اداریہ کالم

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کا ضابطہ اخلاق اور پیکا آرڈیننس

ملک کی صحافت کو جکڑنے اور پابند سلاسل کرنے کیلئے حکومت نے پیکا آرڈیننس کا نفاذ کردیا ہے جس پر صحافتی تنظیموں کو شدید ترین تحفظات ہیں اور قیاس یہ کیا جارہا ہے کہ حکومت اس آرڈیننس کے ذریعے کنٹرولڈ صحافت مروج کرنا چاہ رہی ہے ۔ صحافت کا شعبہ کسی بھی ملک کی سوچ کا آئینہ دار ہوا کرتا ہے اور اس کے ذریعے مثبت تنقید کرکے حکومت وقت کو آئینہ دکھلایا جاتاہے ،جمہوری ریاستوں میں صحافت کو چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے ۔ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح آزاد صحافت کو بے پناہ اہمیت دیا کرتے تھے اور ان کا ایک معروف قول ہے ’’قوموں کے عروج وزوال میں صحافت کا کردار بنیادی ہوا کرتا ہے ‘‘ مگر موجودہ حکومت اپنی قیام سے لیکر اب تک صحافت کوایک شکنجے میں کسنے میں کوشاں نظر آتی ہے ، گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کے اجلاس کے دوران شرکا نے پیکا ;200;رڈیننس پر تنقید کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک کرائم پر آرڈیننس سے کسی کی عزت کو اچھالا نہیں جاسکے گا ۔ وزیراعظم کی سربراہی میں پارٹی رہنماؤں اور ترجمانوں کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران ملکی سیاسی معاشی صورتحال پر غور کیا گیا، اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کی جوابی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی ۔ ذراءع کے مطابق عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر آل از ویل کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ، اب اپوزیشن سے بھی کہتا ہوں گھبرانا نہیں ۔ وزیر اعظم نے وزرا کی ٹاک شوز میں عدم شرکت کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اور وزرا کو ٹاک شوز میں جا کر حکومتی پالیسی کا دفاع کرنا چاہیے ۔ ذراءع کے مطابق وفاقی حکومت نے ذاتی کردار کشی کی مہم میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومتی شخصیات کی کردار کشی میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ ذراءع کے مطابق اجلاس میں الیکٹرانک کرائم ایکٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ شرکا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ;200;رڈیننس لانے سے کسی کی عزت کو اچھالا نہیں جا سکے گا، اجلاس میں شرکا نے پیکا ;200;رڈیننس پر تنقید کو بلاجواز قرار دے دیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اسلامی معاشرے کی عکاسی مغربی ممالک میں ملتی ہے، جان بوجھ کر پاکستان میں اخلاقیات کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ذراءع کے مطابق اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان اور برطانیہ میں بیک وقت قانونی کاروائی شروع ہو گی، وزیراعظم نے گرین سگنل دے دیا ۔ ملک کی ستر سالہ تاریخ میں پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیئر مین روزنامہ پاکستان ، ڈیلی دی پیٹریاٹ اور روز ٹی وی کے سی ای او معروف صحافی اور تجزیہ نگار جناب ایس کے نیازی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے تاریخ میں پہلی بار صحافت کیلئے ایک ضابطہ اخلاق دیا کہ پاکستان جیسے اسلامی نظریاتی ملک میں صحافت کا کردار کیا ہونا چاہیے اور ایسے کس نہج پر رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ، اگر اس ضابطہ اخلاق کو پوری طرح پڑھا جائے تو اس میں ہمارے معاشرتی ، اخلاقی اور اسلامی شعار کی جھلک واضح طور پر نظر آتی ہے ، اس ضابطہ اخلاق کو راءج کرنے کے بعد نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی اس کی باز گشت سنائی دی ۔ پاکستان کی قومی اسمبلی ، سینیٹ اور دیگر اسمبلیوں میں اس خود اختیار کردہ ضابطہ اخلاق کو سراہا گیا ، وزارت اطلاعات و نشریات ، آئی ایس پی آر نے دیگر اداروں کو اس ضابطہ اخلاق کی تقلید کرنے کو کہا ، اسی حوالے سے پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیکا آرڈیننس میں فیک نیوز کی کوئی تعریف موجود نہیں ، فیک نیوز کے حوالے سے قانون موجود ہے ، حکومت نے اب فیک نیوز کو سوشل کیس بنادیا ہے ، ہماری فواد چوہدری ، سیکرٹری انفارمیشن اور پی آئی او سے ملاقات ہوئی، سی پی این ای کے نائب صدر کی حیثیت سے میں اور دیگر عہدیداران موجود تھے ، ہماری فواد چوہدری سے ملاقاتی ہوئی ، میڈیا مالکان موجود تھے ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس چل رہے تھے ، فواد نے کہا 2016سے قانون چل رہا ہے ، اب بڑا خطرناک باب شروع ہوا ہے ، میڈیا کا اتحاد بھی ظاہر ہوا، فیک نیوز نہیں ہونی چاہئے ، یہ ایشو تو ہے فیک نیوز سے حکومت اور عوام کا نقصان ہوا، اس حوالے سے آرڈیننس لانے کی کیا ضرورت پیش آئی، اجلاس میں بات ہوتی تو بہتر تھا، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے ، میڈیا نے تو ری ایکشن دیا کہ جب تک یہ آرڈیننس واپس نہیں لیا جاتا ہم بات ہی نہیں کریں گے ، اب کسی کو بھی جیل بھیج سکتے ہیں ،اب تو تنقید کرنا بھی مشکل ہے ، میری خواہش تھی بات ہو ، جب ساری برادری اٹھی تو میں بھی ان کے ساتھ تھا، یہ لمحہ فکریہ اور غمزدہ نیوز ہے ، میں قائل ہوں کہ فیک نیوز نہیں ہونی چاہئے ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جب تک آرڈیننس واپس نہیں لیا جاتا حکومت سے بات نہیں کریں گے ،حکومتی اقدامات مستقبل کے لئے اچھے نہیں ، ہم کمیٹی میں 8لوگ موجود ہیں ، اس حوالے سے حکومت سے گفتگو چل رہی تھی تمام میڈیا نے حکومت کا بائیکاٹ کر دیا ہے ، میری خواہش تھی ڈائیلاگ ہو ، مگر دیگر دوستوں نے کہا آرڈیننس واپس لیں تو ڈائیلاگ ہونگے ، ڈائیلاگ کے ذریعے چیزوں کو ایڈریس کرنا چاہئے ، حکومتی اقدامات سے اپنے دشمن بڑھانے والی بات ہے ، میڈیا ایس او پی کے تحت ہمارا ضابطہ اخلاق پر اسمبلی میں بھی بات ہوتی ہے ، حکومت کوڈ آف کنڈکٹ پر عمل کرائے ، ہر کام جب آرڈیننس کے ذریعے ہو تو لگتا ہے مارشل لاء ہے ، جن کی وجہسے ہر بندہ متنفر ہو جا تا ہے ، آرڈیننس کے ذریعے ملک نہیں چلتے ، ایم کیوم ایم مخالف جار ہی ہے ، پیکا سے زیادہ بے تابی پیدا ہوئی ہے ، ہماری کمیٹی نے وزیر اطلاعات کے کھانے تک کا انکار کر دیا اس سے زیادہ اور کیا ری ایکشن ہو گا، جو حکومت آئی ہے میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو ، میڈیا مالکان کو محسو س ہوتا ہے کہ ڈیلہ نہیں تو ڈلہ نہیں ، پیکا آرڈیننس پر بہت سارے اعتراضات اٹھتے ہیں ، دیکھتے ہیں حکومت کیسے ایڈریس کرتی ہے ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس جاری تھے وہ منطقی انجام تک نہیں پہنچے ، آپ آرڈیننس سے حکومت کو دھچکا تو لگا ہے ، حکومت اور میڈیا کے مابین کمیٹی بنی تھی، حکومت سے ہماری جنگ تھی ہم نے دن کی چائے تک نہیں پی ، ہمارا ضابطہ اخلاق قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ، سب میڈیا ہاءوسز کو ضابطہ اخلاق بنانا چاہئے ، نامعلوم حکومت کیوں غلط کام کررہی ہے ، حکومت دباءو کو بڑھا رہی ہے ، حکومت سنبھل کر چلتی تو حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا میاب ہوتی نظر نہیں آرہی ، جو معاملات خراب ہیں ان کو ایڈریس کرنا چاہئے ، حکومت اپنا دشمن خود بناتی ہے ، عمران خان اپنے مشیروں کے آگے مجبور ہیں ، معلوم کیوں ایسا ہے ، حکومت اپوزیشن کو مضبوط کر رہی ہے ، حکومت کواس آرڈیننس کے نفاذ سے پہلے پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے ضابطہ اخلاق کو پڑھنے اور صحافتی تنظیموں کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا ۔

عدم اعتماد کی تحریک اور پی ڈی ایم کی سرگرمیاں

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور سابق صدر آصف علی زرداری کی ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں عدم اعتماد کی تحریک سے متعلق گفتگو ہوئی اور کہا گیا کہ نا اہل اور نا لائق حکمرانوں کے جانے کا وقت ;200;گیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے معاملے پر پی ڈی ایم کے سربراہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی ملاقات ہوئی، اس وقت پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں عمران خان کو حکومت سے ہٹانے کے یک نکاتی ایجنڈے پر متفق نظر آرہی ہے اور اس حوالے سے اتحادی جماعتوں کے سربراہان سے بھی خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ، امکان پایا جارہا ہے کہ مارچ کے پہلے ہفتے میں یہ تحریک اسمبلی میں پیش کردی جائے گی ، پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں حکومتی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتی نظر آتی ہے ، حکومت اپنے دعووَں ، اعلانات کے باوجود ملک سے مہنگائی ، بے روزگاری ، بدعنوانی کا خاتمہ نہیں کر پائی جس کا فائدہ اب پی ڈی ایم اٹھانا چاہ رہی ہے اگر حکومت تحریک کو ناکام بنانا چاہتی ہیں تو اسے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے ۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔