کی سینٹرل جیل کے سامنے پیش آیا کیونکہ جیل کے اندر عبدالقدیر نامی کشمیری نوجوان کو اذان دینے اور نماز پڑھنے سے روک دیا گیا ۔ اس ظلم کےخلاف جب معصوم کشمیریوں نے صدائے احتجاج بلند کی تو ڈوگرہ سپاہیوں نے نہتے کشمیریوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس کے نتیجے میں 21 کشمیری موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ 100 کے قریب زخمی ہوئے ۔ ان شہادت پانے والوں کا جرم محض یہ تھا کہ وہ اپنے ہندو حکمرانوں سے مطالبہ کر رہے تھے کہ انھیں اذان دینے اور نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے مگر اس انتہائی جائز مطالبے کے ردِ عمل کے طور پر ان سے زندہ رہنے کا بنیادی حق چھین لیا گیا ۔ یوں ڈوگرہ حکمرانوں نے ثابت کیا کہ ان میں انسانیت کی ادنیٰ سی رمق بھی باقی نہ تھی ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ دہلی سرکار نے گذشتہ 73 برسوں میں کشمیر کے حریت پسند عوام کے خلاف ظلم و جبر کے وہ پہاڑ توڑے ہیں جن کو احاطہ تحریر میں لانا بھی پوری طرح ممکن نہیں ۔ جنت نظیر کہلانے والا خطہ جل رہا ہے ۔ وہاں دہلی سرکار کی انسانیت بالکل دم توڑ چکی ہے اور بے گناہ انسان روز بروز نام نہاد آپریشن اور سیدھی فائرنگ میں دم توڑ رہے ہیں ۔ سالِ رواں یعنی 2020 میں صرف جون کے مہینے میں ;242;54 کشمیریوں سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا گیا ۔ ان میں سے 3 افراد کو حراست کے دوران شہید کیا گیا جبکہ اس عرصے میں 82 بے گناہ کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور 25مکانات اور دکانوں کو مسمار کیا گیا ۔ اس بھارتی سفاکی کے نتیجے میں 2خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ 8 معصوم بچے یتیم ہوئے ۔ اسی طرح 7 خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس ضمن میں یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ حکومت پاکستان ہمیشہ سے بھارتی حکمرانوں کی تمام تر اشتعال انگیز روش کے باوجود معاملات میں اصلاح کی کوششوں میں مصروف رہی ہے مگر بادی النظر میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ دہلی کا حکمران ٹولہ معاملات میں سدھار کی بجائے بگاڑ پیدا کرنے پر تُلا ہوا ہے ۔ بہر کیف امید کی جانی چاہیے کہ انسان دوست عالمی حلقے، بین الاقوامی میڈیا اور وطنِ عزیز کی سول سوساءٹی اس ضمن میں اپنا انسانی فریضہ نبھائے گی ۔ غیر جانبدار مبصرین کے مطابق دہلی کے قابض حکمرانوں کو یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ جموں کشمیر کے غیور عوام اپنے ایک لاکھ سے زائد فرزندوں کی قربانیاں دے چکے ہیں اور یہ طے ہے کہ جلد یا بدیر قابض بھارتیوں کو کشمیر سے رخصت ہونا ہو گا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ کفر کی حکومت تو شاید کچھ عرصہ نکال جائے مگر ’’ظلم‘‘ کے کالے اندھیرے زیادہ دیر تک صبح کے اجالوں کو طلوع ہونے سے نہیں روک سکتے ۔ اس لئے دہلی کو حکمرانوں کو مقبوضہ کشمیر میں تبدیلی کا تناسب تبدیل کرنے کی کاوشوں سے باز رہنے کی ضرورت ہے ۔