- الإعلانات -

کشمیری آزادی حاصل کر کے ہی رہیں گے

بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے چند روز قبل برہان وانی کی شہادت پر کامیاب ہڑتال پر کہا کہ ایک بار پھر ثابت ہو گیا کاپنے مادر وطن کی بھارتی تسلط سے آزادی کا کشمیریوں کا عزم زندہ و اٹل ہے ۔ کشمیریوں کےحق خود ارادیت سے مسلسل انکار انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے ۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کشمیر تنازعہ کے پرامن حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔

مقبوضہ وادی کشمیر کے پانچ اضلاع میں غیر مقامی لوگوں کو 3ہزار دو سو سے زائد ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے ہیں جس کے تحت وہ مقبوضہ علاقے میں زمین خریدنے اور ملازمتوں کیلئے درخواست دینے کے اہل ہو گئے ہیں ۔ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے جس کا مقصد جموں وکشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی انتظامیہ کووادی کشمیر کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کیلئے تقریبا 10ہزار درخواستیں موصول ہوچکی ہیں جبکہ کپواڑہ ، کولگام ، پلوامہ ، گاندربل اور بانڈی پورہ اضلاع میں 3200 سے زائد افراد کو سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے ہیں ۔ سب سے زیادہ 1433 ڈومیسائل سرٹیفکیٹ ضلع کپواڑہ میں جاری کیے گئے ہیں جہاں انتظامیہ کو اس سلسلے میں تقریبا 5200 درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔ سرینگر ، بڈگام ، بارہمولہ ، شوپیاں ، اور اسلام آباد کے اضلاع سے متعلق اعداد و شمار جمع نہیں کیے جاسکے کیونکہ متعلقہ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمشنروں نے گذشتہ پانچ روز سے کشمیر مانیٹر کی طرف سے بار باررابطہ کی کوشش کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ بھارت نے ایک بار پھر کشمیریوں کا حق غضب کرنے کی مذموم سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا سلسلہ شروع کردیا یعنی مودی سرکار نے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر کا ڈومسائل جاری کرنا شروع کردیا ہے ۔ یہ ڈومیسائل غیر کشمیریوں سمیت دیگر بھارتی شہریوں کو دیئے گئے ہیں جن میں جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سر ٹیفکیٹ قانون کے تحت بھارتی سرکاری حکام بھی شامل ہیں جبکہ یہ ایک غیرقانونی اقدام اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن سمیت عالمی قانون کی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے ۔

مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت کی گارنٹی دینے والی آئینی شق دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو گزشتہ سال مودی سرکار نے بیک جنبش قلم ختم کردیا تھا ۔ ان آئینی شقوں کی رو سے مقبوضہ وادی میں کسی غیر کشمیری کو زمین خریدنے یا وہاں کی شہریت حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ سے اس قانون کو ختم کرنا چاہتی تھی تاکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے کشمیر پر سے کشمیریوں کا دعویٰ ختم کیا جاسکے ۔ لیکن اس کےلئے کئی مجبوریاں آڑے آرہی تھیں ۔ آزادی سے لے کر آج تک کسی بھی حکومت کو آئین کے آرٹیکل 370 کو تبدیل کرنے کی ہمت نہیں ہوئی ۔ کیونکہ اس دفعہ کو صرف اس وقت تبدیل کیا جاسکتا ہے جب دفعہ میں تبدیلی کے تقاضے پورے ہوں اور ریاست کی مرضی اس میں شامل ہو جس کی ترجمانی وہاں کی ریاستی اسمبلی کرتی ہے ۔ دفعہ میں تبدیلی صرف ریاستی اسمبلی کی سفارشوں پر کی جاسکتی ہے، مرکز اس کا مجاز نہیں ہے ۔ لیکن مودی نے آئین کو توڑتے ہوئے یہ اقدام کیا ۔ پاکستان نے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل دینے کے بھارتی حکومت کے اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے اس موقف کی تائید ہے کہ بھارت آرایس ایس اور بی جے پی کے ہندو توا ایجنڈے پرعملدرآمد اورکشمیریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں بدل کر مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سازش کررہاہے ۔ بھارتی حکومت ایسے اقدامات سے کشمیریوں کوان کے منصفانہ حق خودارادیت سے محروم کرنا چاہتی ہے جس کا وعدہ اْن سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں بھی کیاگیاہے ۔ دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے پاکستان حکومت و عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ فوجی کارروائیوں ، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی مسلسل سنگین خلاف ورزیوں سمیت ظالمانہ کارروائیوں کے ذریعے بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپناغیرقانونی تسلط جاری رکھناچاہتاہے ۔ اقوام متحدہ اورعالمی برادری کو اس صورتحال کانوٹس لیتے ہوئے بھارت کومقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کی تبدیلی سے روکنا چاہیے اور غیرکشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر کے جاری کئے گئے تمام غیرقانونی ڈومیسائل سرٹیفکیٹس فوری طورپرمنسوخ کئے جائیں ۔

بھارت نے اسرائیل کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی ہیت، آبادی کا تناسب تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے نئے ڈومیسائل قانون کا اطلاق شروع کر دیا ۔ مودی سرکاری نے مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل اجراء کا آغاز سرکاری افسران سے کیا ہے ۔ بھارتی ایڈمنسٹریٹو سروس کے آفیسر نوین چوھدری کو مقبوضہ کشمیر کا پہلا ڈومیسائل جاری کیا گیا ہے ۔ سرکاری آفیسر کا تعلق ریاست بہار سے ہے ۔ نوین چوھدری کو 24 جون کو ضلع جموں کے گاؤں گاندھی نگر کے پتے پر ڈومیسائل اجراء کیا گیا ۔

حریت رہنماؤں اور سکھ تنظیموں نے نوٹیفکیشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جموں و کشمیر کے عوام سے ان کی شناخت، زمین اور قدرتی وسائل سمیت سب کچھ چھیننے کے درپے ہے ۔ دنیا کرونا وائرس سے لڑ رہی ہے جبکہ بھارتی حکمران کشمیریوں کے حقوق غصب کر رہے ہیں ۔ ڈومیسائل قانون میں تبدیلی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے بھارت کے اس اقدام کو جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا تعین کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا ۔