دلچسپ اور عجیب

بجلی کے ناقابل بر داشت بل کیسے کم کریں؟

ijaz ahmad

آج کل بجلی اور سوئی گیس کے اتنے زیادہ بل آتے ہیں کہ اسکے لئے رقم کا انتظام کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے ۔اگست کے مہینے میں بجلی کا جو بل آیا ہے اُس نے تو غریب اورامیر دونوں کو رُلا دیا۔ انتہائی غریب سے غریب تر کا بجلی بل بھی 6 اور 7 ہزار سے سے کم نہیں آیا ہے۔پاکستان میں 11 کروڑ لوگ غُربت کے لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یعنی ان11 کروڑ پاکستانیوں کی آمدن300 روپے تک ہے اور مہنگائی کے اس دور میں انکے لئے اپنی دوسری ضروریات کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیسوں کی بھاری بلیں دینا انتہائی مشکل اور کٹھن کام ہے۔ غریب سے غریب لوگوں کے بجلی بل ہزاروں میں آتے ہیں۔ ایک مزدور کی دیہاڑی 500 روپے ہے وہ کیسے اپنے گھر کا بجٹ ان 500 روپے میں ایڈجسٹ کر سکتا ہے۔اور کئی لوگوں کو تو یہی 500 کی دیہاڑی بھی نہیں ملتی وہ کیا کرے۔مہنگائی ، بے روز گاری، بجلی، تیل ، گیس اور دوائیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے چوری، جسم پروشی ، اعوا برائے تاوان ،بجلی چوری اور دوسرے سماجی بُرائیوں میں اضا فہ ہوتا ہے۔ اگر ہم غور کرلیں تو دنیا کے 219 ممالک میں بجلی کی اوسط فی کس خرچ 317 یو نٹ ہے، اور بد قسمتی سے پاکستان میں 21 ویں صدی میں بجلی کا فی کس خرچ 40 واٹ ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ مگر اسکے باوجود بھی بجلی کے انتہائی زیادہ بل بھیج دئے جاتے ہیں۔جبکہ اسکے بر عکس ترقی یا فتہ اقوام جیسے آئر لینڈ میں بجلی کا فی کس خرچہ یا استعمال 5777 واٹ ، ناروے میں فی کس خرچہ 2750 واٹ اور کنیڈا کا فی کس بجلی کا خرچہ 2500 واٹ ہے مگر وہاں پر پھر بھی بجلی سستی اور لوگوں کی استطا عت میںہے۔جبکہ انکے وسائل بھی زیادہ ہیں جسکی وجہ سے اُنہیں مشکل کا سا منا نہیں کرنا پڑتا۔ جبکہ پاکستان میں ہمارے وسائل نہ ہونے کے بربر ہیں۔اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو پاکستان میں بجلی سے پانی سے ایک لاکھ میگا واٹ، ہوا سے 50 ہزار میگا واٹ ، کوئلہ سے 2 لاکھ میگا واٹ دو سو سال کے لئے اور ایک مربع میٹر پر ایک کلوواٹ توانائی پڑتی ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے تحا شا متبادل ذرائع توانائی سے مالا مال فرما یا ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ ہم توانائی کے متبادل ذرائع استعمال نہیں کرتے ۔ توانائی کے ان متبادل ذرائع میں پانی سے بجلی، شمسی توانائی، ہوا سے بجلی اور اسکے علاوہ دیگر اور ذرائع ہیں۔ اگر ہم اسکے ریٹس پر غور کرلیں تو وہ بھی کم ہیں۔ مثلاً ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی کی فی کلوواٹ فی گھنٹہ قیمت 0.044ڈالر(5 روپے یونٹ) ، شمسی سیلوں اور پینلز فی کلو واٹ فی گھنٹہ بجلی پیدا کرنے کی قیمت 0.058 ڈالر (8روپے) ، سولر تھرمل سے فی کلوواٹ فی گھنٹہ بجلی پیدا کرنے کی قیمت 0.0184ڈالر (۲روپے)ہے۔ جبکہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کی فی کلواٹ فی گھنٹہ 0.064ڈالر(9 روپے) جبکہ بائیو ماس سے فی گھنٹہ فی کلوواٹ 0.098 ڈالر(13 روپے) ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ دنیا میں زیادہ تر ممالک اور بالخصوص ہما را پڑوسی ملک بھارت متبادل توانائی پر زور دے رہے ہیں۔۔جیسا کہ ہم بار بار ڈیموں کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ڈیموں کے ساتھ ساتھ متبادل ذرائع توانائی اور خاص طور پر شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنی چاہئے کیونکہ دنیا میں شمسی توانائی کے سیلوں کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اور آئندہ چند سالوں میں سولر پینلز کے قیمتیں انتہائی کم ہوجائیں گی۔ میں تمام پاکستانیوں سے بھی یہ استد عا کرتا ہوں کہ اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے شمسی توانائی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور ساتھ ساتھ ڈی سی پنکھوں اور موٹروں کو استعمال کرنا چاہئے۔ گھر میں پانی موٹر فرج کو واپڈا بجلی سے چلانا چاہئے جبکہ ٹیوب لائٹ ، پنکھوں کو شمسی توانائی سے چلانا چاہئے۔ ابھی تو بازار میں شمسی ائر کنڈیشنرز او فرج بھی دستیاب ہیں اگر کسی کی استطاعت میں ہو تو وہ استعمال کرنے چاہئے۔ یا ان چیزوں کو اپنے بجٹ کے مطابق لگا نا چاہئے۔ ڈی سی پنکھوں ، ٹیوب لائٹ اور ڈی سی بجلی سے چلنے والے دوسرے چیزوں کی بجلی کی کھپت کم ہوتی ہے۔ آئندہ وقتوں میں شمسی پینلوں کی قیمتیں اتنی کم ہوجائیں گی اور عوام میں اسکا استعمال بڑھے گا ۔ پھر ہمیں واپڈا کا مختاج نہیں ہونا پڑے گا۔ اب جبکہ اسکی فی یونٹ قیمت 9 روپے ہے اور آئندہ وقتوں میں اسکی قیمت میں مزید کمی آسکتی ہے لہٰذا ہمیں زیادہ سے زیادہ شمسی پینلوں کو استعمال کرنا چاہئے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کو اللہ تعالی بے تحاشہ سیلی کان سے نوازا ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اس ملک میں پاکستان کونسل آف رینی ایبل ادارے کے ہوتے ہوئے ہم شمسی پینلوں کی پروڈکشن شروع نہیں کرتے ۔ حالانکہ پاکستان میں سیلی کان جس سے شمسی پینلز بنائے اتنی وافر مقدار میں دستیاب ہیں کہ اس سے لاکھوں میگا واٹ بجلی بنائی جا سکتی ہے ۔ سیلی کان اتنی وافر مقادار میں ہے جسکی کی قیمت خلیجی ممالک کے تیل سے بھی زیادہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔