- الإعلانات -

کشمیریوں پر ظلم و ستم، عالمی ضمیر خاموش کیوں

بھارت میں کرونا کے سدباب کیلئے لاک ڈاءون کیا گیا تھا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو کرونا کی کوئی پرواہ نہیں بلکہ کشمیریوں کو محض اس اقدام کیخلاف احتجاج سے باز رکھنے کیلئے محصور کردیا گیا جس کے تحت کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی اور لداخ کو یونین ٹیرٹیری کا خصہ بنالیا گیا ۔ کشمیری اس اقدام کو تسلیم کرنے کیلئے کسی صورت تیار نہیں ہیں ۔ ان کو جب بھی موقع ملتا ہے کرفیو کی پابندی توڑ کر مظاہرے کرتے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی بربریت اور سفاکیت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔ وادی میں انسانی حقوق نہ صرف معطل ہیں بلکہ انکی بری طرح پامالی بھی کی جاتی ہے ۔ گیارہ ماہ سے نہتے کشمیری کرفیو کی پابندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ گھر سے کوئی بھی شخص اجازت کے بعد نکل سکتا ہے ۔ ایسے لوگوں کو بشیر احمد کی طرح وحشت ناک انجام سے دوچار کردیا جاتا ہے ۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے سوپور میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے بشیر احمد کی خون سے لت پت لاش اور ان کے قریب بیٹھے ان کے پوتے کی تصویریں عالمی میڈیا پر وائرل ہونے سے گویا دنیا میں ایک بھونچال سا آگیا ۔ ان تصاویر میں تین سالہ پوتا ان کے سینے پر بیٹھ کر روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس کے بعد اس بچے کی کچھ ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ٹویٹ میں لکھا کہ اس بچے کے سامنے ایک کشمیری کے بہیمانہ قتل نے آج پوری دنیا کو ہلا دیا ہے ۔ شاید دنیا نے بھارت فوج کی اس بربریت کو آج پہلی بار دیکھا ہو، لیکن کشمیریوں کے لیے یہ روز کا معمول ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی نے کشمیری بچے کے سامنے دادا کی شہادت کا واقعہ ہر فورم پر اٹھانے کی کوشش کی جس سے یہ خبر دیکھتے ہی دیکھتے ٹوءٹر پر بھی وائرل ہو گئی اور بشیر احمد کی خون سے لت پت لاش اور ان کے پوتے کی تصویر بہت زیادہ شئیر ہوئی ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک تین سالہ بچہ اپنے بزرگ کے بے جان، گولیوں سے چھلنی جسم پر بیٹھا ہے ۔ یہ مودی کے فاشسٹ انڈیا کا اصل چہرہ ہے ۔ آج یورپی یونین کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا اور مقبوضہ کشمیر پر تشویش اور پاکستان کے غم و غصے کا اظہار کیا ۔ یونین کو اس تمام صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے ۔ پاکستان نے ہر فورم کشمیر میں ہونے والی ظلم و بربریت کو اٹھایا ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ماروائے عدالت قتل کررہا ہے اور یہ واقعہ بھی اسی ذمرے میں آتا ہے ۔ بھارت نے ظلم کی انتہا کردی ہے ۔ کشمیر میں انٹرنیٹ بند کیا ہوا ہے بین الاقوامی میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ۔ بھارت کشمیر میں ہونے والے مظالم کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی نے تصویر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری بچے کی دل دہلا دینے والی تصویر انسانی حقوق پر یقین رکھنے والوں کو یاد رہے گی ۔ بھارتی جھوٹی خبریں اور پراپیگنڈہ حقیقت نہیں بدل سکتے ۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کے سلسلے کو آج 333 دن ہوچکے ہیں اور ان مظالم کی ایک جھلک گزشتہ روز دنیا نے دیکھی ہے ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ساٹھ سالہ شخص کی اس کے تین سالہ نواسے کے سامنے شہادت پر عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کیلئے شرم سے ڈوب مرنا چاہئے ۔ کشمیر میں انسانیت کی تذلیل ہورہی ہے ۔ بھارتی فوج معصوم کشمیر یوں کا قتل عام کررہی ہے مگر ہماری حکومت ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق مجرمانہ خاموشی اختیا ر کئے بیٹھے ہیں ۔ کشمیر میں ظلم و جبر کا جو بازار گرم ہے اس پر عالمی اداروں کا آنکھیں بند کرکے بیٹھے رہنا ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے ۔ کشمیر پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا ۔ پانچ اگست 2019سے آج تک ہندوستانی فوج نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے ہر حربہ استعمال کر لیا ۔ ریاستی حیثیت ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں نوجوانوں کو اٹھا کر بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند کردیا اور گزشتہ گیارہ ماہ میں بھارتی فوج نے تین سو سے زیادہ معصوم نوجوانوں کوشہید کردیا ہے ۔ عورتوں کو گھروں سے اٹھا کر ان کی عزتوں کو پامال کیا ۔ لاکھوں کشمیر ی آزادی کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں اور پوری کشمیری قیادت جیلوں میں بند ہے لیکن ہماری حکومت عوام کے جذبات کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے تقریروں اور بیانات سے آگے نہیں بڑھ سکی ۔ ترجمان اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل سٹیفن ڈیوجیراک نے کہا ہے سوپور واقعے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں ۔ قتل میں جو بھی ملوث ہے اسے سزا ملنی چاہیے ۔ دنیا میں ہر جگہ لوگوں کو اپنے حقوق کیلئے آزادانہ احتجاج کا حق ملنا چاہئے ۔ عرب ٹی وی نے بھی واقعے کی مکمل رپورٹ دکھا کربھارتی سفاکیت کا پول کھول دیا جس پر بھارت کو بین الاقوامی سطح پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ایک طرف مقبوضہ وادی کے شہری علاقوں میں کرفیو کی پابندیاں ہیں تو دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور آزاد عالمی میڈیا کو وادی میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا ۔ دوسرے ممالک کے پارلیمنٹیرین کو تو کجا‘ اپنے ملک کی اپوزیشن کے عوامی نمائندوں کے داخلے پر بھی پابندی ہے ۔ وادی میں بھارتی فورسز کے نہتے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا بہت سا حصہ دنیا کے سامنے نہیں آسکتا جو کچھ سامنے آتا ہے‘ وہ بھی انسانی ضمیر کو جھنجوڑنے کیلئے کافی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز ظلم وجبر کے تمام حربے اور ہتھکنڈے آزما رہی ہیں ‘ بھارت کے اندر سے بھی اقلیتوں کے حوالے سے خیر کی خبریں نہیں آرہیں ۔ انسانیت کی تذلیل، بھارت کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظی میں آخر کب تک خاموش رہیں گی ۔ انہیں آواز اٹھانا ہوگی ۔ کشمیریوں کےلئے آواز اٹھانا انسانی تقاضا ہے اور پاکستان اس واقعے کو ہر فورم پر اٹھائے گا ۔