اداریہ کالم

سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے عالمی تنظیموں سے امداد کی اپیل

پاکستان میں آنے والے سیلاب نے ملکی معیشت کو بے حد متاثر کیا ہے کیونکہ ہم پہلے ہی مختلف قسم کے معاشی بحرانوں سے گزررہے ہیں اور ان حالات میں اچانک آسمانی آفت کے آنے سے ہم مزید ایک نئی پریشان میں گھر گئے ہیں ، اگر معیشت مضبوط ہو تو ریاست بڑے سے بڑے مسائل کا سامنا کرسکتی ہے مگر جب ریاست خود بحرانی کیفیت میں مبتلا ہو تو ان حالات میں آسمانی آفات کا مقابلہ کرنا قدر مشکل ہوتا ہے مگر اس پریشانی سے نکلنے کیلئے وفاقی حکومت نے اپنے طور پر اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جس میں اسے کسی حد تک کامیابی میسر آئی ہے ، وزیر اعظم پاکستان نے بین الاقوامی امدادی تنظیموں سے امداد کی اپیل کی ہے اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے اپیل کی ہے جس پر مختلف دوست ممالک نے امداد کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے ، اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی شراکت داروںکو متاثرہ علاقوں کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہاہے کہ عالمی اداروں، تنظیموں، ممالک اور مالیاتی اداروں کا ہنگامی تعاون درکار ہے، حکومت پاکستان تباہ حال علاقوں میں انٹرنیشنل پارٹنرز کے دورے کے انتظامات کرے گی پہلے دن سے ذاتی طور پر ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہوں،وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ 2022 قائم کیا ہے تاکہ متاثرین کی امداد اور بحالی کی کوششوں میں مزید تیزی آئے،عالمی مالیاتی اداروں، تنظیموں کی مدد سے متاثرین کی مدد میں بڑی مدد ملے گی ،2010سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے جس سے خوراک، ادویات، خیموں، عارضی پناہ گاہوں کی متاثرین کو اشد ضرورت ہے،وفاقی حکومت، صوبوں، مرکزی و صوبائی محکموں کے اشتراک عمل سے کام کر رہی ہے اورفوری طور پر 5 ارب روپے جاری کئے گئے، ہر جاں بحق کے خاندان کو 10 لاکھ روپے کی ادائیگی جاری ہے،25 ہزار روپے کی سیلاب متاثرین کو فوری نقد ادائیگی کی جارہی ہے جس پر 80 ارب خرچ ہوگا،مجموعی طور پر 37 ارب روپے سے زائد رقم سیلاب متاثرین پر خرچ ہوگی،سیلاب کی تباہی کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ تنہا وفاقی یا صوبائی حکومتیں متاثرین کو مکمل بحال نہیں کر سکتیں ، سندھ اور بلوچستان کے بڑے حصے کو پہلے ہی آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے ، تاریخی بارشوں اور سیلاب سے ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال ہے اوربڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے، انفراسٹرکچر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مشکلات آ رہی ہیں،خوراک، ادویات، خیموں، عارضی پناہ گاہوں کی متاثرین کو اشد ضرورت ہے ۔ ادھروزیر اعظم نے سیلاب زدگان کو امداد فراہم کرنے کےلئے بین الاقوامی ڈونرز کے ساتھ میٹنگ کی صدارت کی۔ اجلاس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور ڈونرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔عالمی تنظیموں اور مالیاتی اداروں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی اپیل پر سیلاب متاثرین کےلئے 50 کروڑ ڈالر سے زائد کی فوری امدادکا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے عالمی شراکت داروں کو ملک میں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔ دوسری جانب کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران عسکری قیادت نے سیلاب متاثرین کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھنے کے عزم کا اظہار کردیا ۔بیان کے مطابق کانفرنس کے دوران فورم کو ملک میں سیلاب کی صورتحال پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے بیرونی اور داخلی سلامتی کی صورتحال اور آرمی فارمیشنز کی طرف سے جاری امدادی کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔آرمی چیف نے فارمیشنوں کو آپریشنل تیاریوں کو برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔شرکا نے سیلاب کی صورتحال اور فوج کی طرف سے جاری بحالی اور ریلیف کاموں کا جائزہ لیا اور اس دوران ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے قیمتی جانوں کے ضیاع اور بنیاڈی ڈھانچے کو ہونے والے وسیع نقصان پر دکھ کا اظہار کیا۔کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران فورم نے سیلاب متاثرین کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھنے کا عزم کیا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے امدادی کوششوں کو سراہا اور آرمی فارمیشنز کو سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت کی۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہر ایک متاثرہ فرد تک پہنچنا ضروری ہے۔نیزاقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان اسٹیفن ڈیوجیرک نے بتایا کہ پاکستان میں اقوام متحدہ کی ٹیم سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں بلوچستان اور سندھ میں حکام کی مدد کر رہی ہے اور اب تک اقوام متحدہ کی ٹیم نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے 7ملین امریکی ڈالر کی امداد کے تحت 1,100میٹرک ٹن خوراک فراہم کی ہے ۔اس حوالے سے افواج پاکستان کے امدادی سرگرمیاں قابل تحسین ہے ، پاک فوج نے اپنا تین دن کا راشن سیلاب زدگان میں تقسیم کردیا ہے جبکہ پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی کے امدادی دستے بھی متاثرہ علاقوں میں مصروف عمل ہیں ، اسی طرح ان متاثرہ علاقوں میں افواج پاکستان کے دستے میڈیکل کیمپ لگاکر ان علاقوں میں بیماریوں کے خاتمے کیلئے بھی اپنا کردار بہترین انداز میں ادا کررہے ہیں ، افواج پاکستان پاکستانی عوام کی آخری امید تصور کی جاتی ہے کیونکہ یہ ہر مشکل وقت میں قوم کی خدمت میں پیش پیش ہوتی ہیں ، اس مشکل وقت میں ایس کے این ٹرسٹ کے خدمات بھی مثالی ہے کہ جس نے ہر آسمانی آفت کے موقع پر اپنے ہم وطنوں کی مدد کابیڑا اٹھا ہوا ہے اور بھر پور انداز میں قوم کی خدمت میں مصروف رہتا ہے ، اس آفت کے موقع پر ایس کے این ٹرسٹ کے چیئر مین اور معروف صحافی ایس کے نیازی نے کئی ٹرکوں پر مشتمل امدادی قافلہ جنوبی پنجاب بھجوایا ہے اور ٹی وی پروگرام میں ان نے تمام قومی سیاستدانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان حالات میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ترک کرکے سیلاب زدگان کی مدد کیلئے پہنچے، ایس کے نیازی اور ان کے ٹرسٹ کا جذبہ لائق تحسین ہے ،پوری قوم کو ان کے اس جذبہ کی پیروی کرنا چاہیے اور سیلاب زدگان کی مدد کیلئے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
سعودی عرب کا پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ
سعودی عرب پاکستان کا ایک عظیم برادر اسلامی ملک ہے جس نے ہر آڑے وقت میں پاکستانیوں کی امدا د کیلئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ،پاکستان کو موجودہ بحرانی کیفیت سے نکالنے کیلئے سعود ی عرب نے ایک بار پھر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستان میں 1 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کا حکم جاری کردیا۔سعودی میڈیا کے مطابق شاہ سلمان کاحکم سعودی عرب کا پاکستان کی معیشت اور عوام کی مددکا اعادہ ہے۔ خیال رہے کہ شاہ سلمان کی جانب سے یہ حکم نامہ پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور ان کے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پرگفتگو کے بعد جاری کیا گیا۔دفتر خارجہ سے جاری اعلامیے کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی گئی، جس پر بلاول بھٹو نے اپنے سعودی ہم منصب سے اظہار تشکر کیا۔ٹیلیفونک گفتگو میں پاک سعودی وزرائے خارجہ نے دوطرفہ برادرانہ تعلقات کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔یہ حکومت کی کامیاب خارجہ پالیسی کی ایک مثال ہے کہ اس نے اس معاشی بحران کی صورت میں اپنے دوست ممالک کو ملک میں سرمایہ کاری پر راغب کرنے پر راضی کیا ہے ، دوست ممالک سے مالی مدد لینے کی بجائے اگر تجارتی تعاون لیا جائے تو وہ قوم کیلئے آبرومندانہ فیصلہ ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔