کالم

عوام کی حالت ناگفتہ بہ ہے

وطن عزےز پاکستان میں بے ےقےنی کی صورت حال ہے ،ہر شخص نالاں ،پرےشان اور غمگےن ہے ۔ اللہ رب العزت نے حضرت انسان کو اشرف المخلوقات کے شرف سے نوازا ہے ، انسان کو بہترےن صورت میں پیدا کیا ہے ۔ اللہ رب العزت نے حضرت انسان کو اعلیٰ صلاحےتیں عطا کیں اور انسان میں لگن اور محنت کا جذبہ پےدا کیا ۔ وطن عزےزپاکستان دنےا کاخو بصورت ترےن اور قدرتی دولت سے مالا مال ملک ہے لیکن ےہاں غربت ، بے روزگاری اور مہنگائی کا راج ہے ۔ ہر شخص بے اعتمادی اور بے ےقینی کا شکار ہے ۔ پاکستان کے شہری غربت، بے روزگاری، مہنگائی ، بے اعتمادی اور بے ےقےنی کی صورت حال سے کےسے باہر نکل سکتے ہیں ;238;اس کے لئے ماضی کے درےچوں میں جھانکنا ہوگا ۔ کفار مکہ نے نبی کرےمﷺ اور ان کے رفقاء پر ظلم و ستم کے پہاڑ گرائے تھے ۔ کفار مکہ نے بربرےت اور جرےت کے تمام رےکارڈ توڑ دیے تھے لیکن جب فتح مکہ کا موقع آےا تو سب اداس اور غمگےن تھے کہ اب ان سے بدلہ اور انتقام لیا جائے گا لیکن عظےم لوگ بدلہ اور انتقام نہیں لیا کرتے ہیں بلکہ معاف کرنا ان کا شےوا ہوتا ہے ۔ حضور کرےمﷺ نے سب دشمنوں کو معاف کرکے تارےخ عالم میں منفرد مثال قائم کردی ۔ لوگ آج بھی سےنکڑوں سالوں کے بعد مذکورہ وقوعہ کی مثالیں دےتے ہیں ،انسانےت سے محبت اور ترقی کا راز سےکھتے ہیں ۔ نیلسن منڈیلا تقرےباً 27سال پابند سلاسل رہے اور انھیں جزےرہ رابن میں قےد رکھا گےا ۔ 11فروری 1990ء کو رہا ہوئے تو انھوں نے مذاکرات کا راستہ اپناےا جس کی وجہ سے جنوبی افرےقہ میں نسلی امتےاز کو سمجھنے اور اس سے چھٹکارا ملا ۔ نےلس منڈیلانے10مئی1994ء کو جنوبی افرےقہ کے صدر کا قلمدان سنبھالاتو انھوں نے اےک اہم کام کیاجس سے جنوبی افرےقہ میں نےا موڑ آگےا ۔ انھوں نے سب کو معاف کردےا ،کسی کو اپنے منصب سے نہیں ہٹاےا،سب کو حسب سابقہ کام کرنے کی ہداےت کی ۔ جب محترم عمران خان نے بطور وزےراعظم نشست سنبھالی تو خاکسار نے ایک کالم کے ذرےعے التماس کیا تھا کہ آپ بھی نبی کرےمﷺ اور نیلسن منڈےلا کی طرح سب کو معاف کرےں اور ان کے ثمرات سے ملک کے سب شہری مستفےد ہونگے لیکن محترم عمران خان کو کچن کیبنٹ نے ٹی وی نہ دیکھنے کا مشورہ دےا تاکہ وہ ہر چےز سے بے خبر رہیں ،ان کو بدلہ اور انتقام کا مشورہ دےتے رہے ۔ اس کے نتےجے میں ملک اور شہرےوں کا ناقابل برداشت نقصان ہوا ۔ اپنے سےاسی مخالفےن کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکے،نہ چوروں سے کچھ برآمد کرسکے اور نہ ہی ڈاکوءوں سے کچھ نکال سکے ۔ بےوروکرےسی کام نہیں کررہی ہے اور نہ کوئی بڑا پراجیکٹ شروع ہوسکا ۔ اپنے بھی ناراض ہوئے اور پرائے بھی خفا ہو گئے ۔ عوام کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ اب سےاسی شہید ہونے کے سواکوئی صورت نظر نہیں آتی ہے ۔ اب بھی عمران خان کے پاس چانس ہے لیکن شاید پھر موقع نہ ملے ۔ ان کوسےرت النبیﷺ سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے ۔ محترم عمران خان انتقام اور بدلہ لینا کمزور لوگوں کا کام ہے اور معاف کرنا طاقتور اور عظےم لوگوں کا کام ہے ۔ سب کو معاف کرےں اور سب کو دولت واپس پاکستان لانے کا موقع دےں ۔ سب پر واضح کرےں کہ ےہ آخری چانس ہے ، اس کے بعد کسی کے ساتھ رعاےت نہیں ہوگی ۔ اس کے بعد قانون سازی کرےں اور ملک سے باہر جائےدادےں اور دولت رکھنے والوں پرپاکستان میں ہرقسم کا حکومتی عہدہ لینے کا باب ہمیشہ کےلئے بند کرےں ۔ اہم عہدوں پر تعےنات رہنے والوں کو پاکستان سے باہر رہنے پر قدغن لگائےں ۔ اےک سسٹم بنائےں جس میں امےر وغرےب کےلئے ےکساں سلوک ہو، سب کے لئے قانون برابر ہو،چور اور ڈاکو چھوٹا ہو ےا بڑا سب کو سزا ہونی چاہیے ۔ صدر ، وزےراعظم ، گورنرز اور وزرائے اعلیٰ وغےرہ کا سبکدوشی کے بعد مراعاتےں لینے کا باب بند کرنا چاہیے کیونکہ وہ غرےب نہیں ہوتے ہیں ، وہی رقوم غرےب عوام پر خرچ کرائی جائےں ۔ صوبائی ، قومی اسمبلی اور سےنٹ کے ممبرز تنخواہیں اور دےگر مراعات نہ لیں ،انہیں چاہیے کہ وہ کام صرف خالصتاً عوامی خدمت کے طور پر کرےں ۔ سرکاری رقوم سے دعوتوں اور دوروں کا سلسلہ بھی ختم کروائےں ۔ قائداعظم محمد علی جناح کی طرح سب وزراء اور دےگر گھروں سے چائے اور کافی پی کرآئےں ۔ ہر پاکستانی ملک و ملت کےلئے بچت کی روش اختےار کرےں ، اصراف اور شاےانہ طور طرےقے ترک کرےں ۔ سرکاری گاڑےوں ، پٹرول اور فون استعمال کا سلسلہ بند کرائےں ۔ کسی بھی عہدہ دار ےا ملازم کو اےک ہزار سی سی سے زائد گاڑےوں کے استعمال پر پابندی لگائےں ۔ اس وقت نوجوان طبقہ انتہائی ماےوس ہے،جوکہ افسوسناک بات ہے ۔ ملک میں لاکھوں نوجوان ڈگرےاں لیے پھررہے ہیں لیکن ان کو روزگار نہیں ملتا ہے ۔ رےٹائرڈ ملازمین کو دوبارہ ملازمت فراہم کی جاتی ہے جبکہ نوجوان بے روزگار ہیں ۔ رےٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ساٹھ سال کے بعد سروس جاری رکھنا ےا دوبارہ تعےنات کرنا نئی نسل کے ساتھ بے انصافی کے مترادف ہے ۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔