اداریہ

ایک قوم بن کر سیلاب متاثرین کی مدد کرنا ہو گی

اس وقت تقریباً پورا پاکستان سیلاب کی زد میں ہے۔ہمیں ایک قوم بن کر مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب متاثرین کی مدد کرنا ہو گی جبکہ حکومت کی جانب سے بھی امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی سرگرمیاں موخر کر کے سیلاب متاثرین کی بحالی کےلئے جدوجہد کرنی چا ہیے اور ایک قوم بن کر حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔وزیراعظم خود ساری صورتحال کو مانیٹر کررہے ہیں۔ گزشتہ وز شہباز شریف نے سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی کا فضائی جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ملک سیلاب میں گھرا ہوا ہے، اس وقت قوم کو متحد ہونے کی سخت ضرورت ہے‘ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی خدمت کرنے کا ہے‘ مخیر حضرات اور عالمی ادارے مشکل کی اس گھڑی میں ہمارا ساتھ دیں‘ سیلاب سے ہلاک ہونےوالوں کےلئے فی کس 10لاکھ روپے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 25 ہزار روپے فی خاندان دیئے جائیں گے۔ ادھرسیلاب متاثرین کیلئے عطیات کے لئے وزیراعظم فلڈ ریلیف کا شارٹ کوڈ جاری کردیا گیا ۔ ملک میں ہونے والی شدید بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد مختلف اضلاع میں لاکھوں پاکستانی بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں، اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی ان کی امداد بھی کررہے ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ، ارکان سینیٹ سمیت پاک فوج کی جانب سے بھی اپنے پاکستانی بھائیوں کی مدد کے لئے تنخواہوں کے عطیات دیئے جارہے ہیں، دوسری جانب ہر پاکستانی مشکل کی اس گھڑی میں اپنے بھائی بہنوں کی مدد کے لئے مستند پلیٹ فارم کی تلاش میں ہے۔ حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد کےلئے وزیراعظم فلڈ ریلیف 2022 قائم کیا گیا ہے، جس میں اب عوام بھی اپنا حصہ ملاسکتے ہیں، اور اس کے لئے شارٹ کوڈ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی نے شارٹ کوڈ کے حوالے سے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت اب کوئی بھی پاکستانی شہری فنڈ لکھ کر 9999 پر ایس ایم ایس بھیج کر 10 روپے عطیہ کرسکتا ہے۔تمام آپریٹرز جمع ہونے والے عطیات سے این ڈی ایم اے کو مطلع کریں گے۔ وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کیلئے وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ 2022 قائم کیا تھا عوام،وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ اکانٹ نمبر G-12164 میں عطیات جمع کرا سکتے ہیں۔دوسری جانب پاک فوج نے اپنا 3 دن کا راشن یعنی 1500 ٹن راشن سیلاب زدگان میں تقسیم کردیا ہے۔ سیلاب زدگان کے لیے عوامی عطیات وصول کرنے کی غرض سے آرمی کے تحت عطیہ مراکز قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ فوج نے عوام اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ خیموں، بستروں، کمبلوں، پانی کے ٹینکوں اور تَرپالوں کی اشد ضرورت ہے۔ راشن میں آٹے، گھی، چاول، دالوں، پتی اور پینے کے صاف پانی کی ضرورت ہے، فرسٹ ایڈ کٹ اور ضروری ادویات جیسے ڈائریا، آنکھ، کان اور جلد کی بیماریوں اور ڈی ہائیڈریشن کی ادویات بھی چاہئیں۔پاک فوج اب تک 40 ہزار افراد کو محفوظ مقامات اور آرمی کے قائم کردہ 137 سے زائد ریلیف کیمپوں میں منتقل کر چکی ہے۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے سیلاب زدگان کےلئے امداد کے طور پر دو ماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ صادق سنجرانی اور سینیٹ کی قیادت نے سیلاب زدگان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹرز ایک ماہ کی تنخواہ متاثرین کی ریلیف اور بحالی کے لئے دیں گے، گریڈ 16 سے 22 تک کے ملازمین بھی 3 دن کی تنخواہ دینگے۔ چیئرمین سینیٹ نے اپیل کی ہے کہ قوم بالخصوص مخیر حضرات ریلیف اور بحالی کےلئے آگے بڑھیں۔ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ عوام کی مدد کیلئے قائم فلڈ ریلیف فنڈ میں وزارت اطلاعات اور ذیلی اداروں کے گریڈ 1 سے 16 تک کے ملامین اپنی ایک دن کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر جمع کروائیں گے ۔ گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے تمام افسران کا اپنی 7 دن کی تنخواہ پرائم منسٹر فلڈ ریلیف فنڈ میں عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت اطلاعات اور اس کے ذیلی اداروں کے ملازمین اس مشکل وقت میں حکومت اور متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزارت کے تمام ملازمین و افسران نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور سیلاب زدگان کی مدد کیلئے وزیراعظم اور وفاقی وزیر اطلاعات کی اپیلوں پر امدادی رقم فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع کرانے کا اعلان کیا۔ پاک فضائیہ نے بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اپنی امدادی مہم تیز کر دی ہے۔ پاک فضائیہ کے اہلکار سیلاب سے متاثرہ ضرورت مند خاندانوں تک امداد پہنچانے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ بلاشبہ پاکستانی قوم آزمائش کی گھڑی میں ہمیشہ سرخرو رہی ہے۔سیلاب متاثرین کی بحالی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے، وطن عزیز کی مٹی آج ہم سب سے دکھی انسانیت کی خدمت کا تقاضا کرتی ہے، انشااللہ نئے جذبے اور عزم سے سیلاب متاثرین کی بحالی کا چیلنج ضرورپورا ہوگا۔ اس وقت متاثرین کو ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی اشد ضرورت ہے، پوری قوم، تارکین وطن اور عالمی برادری سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے آگے آئے۔ امید ہے ماضی کی طرح قوم ایک بار پھر سیلاب متاثرین کی مدد کو آئے گی اورمخیر حضرات اور نجی تنظیموں سے بھی گزارش ہے کہ ان کے نمائندے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی موجودگی میں حقیقی متاثرین تک امدادی سامان پہنچائیں تاکہ یہ امداد انہی لوگوں تک پہنچ سکے جو اس کے حقیقی حقدار ہیں۔
بھارتی ناظم الامورکی دفترخارجہ طلبی
بھارت سے ایک پاکستانی محمد علی حسین کے بھارت کے جعلی مقابلے میں قتل پر بھارتی سفارت کار کو طلب کیا گیا،علی حسین بھارت میں کوٹ بھلوال جیل میں مقید تھے،محمد علی حسین کو جیل سے دور جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا۔ گزشتہ برس بھی ایک پاکستانی قیدی کو بھارت میں اسی طرح جعلی مقابلے میں شہید کیا گیا۔بھارت میں پاکستانی قیدیوں کو ماوراے عدالت قتل کرنے کا سلسلہ ایک طویل عرصہ سے جاری ہے،بھارت کاجموں وکشمیرمیں مظالم کاسلسلہ جاری ہے۔گزشتہ روز بھارتی افواج نے اڑی، بارہ مولا میں 3 کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں قتل کیا ، پاکستان کی صورتحال کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے کوئی موازنہ نہیں،مقبوضہ کشمیر میں قابض افواج مقبوضہ عوام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہیں ۔نیزپاکستان بھارتی بی جے پی رہنما کے پیغمبر اسلام ﷺکے خلاف توہین آمیز کلمات کی سخت ترین مذمت کرتا ہے،یہ تین ماہ کے دوران دوسرا موقع ہے کہ بی جے بی بھارتی رہنماو¿ں نے یہ حرکت کی۔بھارتی حکومت اس حوالے سے سخت سزائیں دے۔بھارت کی جانب سے غلطی سے 9 مارچ کو پاکستان میں براہموس میزائل داغنے کی انکوائری کو مسترد کرتا ہے،پاکستان اس حوالے سے ان تحقیقات اور رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتا ہے اور بھارت سے مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔
بجلی صارفین کی شکایات دورکرنے کیلئے کمیٹی قائم
عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے اوپر سے بھاری بھرکم بلوں نے بجلی صارفین کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے،اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت بجلی کے صارفین کے مسائل کے حل کیلئے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کے بجلی کے صارفین کیلئے اعلان کردہ ریلیف پیکیج پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے،ایک کروڑ 66 لاکھ صارفین کو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دیے گئے ریلیف کے تحت بلز کی تصحیح جاری ہے،وزیر اعظم نے ریلیف کے اقدامات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ 24 گھنٹے کے اندر ریلیف کے تحت صارفین کے بلز کو کم کیا جائے،بجلی کے بلز کی تصحیح کیلئے ڈسکوز کا اسٹاف 24 گھنٹے کام کرے۔ بلز کی تصحیح کیلئے تمام اسٹاف کی چھٹیاں ختم کرکے اس کام کو فوری نبٹا کر رپورٹ پیش کی جائے۔ بلز جمع کروانے کیلئے بنکس کو آئندہ دنوں میں کھلا رہنے کی ہدایت کی جائے۔بے جا ٹےکسز کی بوچھاڑ حکومت کےلئے نقصان کا باعث بن سکتی ہے ۔ حکومتوں کومعےشت کی ٹےموں میں صاف اور تجربہ کار افراد رکھنے چاہئیں۔زےادہ ٹےکسز سے مسائل گھمبےر ہوتے ہیں اور پھر بے قابو ہو جاتے ہیں۔وزیراعظم کا بجلی صارفین کی شکایات دور کرنے کیلئے کمیٹی کاقیام عوام کیلئے ریلیف کاباعث بنے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔