کالم

پاکستان میں ٹی بی کی صورتحال

میری عمر صرف دس برس کی تھی جب مجھے پتہ چلا کہ مجھے ٹی بی کا مرض لاحق ہوگیا ہے میں یہ تو نہیں جانتی تھی کہ ٹی بی کیا ہوتی ہے اور یہ کس قسم کی بیماری ہے مجھے تو صرف اپنی ماں کا ڈاکٹر کے سامنے پیلا اور زرد ہوتا چہرہ یاد ہے مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میری ماں کی ٓواز بہت کمزور اور آہستہ ہوچکی تھی جب ڈاکٹر ان کو میرے بیماری کے بارے میں بتا رہے تھے میری امی کے چہرے پر پریشانی اس قدر نمایاں ہوچکی تھی کہ وہ تقریبا رو ہی رہی تھیں جب ڈاکٹر سے وہ پوچھ رہی تھیں کہ کیا ٹی بی کا علاج بھی ممکن ہے اور یہ کتنا مہنگا علاج ہے؟

ڈاکٹر صاحب نے میری ماں کو بتایا کہ ٹی بی کا علاج میرا حق ہے اور یہ نہ صرف بالکل مفت ہے بلکہ مکمل قابل علاج بھی ہے۔

میری ماں کو کچھ ڈھارس بندھی اور وہ مجھے گھر لے آییں۔ انتہایی خاموشی اور دکھ سے انہوں نے نے مجھے دیکھا اور تنہا کمرے میں لے جاکر لٹادیا۔ امی نے کہا ابھی کچھ عرصے کے لیے میں نہ تو سکول جاسکتی ہوں اور نہ کسی سے مل سکتی ہوں نہ گھر میں بہن بھاییوں ، یا دیگر افراد سے اور نہ ہی گھر سےباہر اپنی سہیلیوں سے کھیل سکتی ہوں اور نہ میں کسی کو بتاوں کہ مجھے ڈاکٹر نے کس بیماری کے بارے میں بتایا ہے ۔ سچی بات تو یہ پے کہ دس سال کی عمر میں بچوں کو کیا علم ہے کہ ٹی بی کیا بیماری ہے؟

میرا علاج تو شروع ہو گیا بہت زیادہ لمبا چوڑا علاج تو نہیں تھا لیکن بہت مستقل اور پابندی سے رہنے والا کچھ عرصے پر مشتمل علاج تھا۔ اسی دوران میرا سکول ختم ہوچکا تھا میرے بچپن کے دوست، کھیل،سیر و تفریح سب کچھ ختم ہوچکا تھا میں سارا دن یا تو ٹی وی دیکھتی یا پھر اکیلے میں کچھ نہ کچھ پڑھنے سیکھنے کی کوشش کرتی۔ امی نے اور گھر والوں نے بہت ساتھ دیا ایک لمحے کے لیے بھی محسوس نہ ہونے دیا کہ مجھے کتنی خطرناک بیماری ہے جس کا علاج جاری ہے۔

میری بیماری کے آغاز میں ہی امی کی ملاقات دو پاسی فاونڈیشن کے لوگوں سے ہوگیی جو کہ پاکستان میں ٹی بی جیسی بیماری کے خاتمے، اس کے علاج اور آگاہی کے لیے کام کرتے ہیں۔ دو پاسی فاونڈیشن سے ملاقات کےبعد میری امی بہت مطمین نظر آنے لگیں اور وہ مجھے کہتی کہ یہ کویی خطرناک یا لاعلاھ مرض نہیں ہے بلکہ مجھے دواییاں بھی مفت ملنے میں دوپاسی فاونڈیشن کا بڑا ہاتھ تھا۔

یہ کہانی ہے چودہ سالہ شمایلہ کی جس نے ٹی بی جیسی خطرناک بیماری کو نہ صرف شکست دی ہے بلکہ اپنا سکول،تعلیم اور سوشل لایف کا باقاعدہ آغاز بھی کردیا ہے۔ شمایلہ سے میری ملاقات دوپاسی فاونڈیشن کے اسلام آباد کے ایک سیمینار میں ہویی جہاں شمایلہ کی طرح ٹی بی سے کامیاب جنگ جیتنے والے ہر عمر کے خواتین و حضرات اپنی اپنی کامیابی کی کہانی سنارہے تھے کہ کس طرح اس بیماری نے ان کی زندگی کو تقریبا مفلوج کردیا تھا کچھ افراد کو نہ صرف نوکریوں اور کاروبار سے ہاتھ دھونے پڑے بلکہ ازدواجی رشتے بھی استوار ہوتے ہوتے رہ گیے تھے لیکن دوپاسی فاونڈیشن نے نہ صرف ان کو اس مرض کے بارے میں آگاہی دی بلکہ اس کے علاج اور دواییوں کےمفت حصول کے لیے بھی ان کی مکمل امداد کی۔

ٹی بھی کا مرض ہے کیا اور پاکستان میں اس کی کیا شرح ہے اس کا علاج مفت اور قانونی حق ہے یہ سب اس سیمینار میں مجھے پتہ چلا ۔ دوپاسی فاونڈیشن پاکستان میں اس مرض کے مکمل خاتمے کے لیے ، عوام کو اس کے مفت اور مکمل علاج کے لیے آگاہی کا کام کررہی ہے اور عوام میں یہ شعور بھی بیدار کررہی ہے کہ ٹی بی کا مفت علاج ان کا قانونی حق ہے۔

ٹی بی کے علاج کے لیے کچھ مریضوں کو ہسپتال بھی داخل رہنا پڑتا ہے یہ ان کے مرض کی شدت پر منحصر ہے کہ ان کو کتنا عرصہ ہسپتال میں رہ کر علاج کروانا پڑے گا جیسا کہ دس برس کی شمایلہ کو صرف دو ماہ کے لیے ہسپتال داخل رہنا پڑا اور اس دوران وہ اتنی کمزور ہوچکی تھی کہ اس کی والدہ اس کو باتھ روم تک لے جاتی اور اس کی صفایی کا سارا خیال خود رکھتی تھی۔ ٹی بی کے مریض کو جب مرض کا پتہ چل جاتا ہے تو ڈاکٹر ہی صحیح بتاسکتے ہیں کہ اس کا علاج کتنے عرصے پر مشتمل ہوگا اور کسطرح ہوگاَ ؟ ٹی بی کے بہت سے مریض ڈاکٹر کی بتایی گیی دواییوں پر گھر میں بھی علاج کرسکتے پیں اس کے ٹیسٹ کے بعد اس کی دوایی مفت میں شروع ہوجاتی ہے اور ڈاکٹر کے نسخے پر آسانی سے کسی بھی میڈیکل سٹور سے لی جاسکتی ہے۔

دوپاسی فاونڈیشن کے اسی سیمینار مین ماہرین نے بتایا کہ ٹی بی آج بھی دنیا بھر میں دوسری بڑی بیماری ہے جو مکمل قابل علاج ہونے کے بعد بھی انتہایی آسانی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پہنچ سکتی ہے اور اس انفیکشن سے دنیا بھر مین اموات کی شرح دوسرے نمبر پر پے۔

دنیا بھر میں ٹی بھی کے مرض سے سالانہ بیس لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں جن میں صرف پاکستان میں ٹی بھی کے چھ لاکھ نیے کیسز سامنے آتے ہیں اور ٹی بی سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریبا چوالیس ہزار سالانہ ہے جبکہ تقریبا ستاییس ہزار مریضون کو علاج کی سہولیات فراہم ہوتی ہیں اس حوالے سے ٹی بی کے مرض میں پاکستان کا دنیا بھر میں پانچواں نمبر ہے اور یہ ورلڈ ہیلتھ آرگنایزیشن کے مطابق مشرقی بحیرہ روم کےان باییس ممالک میں آتا ہے جہاں یہ مرض تقریبا ساٹھ فیصد ہے اور پاکستان میں اس کے علاج اور عام آگایی کے لیے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ٹی بی کے مرض کے خاتمے کے لیے اور ایس ‍‍ڈ‌‌ی جی گول 2030کو حاصل کرنے کے لیے وفاقی، صوبایی حکومتوں کو عوامی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے ہر صوبے کے ہر شہر ہر گاوں اور محلہ کمیٹی کی سطح تک اس مرض کی آگایی اس کے مفت علاج اور علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں سول سوسایٹی کو بھی اپنا کردار احسن طریقے سے نبھانا ہوگا ایک اجتماعی کوشش سے ہی ہم ایس جی ڈی کے مقاصد میں صحت کے اس مسلے پر قابو پاسکتے ہیں۔ اور جب سول سوسایٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیوں کے کردار کی بات کی جایے تو صحت کے حوالے سے اور ٹی بی جیسے موزی مرض کے مکمل خاتمے، عوام میں اس کے مکمل مفت اور قابل علاج مرض کے قانونی حق کے لیے آگاہی کی بات کی جایے تو صرف دو پاسی فاونڈیشن کا نام ہی سامنے آتا ہے جو کہ پاکستان بھر میں ہر صوبےاور وفاقی سطح پرعوام میں ٹی بی کے مرض سے بچنے اور بلا تفریق عمر و جنس کے اس کے علاج بارے شعور و آگاہی کے لیے دن رات کوشاں اور مصروف عمل ہے اور پاکستانیوں کو ٹی بی سے بچانے کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کرہی ہے جو کہ قابل ستایش ہے اور صحت کے حوالے سے ملک بھر میں کام کرنے والی دوسری تنظیموں کے لیے ایک عمدہ مثال بھی ہے۔
دنیا بھر میں ٹی بھی کے مرض سے سالانہ بیس لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں جن میں صرف پاکستان میں ٹی بھی کے چھ لاکھ نیے کیسز سامنے آتے ہیں اور ٹی بی سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریبا چوالیس ہزار سالانہ ہے جبکہ تقریبا ستاییس ہزار مریضون کو علاج کی سہولیات فراہم ہوتی ہیں اس حوالے سے ٹی بی کے مرض میں پاکستان کا دنیا بھر میں پانچواں نمبر ہے اور یہ ورلڈ ہیلتھ آرگنایزیشن کے مطابق مشرقی بحیرہ روم کےان باییس ممالک میں آتا ہے جہاں یہ مرض تقریبا ساٹھ فیصد ہے اور پاکستان میں اس کے علاج اور عام آگایی کے لیے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ٹی بی کے مرض کے خاتمے کے لیے اور ایس ‍‍ڈ‌‌ی جی گول 2030کو حاصل کرنے کے لیے وفاقی، صوبایی حکومتوں کو عوامی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے ہر صوبے کے ہر شہر ہر گاوں اور محلہ کمیٹی کی سطح تک اس مرض کی آگایی اس کے مفت علاج اور علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں سول سوسایٹی کو بھی اپنا کردار احسن طریقے سے نبھانا ہوگا ایک اجتماعی کوشش سے ہی ہم ایس جی ڈی کے مقاصد میں صحت کے اس مسلے پر قابو پاسکتے ہیں۔ اور جب سول سوسایٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیوں کے کردار کی بات کی جایے تو صحت کے حوالے سے اور ٹی بی جیسے موزی مرض کے مکمل خاتمے، عوام میں اس کے مکمل مفت اور قابل علاج مرض کے قانونی حق کے لیے آگاہی کی بات کی جایے تو صرف دو پاسی فاونڈیشن کا نام ہی سامنے آتا ہے جو کہ پاکستان بھر میں ہر صوبےاور وفاقی سطح پرعوام میں ٹی بی کے مرض سے بچنے اور بلا تفریق عمر و جنس کے اس کے علاج بارے شعور و آگاہی کے لیے دن رات کوشاں اور مصروف عمل ہے اور پاکستانیوں کو ٹی بی سے بچانے کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کرہی ہے جو کہ قابل ستایش ہے اور صحت کے حوالے سے ملک بھر میں کام کرنے والی دوسری تنظیموں کے لیے ایک عمدہ مثال بھی ہے۔

عروج رضا صیامی۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔