- الإعلانات -

کووڈ 19کے بعد کی دنےا

اےسی صورتحال مےں جبکہ ہر جانب اداسی اور خوف نے ڈےرے ڈال رکھے ہوں ،نظام زندگی مفلوج ناگفتہ بہ اور معاملات زندگی درہم برہم ہوں تو کچھ بھی لکھنے کو جی نہےں چاہتا لےکن قانون فطرت ہے کہ مہےب تےرگی کے باوجود امےد آمد سحر کبھی ختم نہےں ہوتی ۔ انتشار اور بے چےنی کے ہر مرحلے مےں اےک امےد ہی وہ منفرد خاصےت ہے جو ہر مشکل کو آسان بنا دےتی ہے ۔ کووڈ19کی تباہ کارےاں تھمنے کا نام نہےں لے رہی ہےں اور پوری دنےا اس وقت اس مہلک وائرس سے بچنے کے جتن کر رہی ہے ۔ ساری عالمی طاقتےں بے بسی کے عالم مےں اب بس دعا کر رہی ہےں کہ کس طرح دنےا کے سائنس دان کوئی وےکسےن تےار کر لےں جو زندگی کی ڈور کاٹنے والے اس موت کے پےامبر سے نجات دے سکے ۔ اب کورونا وائرس کے بعد کی دنےا کچھ اےسی دکھائی دےتی ہے جس مےں اےک اےسے بےن الاقوامی معاشرے کا تصور ابھر رہا ہے ،جسے معےشت کی بنا پر استوار کےا جائے ےعنی معاشرت کے مذہبی ،تہذےبی اور ثقافتی تصورات و نظرےات کو اب فرسودہ تسلےم کر لےا جائے اور نظرےاتی سرحدوں سے آزاد اےک اےسا بےن الاقوامی معاشرہ وجود مےں لاےا جائے جس مےں اس کرہ ارض کے کچھ انسانوں کو اپنے ہی ہم جنس انسانوں کی بقاء و سلامتی محض اس بنا پر درکار ہو کہ ان کے مستقل گاہک بنے رہےں اور بےن الاقوامی ادارے اےسے پروگرام تشکےل دےں جن کے ذرےعے ان مستقل گاہکوں کے اندر قوت خرےد کو مستقل بنےادوں پر زندہ رکھا جا سکے حالات کچھ اےسی سمت بڑھ رہے ہےں کہ ’’وار اکانومی‘‘ جےسی اصطلاحات کے بعد اب ’’ڈےتھ اکانومی‘‘ جےسی اصطلاحات متعارف ہو سکتی ہےں ۔ ےہ بھی تو ممکن ہے زندگی کو بچانے والے آلات کی تخلےق کے بجائے کچھ معاشروں کی معےشت کو وسےع پےمانے پر ہونے والی اموات کے سہارے پنپنے لگےں ۔ ادوےات سازی،ماسک ،ٹےسٹنگ کٹس ،وائرس سے محفوظ لباس جےسی صنعتوں کو فروغ حاصل ہو جائے ۔ آج دنےا کی بڑی طاقتےں بے بسی کی مورت بن چکی ہےں ۔ دنےا مےں ہر جانب سے عالمی لےڈروں کے رول پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہےں اور ےہ صدائےں بلند ہونے لگی ہےں کہ کےوں دنےا اےک دوسرے کو تباہ کرنے کےلئے ہتھےاروں کی دوڑ مےں لگی ہوئی تھی جبکہ لوگ دو وقت کی روٹی کے محتاج تھے اور کس طرح سرماےہ دارانہ نظام نے امےر ممالک کے درمےان مسابقت کی دوڑ کو جنم دےا اور کس طرح قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک مےں غرےب لوگوں کو مفلسی کی انتہا تک پہنچا دےا گےا ۔ مساوات، دولت کی منصفانہ تقسےم اور سماج و کمےونٹی کے تصورات پر اےک بار پھر بات ہونے لگی ہے ۔ اب تو بہت حد تک واضح ہو چکا ہے کہ کرہ ارض وباءوں کی زد مےں ہے جس کے باعث دفاع کے متعلق نئے نظرےات جنم لےں گے ۔ بڑی طاقتوں نے اپنی اجارہ دارےاں قائم کرنے کےلئے جو جال بچھا رکھے ہےں وہ سر دست (out dated)ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہےں ۔ مستقبل مےں شائد مہلک ہتھےاروں کا بہانہ بنا کر کسی بھی ملک پر حملہ آور ہونے کی ضرورت ہی پےش نہ آئے کہ ہر قسم کے حملے سے پہلے قدرت ہی کسی نئے انداز سے حملہ آور ہو جائے ۔ دنےا مےں کووڈ19کا وائرس بڑی تےزی سے سر گرم ہے ۔ مسلح افواج کی ذمہ دارےاں اور ان کی نوعےت تبدےل ہوتی محسوس ہو رہی ہے ۔ ممکن ہے اب مسلح افوج کو اےک دوسرے ممالک پر حملہ کےلئے پےش قدمی کی ضرورت ہی پےش نہ آئے اور ہتھےاروں کی بجائے اوزاروں کی ضرورت آ پڑے ۔ ٹےکنالوجی کی شاہراہ پر ےہ انوکھے سفر کا آغاز نہےں ہو گا کہ انسان کو ہلاک کرنے والے ہتھےاروں کی اےجاد کی بجائے انسانوں کو بچانے والے آلات تخلےق کئے جانے لگےں ۔ گو کہ کورونا کی مصےبت ٹل جانے کے بعد صنعت و تجارت اور اےجادات کے اصول ےکسر تبدےل نہےں ہوں گے لےکن لوگ اب تجارت کے دوران ہمدردی اور انسان دوستی کی اہمےت سمجھنے لگے ہےں ۔ موجودہ عالمگےر وباء نے اس بے رحم اور سنگدل مسابقتی نظام کے نقاءص کو لاکھ پردوں سے باہر نکال کر عےاں کر دےا ہے اور دنےا پر اب ےہ حقےقت منکشف ہو چکی ہے کہ کس طرح منافع کمانے کےلئے انسانی رشتوں ،انسانی احساسات اور انسان و ماحولےات کے درمےان انتہائی نازک رشتوں کو کچلا جا رہا تھا ۔ ےہ وبا ء ےہ ناقابل تردےد حقےقت بھی سامنے لانے کا باعث بنی ہے کہ جہاں رےاستےں صرف موت و تباہی کے سامان بنانے مےں لگی ہوئی تھےں وہےں عوامی فلاح و بہبود پر کوئی توجہ نہےں دی جا رہی تھی اور کس طرح خواہشات کا گلا گھونٹ کر ان پر سرماےہ داری کے محل تعمےر کئے جا رہے تھے ۔ اب عالمی طاقتوں کی چودھراہٹ رہی اور نہ ہی حرب و ضرب ۔ بے بسی و لاچاری ہے ۔ جس طرح گزشتہ دہائےوں مےں موت و حےات اور تباہی و بربادی کا کھےل کھےلا گےا ۔ آبادےوں کو بم و بارود سے اڑا دےا گےا وہ کسی جرم عظےم سے کم نہ تھا لےکن نشے مےں چور طاقتوں کو وہ قتل عام نظر نہ آئے ۔ آج جب اس وبائی بےماری سے لوگ مر رہے ہےں اور ترقی ےافتہ ممالک مےں تو کئی کئی روز تک انسانی لاشےں بے گوروکفن پڑی رہتی ہےں تو دنےا کے لوگوں کو مرنے کا درد محسوس ہونے لگا ہے لےکن وہ وقت بھی ےاد کرےں جب انہی طاقتوں کے تباہ کن ہتھےاروں سے شہروں کے شہر تباہ ہوئے اور ہر سو انسانی لاشےں بکھر رہی تھےں ۔ اب دنےا کو جنگی ہتھےار بنانے کی بجائے سب سے زےادہ ترجےح صحت عامہ کو دےنا ہو گی ۔ اب اسی ےاد دہانی کی ضرورت ہے کہ بم و بارود اپنی جگہ لےکن سب سے زےادہ اہمےت کی حامل زندگی ہی ہے ۔ بم و بارود ،جنگی جہازوں ،سماعت شکن توپوں اور جنگی بحری بےڑوں نے تو انسانےت کا کوئی بھلا نہےں کےا ۔ ہتھےاروں کی دوڑ مےں اول نمبر پر رہنا کوئی فخر کی بات نہےں رہی ۔ کورونا وائرس جانوروں سے انسانوں مےں منتقل ہوا ہے اب جن چوپائےوں ،مال موےشےوں اور پرندوں کے قرب مےں انسان رہتا ہے ان کی صحت پر بھی نظر رکھی جائے گی ۔ جب خطرہ اتنا عام ہو جائے کہ پوری دنےا کو ہی اپنی گرفت مےں لے لے تو پھر تمام راستے اےک ہی طرف جانے اور سب کی منزل اےک ہی قرار پاتی ہے ۔ ےہی وجہ ہے کہ آج سعودی عرب اور ےمن کی جنگ بند ہو چکی ہے ۔ اےران امرےکہ اور سعودی کشمکش مےں بھی شدت دکھائی نہےں دے رہی ۔ ہلاکت خےز مےزائل برسانے والے ڈرونز کے ذرےعے اب جراثےم کش سپرے کےا جا رہا ہے ۔ آج کی دنےا مےں مقابلاتی سکت اور مستحکم معاشی نشوونما کے حصول کی کشمکش بھی جاری ہے ۔ خاص طور پر چےن اور امرےکہ کے درمےان چپقلشےں بڑھ رہی ہےں ۔ امرےکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مسلسل الزام تراشی کہ کورونا وائرس کی وباء بنےادی طور پر چےن کے شہر ووہان مےں قائم تجربہ گاہ سے دنےا مےں پھےلی لےکن اس حوالے سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کسی بھی قسم کا ثبوت پےش کرنے سے قاصر رہے ۔ عالمی کھےل کے خفےہ معاملات ہمےشہ خفےہ ہی نہےں رہتے ۔ جلد ےا بدےر راز کھل جاتے ہےں اور پتہ چل جاتا ہے کہ کب کس کے ساتھ کےا کےا جا رہا تھا ۔ دراصل چےن آج کی مسابقتی دوڑ مےں کورونا وائرس سے سب سے زےادہ اٹھانے وال ملک ہے ۔ چےن اےک بڑی معےشت کی حےثےت سے سامنے آ رہا ہے اور اس نے فوجی طور پر بھی بہت زےادہ قوت حاصل کر لی ہے ۔ آج کے دور مےں بہت سے ممالک کے پاس جوہری ہتھےاروں کے ذخائر موجود ہےں ۔ امرےکہ ،روس اور چےن کے درمےان تعلقات اگرچہ بہتر اور معےاری نہےں لےکن موجودہ حالات کے تناظر مےں ان کے درمےان کسی بھی قسم کے ٹکراءو اور جنگ کے امکانات موجود نہےں کےونکہ دنےا اےک نئی جنگ مےں مبتلا ہے اور ےہ صرف اپنی اپنی سروائےول کی جنگ ہے ۔