کالم

تحریک پاکستان کے رہنما عبدالرحمان ملک ، انمٹ یادیں

talat abbas
یقینا ہر جی نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے کسی نے جلدی اور کسی نے دیر سے ۔ میرے بچوں کے نانا عبدالر حمان ملک بارہ فروری کوجہاں فانی سے کوچ کر گئے ۔ یاد ہے اس روز آپ کا سارا دن اچھا گزرا، شام کو فیملی کے ساتھ چائے پی، گپ شپ ہوئی ۔ شام کوآرام کی غرض بستر پر دراز ہو گئے ۔ آٹھ بجے کھانا کھانے کے لے جگایا گیا ،آوازیں دیں کوئی جواب نہ ملا ۔ قریبی اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ ا للہ کو پیارے ہو چکے ہیں ۔ اللہ آپ پر اتنا مہربان تھا کہ دنیا سے ابدی زندگی کا سفر بڑی خوش اسلوبی سے طے کرتے دیکھا جو بہت کم لوگوں نصیب ہوتا ہے ۔ قبر تک کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ اگلے روز عصر نماز کے بعد جنازہ ہوا ۔ اتنا خوبصورت آخرت کا سفر بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے ۔ وہ اکثر دعا کیاکرتے تھے اے اللہ کسی کا محتاج نہ کرنا ۔ یو ں لگا یہ دعا قبول کر لی گئی ہو ۔ چار جنوری کو 80سال کے ہوئے تھے ۔ دو ہفتے قبل تمام ٹیسٹ کرائے جو سب نارمل تھے ۔ کوئی بلڈ پریشر کوئی شوگر نام کی چیز نہیں تھی ۔ اچھا لباس اور اچھی خوراک کا شوق رکھا ۔ آپ علی گڑھ یونیورسٹی سے لا گریجویٹ تھے ۔ 1965راجوری مقبوضہ کشمیر سے پاکستان ہجرت کی ۔ پاکستانی کمانڈوز کو اپنے علاقے راجوری جہاں انکے سسر ذیلدار چوہدری نعمت للہ ملک نے تمام گاءوں نے ان کمانڈوز کا ساتھ دیاتھا ۔ گاءوں میں پاکستان کا پرچم لہرایا تھا لیکن کیا پتہ تھا کہ آزادی کا خواب ادھورا چھوڑ کر یہ واپس لوٹ جائیں گے ۔ ان کے جانے کے بعد بھارت نے اس گاءوں پر قیامت صغری ٰبرپا کر دی ۔ میری مسز کے نانا چوہدری نعمت ا للہ ملک کے سر کی قیمت بھارتی فوج نے اس وقت پچاس ہزار روپے مقرر کر رکھی تھی ۔ ان حالات کے پیش نظر اپنا گھر بار چھوڑ کر مشکل حالات میں نومبر 1965 میں میرپور آزاد کشمیر میں چوہدری نعمت للہ ملک کی قیادت میں پہنچے ۔ جہاں سے کچھ عرصے بعد گوجرانوالہ میں آباد ہوئے ۔ جہاں آج بھی چوہدری نعمت اللہ ملک کے نام سے کالونی اور مین شاہراہ کا نام آپ سے منسوب ہے ۔ وہ تحریک پاکستان کے نڈر بے باک رہنما اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے بانی رکن تھے ۔ 1965 میں کشمیر میں گوریلا تحریک کے انقلابی کونسل کے چیئرمین بنے ۔ آج بھی کشمیر کی آزادی کی تحریک آپ کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے ۔ انکل عبدالرحمان ملک نے اپنی پہلی کمائی سے گوجرانولہ کی مہاجر کشمیری بستی میں پہلا ہینڈ پمپ لگوایا ۔ ذوالفقار علی بھٹو اس وقت وزیرخارجہ ہوا کرتے ہیں ۔ اپ ان سے ملنے راولپنڈی پہنچے مگر بھٹو صاحب غیر ملکی دورے پر روانہ ہو چکے تھے ۔ بیگم نصرت بھٹو گھر پر تھیں ۔ ان سے اکثر رحمان ملک صاحب کی کوٹلی اور میر پور کے دورے پر ملاقات رہی ۔

محترمہ نصرت بھٹو نے گھر آمد پران کی خوب خاطر مدارت کی ۔ پھر آمد کی وجہ پوچھی نصرت بھٹو نے قیصر رشید چوہدری کو فون پر متعارف کرایا اور مجھ سے ملنے کو کہا ۔ قیصر صاحب کا تعلق بنگال سے تھا ۔ وہ بڑے اچھے اور خوش اخلاق انسان تھے ۔ بڑے گرم جوشی سے ملے ۔ انہوں نے پہلے 1965 کے حالات کے تناظر میں افسوس کا اظہار کیا ۔ چائے سے پلائی ۔ کہا سرکاری افسر کو چار سو روپے ملتے ہیں ۔ اگر میری مانے تو مشرقی پاکستان میں جانے کی تیاری کرو ۔ میں وہاں اچھی اور باعزت جاب دلا سکتا ہوں ۔ کچھ دنوں بعد میں نے قیصر صاحب کی آفر کو قبول کر لیا ۔ اس کے ایک ہفتے بعد مجھے بذریعہ ڈاک کراچی سے ڈھاکہ تک اور ڈھاکہ سے سلہٹ تک کا پی آئی اے کا ٹکٹ ملا ۔ ہوائی اڈے سے سیدھا قیصر صاحب کی پوش علاقے میں رہائش گاہ پہنچا ۔ پتہ چلا قیصر صاحب کراچی گئے ہوئے ہیں ۔ انکہ بیگم نے بہترین کھانا کھلایا ۔ رہنے کو رہائش دی ۔ اس دوران قیصرصاحب بھی کراچی سے تشریف لے آئے ۔ مجھے ڈھاکہ سے سلہٹ اپنے ساتھ جہاز میں لے کر گئے ۔ اسی فلاءٹ میں مولانا بھاشانی بھی تھے ۔ قیصرصاحب نے میرا تعارف مولانا بھاشانی سے کشمیر کے حوالے سے کرایا ،آپ نے ملکر خوشی کا اظہار کیا ۔ بھا شانی صاحب کسان مزدوروں اور غریبوں کے سچے ترجمان تھے ۔ میں مولانا بھاشانی کے اخلاق، سادگی ،بلند خیالات سے بہت متاثر ہوا ۔ سہلٹ میں میری توقعات سے بڑھ کر اچھی جاب ملی ۔ سوچا فیملی کو اپنے ساتھ بلا لوں گا لیکن وہ نہ مانے ۔ بنگلہ دیش کے حالات خراب ہونے پر مجھے چار ماہ کی ایڈوانس تنخواہ کے ساتھ جلد کراچی جانے کو کہا گیا ۔ اگر وہاں رہتا تو شائد دنیا سے رخصت ہو چکا ہوتا ۔ بس اس ذات کا مجھ پر کرم تھا کہ خیر خریت سے اپنوں میں لوٹ آیا ۔

انکل عبدالرحمان ملک ڈپٹی کمشنر آزاد کشمیر اور آخری جاب بطور ڈپٹی الیکشن کمشنر رہے ۔ دو کتابوں روداد افغانستان اور سوانح حیات ذیلدار چوہدری نعمت اللہ ملک کے مصنف تھے ۔ کہا کرتے تھے کہ کشمیری عوام کشمیر کاز اور آزادی کی تحریک میں سنجیدہ نہیں رہے ۔ لیڈران نے کشمیر کی آزادی کو کمائی کا ذراءع بنا رکھا ہے ۔ مرحوم کو فارسی پر عبوررتھا ۔ نہایت سادہ طبیعت کے مالک ملنسار، مہمان نواز ،درویش صفت تھے ۔ فروٹ اور سبزی خریدتے ہوئے قیمت سے زیادہ پیسے ادا کرتے ۔ وہ کہا کرتے تھے ہ میں ان کی مدد ایسے کرنی چائیے کہ انہیں اس کا احساس نہ ہو کہ ہم ان کی مدد کر رہے ہیں ۔ کزن نے بتایا کہ مجھے کہا کہ دودھ والے کا حساب کر کے بتاءو اس کے کتنے پیسے بنتے ہیں ۔ ان کی زوجہ زبیدہ آنٹی نے بتایا کہ اس مہینے پانچ دن دودھ فروش نہیں آیا ۔ کہا کوئی بات نہیں اسے پورے پیسے دینگے اس لئے کہ اسے حساب کرنا نہیں آتا ۔ اصل میں ان کی نیت دودھ والے کی مالی مدد کرنا تھی ۔ وہ مدد کرنے کے بہانے تلاش کیاکرتے تھے ۔ وہ اکثر فوت ہو جانے والے عزیز اقارب کے لئے گھر پر ہر ماہ یتیم بچوں کے ساتھ ملکر قرآن کریم کا ختم شریف کراتے ۔ انکے ساتھ کھانا کھاتے ،مولانا صاحب کی مالی مدد کرتے اور سب کیلئے مغفرت کی دعا کراتے ۔ وہ حلال کمائی اور محنت پر یقین رکھتے تھے ۔ سب سے پیار اور شفقت سے پیش آتے ۔ دعا ہے اللہ انکی منزلیں آسان کرے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے ،عزیز و اقارب کو صبر و جمیل عطا فرمائے ۔ آمین

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔