- الإعلانات -

کشمیر دوایٹمی قوتوں کے درمیان نیوکلیئر فلش پوائنٹ

مقبوضہ کشمیرمتنازعہ حیثیت کی وجہ سے جنوبی ایشاء کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک نیوکلئیر فلیش پوائینٹ بنا ہوا ہے ۔ اسی وجہ سے خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے دنیا کو تشویش لاحق ہے ۔ اس مسئلے کا واحد حل صرف سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہی ہوسکتا ہے ۔ حریت راہنماؤں نے تنازعہ کشمیر کے پْرامن تصفیے کے لیے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام نے پچھلے 72برسوں سے بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں ۔ ریاست جموں کشمیر بالخصوص جنوبی کشمیر میں بھارت کی قابض افواج رات کے سناٹے اور گھپ اندھیرے میں چھاپہ مار کارروائیوں کے ذریعے عام لوگوں کو ذہنی تناوَ اور خوف وہراس میں مبتلا کرتی ہے ۔ ان کارروائیوں سے مقامی آبادی کی زندگی کو جہنم زار بنایا گیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی سنگیں صورتحال کے پیش نظر بھارتی قیادت کے دوہرے معیار پر عالمی ادارے حرکت میں نہیں آتے ۔ آئین ہند کی شق370کے خاتمے کے بعد مقبوضہ وادی میں سنگین صورتحال بن چکی ہے ۔ دنیا بھر میں جس انداز میں مودی کے اس ہٹ دھرم فیصلے کی مذمت کی گئی اس تناظر میں کیا عالمی اداروں کا فرض نہیں بنتا کہ بھارتی قیادت کی باز پرس کی جائے ۔ جمہوری و سیکولر بھارت کی دعویدار قیادت سے پوچھنا چاہیے کہ مقبوضہ وادی کے کشمیری رہنماءوں کو کیوں گرفتار کیا گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرارداوں کے منافی دفعہ 144کے نفاذ کا کیا جواز ہے ۔ کیا مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا نفاذ غیر معمولی عمل نہیں اس وقت کشمیر میں صورتحال اسقدر سنگین ہو چکی ہے کہ آج کشمیر میں لاک ڈاءون کو ایک سال ہونے والا ہے ۔ کشمیر کے لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ۔ پری پیڈ‘ایس ایم ایس اور انٹر نیٹ نظام تک معطل ہے ۔ مقبوضہ وادی کے چپے چپے پر انڈین فورسز تعینات ہیں اور اسی لاکھ کشمیریوں کے شب و روز اذیت سے دوچار ہیں ۔ پورے بھارت میں جس انداز میں انسانی بنیادی حقوق کی پامالی کیا جا رہاہے یہ عمل خود بھارت کی حکومت اور اس کی عوام کے لئے زہر قاتل بنتا جا رہا ہے ۔ 5 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں اسی لاکھ کشمیریوں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں کو 9لاکھ فوج کے ذریعے کرفیو لگا کر محصور کردیا گیاہے ۔ 80لاکھ لوگوں کو جانوروں کی طرح بند کیا ہوا ہے ۔ اسی لاکھ جانوروں کواگر ایسے قید کیا جاتا تو مغرب میں شور مچ جاتا ۔ اگر 8لاکھ یہودی اس طرح محصور ہوں تو کیا ہوگا;238; ۔ یہ تو آج کی رپورٹس ہیں ۔ ماضی میں بھی کشمیریوں نے ہمیشہ بھارتی مظالم ہی سہے ہیں ۔ پچھلے تیس سالوں میں ایک لاکھ کشمیریوں کوشہید اور گیارہ ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے اور یہ اقوام متحدہ کی رپورٹس ہیں ۔ بھارت نے اقوام متحدہ کی 11قراردادوں کی خلاف وزری کرکے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کی ۔ دنیا نے سوچا کہ مقبوضہ کشمیر میں خونریزی کا کشمیریوں پر کیا اثر ہوگا ;238;بھارت کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ اگر اس نے کشمیریوں کے حق میں دنیا کی آوازپر کان نہ دھرے تو کشمیر سمیت خطے کے حالات مزید بگڑ جائیں گے اور پھر یہ نہ تو مودی اور نہ ہی ہمارے قابو میں رہیں گے اور ایک جوہری جنگ کا خدشہ بڑھتا جائےگا ۔ مقبوضہ کشمیر میں جو ہو رہا ہے وہ بد سے بدتر ہوتا جائیگا جوکہ یہ انتہائی خطرناک ہے ۔ جب کرفیو ہٹے گا تو وادی کے حالات کھل کر دنیا کے سامنے آجائینگے کیونکہ بھارتی فورسز اور کشمیریوں کے درمیان تصادم ہوگا جس کی وجہ سے بھارتی فورسز کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر کشمیریوں کا قتل عام ہوگا ۔ کشمیری کئی سال سے حق خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہندووَں کی اجارہ داری پر یقین رکھتے ہیں اور انتہا پسند افراد بھارت کو یرغمال بنا کر وہاں حکومت کر رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا دنیا کومقبوضہ کشمیر میں کرفیوختم کرانے کے بعد انسانی حقوق کی صورتحال کی سنگینی کوسمجھنے کی ضرورت ہے ۔ مقبوضہ وادی میں نولاکھ فوج کی موجودگی سے صورتحال کیسے بہتر ہوسکتی ہے ۔ بھارت کایہ بیانیہ قطعی غلط اورمضحکہ خیز ہے کہ اس نے کشمیریوں کی خوشحالی کے لئے مقبوضہ وادی میں فوج تعینات کررکھی ہے ۔ اقوام متحدہ پاکستان بھارت مذاکرات یقینی بناسکتا ہے ۔ تنازع کا کوئی بھی سیاسی حل کشمیریوں کے انسانی حقوق کا ضامن ہونا چاہیے ۔ خود ہ میں پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کا سامناہے ۔ کلھبوشن بلوچستان میں دہشت گردی کرتا پکڑا گیا ۔ مودی آر ایس ایس کا لاءف ٹائم ممبر ہے اور آر ایس ایس وہ جماعت ہے جس کی بنیاد ہٹلر اور میسولینی کے نظریات پر ہے ۔ آر ایس ایس بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں سے نفرت کرتی ہے اور یہ بات سرعام کی جاتی ہے ۔ آر ایس ایس نے گاندھی کو قتل کیا تھا ۔ ان کا نظریہ نفرت اور قتل وغارت پر مبنی ہے ۔ انتہا پسند مودی اور آر ایس ایس کی تعریف یہ ہے کہ جب مودی گجرات کا وزیر اعلیٰ بنا تو اس آر ایس ایس نے گجرات میں دوہزار سے زائد مسلمانوں کوقتل کردیا تھا ۔ بھارتی سیاسی جماعت کانگریس نے آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظیم قراردیاتھا ۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے دوران 13ہزار نوجوانوں کوگرفتار کیا گیا ۔ بھارتی مظالم کے باعث جب کوئی واقعہ ہوگا تو بھارت اس کا الزام پھر پاکستان پر لگائے گا ۔ کیا بھارت سمجھتاہے کہ کشمیری غیر قانونی اقدام تسلیم کرلیں گے;238;پیلٹ گنز کے استعمال سے نوجوانوں کی بینائی چھینی جارہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں نو لاکھ بھارتی فوجی کیا کررہے ہیں ;238;آخر کار بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانا ہوگا اور سیاسی قیدی رہا کرنا ہونگے ۔ کشمیریوں کوحق خود ارادیت دینا پڑے گا ۔