حلقہ احباب سردار خان نیازی کالم

وزیر اعظم کی افطار پارٹی اور سینئر صحافیوں سے گفتگو

وزیر اعظم شہباز شریف نے سینئر صحافیوں کے اعزاز میں افطار پارٹی کا انعقاد کیا ، کثیر تعداد میں سینئر صحافیوں نے شرکت کی، اس موقع پر وزیر اعظم نے مہمان نوازی کی بہترین مثال قائم کی، انواع و اقسام کے کھانے موجود تھے ، جب کہ گزشتہ وزیر اعظم عمران خان مہمان نوازی چائے اور بسکٹ سے ہی کیا کرتے تھے ، اس موقع پر وزیر اعظم نے صحافیوں سے تفصیلی گفتگو کی ، کچھ سوالات کے جواب تو انہوں نے بڑے ناپ تول کر دیئے لیکن کچھ سوالوں کے جوابات وہ گول مول کر گئے ، بہر حال وہ بہتر جانتے ہونگے کہ کن سوالوں کا جواب دینا ہے اور کن کا نہیں ، اس افطار پارٹی میں میرے روزنامہ پاکستان کے ایڈیٹر عزیر احمد خان ، ڈیلی دی پیٹریاٹ کے ایڈیٹر عابد علی ، روز نیوز کے رضا عابد نے بھی شرکت کی، جب کہ روزنامہ اوصاف کے مہتاب خان ،روزنامہ اذکار کے الماس عباسی اور خوشنود علی خان،شکیل ترابی، طارق سمیر بھی موجود تھے، چونکہ میں اس صحافت کے میدان میں 1996ء سے زندگی رسالے کے حوالے سے موجود ہوں ، بہت سے ایسے احباب بھی اس افطار پارٹی میں شریک تھے جن سے میری عرصہ دراز سے ایک یاد اللہ ہے ، اس پارٹی کی سب سے بہترین اور اچھی بات یہ تھی کہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بڑے اچھے طریقے سے ہینڈل کیا، وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات شاہیرا شاہد شریک تھیں جو کہ نہایت دیانتدار ، محنتی اور خاندانی بیورو کریٹ ہیں ، جبکہ پی آئی او مبشر حسن اتنے پیار سے ملتے رہے کہ ان سے ایک اپنایت کا احساس ہوتا ہے ، اب جو ان کے کندھوں پر ایک بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے ، امید ہے کہ وہ احسن طریقے سے نبھائیں گے ، جب وزیر اعظم سے سیر حاصل صحافیوں کی گفتگو ہوئی تو ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ ٹو دی پوائنٹ جواب دیتے لیکن کچھ سوالوں کے جواب وہ ادھر ادھر کر گئے ، ہو سکتا ہے انہوں نے سیاسی بصیرت یا کسی مصلحت کے تحت کچھ جواب نہ دیئے ہوں ، چونکہ افطار پارٹی میں خاصی دیر ہو گئی تھی اور میرا روز ٹی وی پر پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ بھی آن ایئر جانا تھا، رات کے 9ادھرہی بج گئے تھے، میں جب واپس پہنچا تو میرے پروگرام کا وقت ہوا چاہتا تھا، پروگرام میں بھی میں نے اس خصوصی اہتمام والے افطار ڈنر کے احوال کا ذکر کیا ، اور آن ایئر بتایا کہ وزیرا عظم نے کس طرح سینئر صحافیوں کو عزت سے نوازا ، کیونکہ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں پرنٹ میڈیا کو نظر انداز کیا گیا، لیکن اب موجودہ وزیر اعظم اس راز سے بخوبی واقف ہیں کہ پرنٹ میڈیا کی کتنی زیادہ اہمیت ہے ، یہ ایک باقاعدہ ڈاکو منٹ یعنی کے دستاویز تیار ہوتی ہے ، اور اس کا باقاعدہ مختلف مواقعوں پر حوالہ بھی دیا جاتا ہے کہ اس وقت یہ لکھا گیا تھا اور حقیقت یہ تھی، چونکہ پرنٹ میڈیا ہی اصل پلیٹ فارم ہے، یہاں سے جو بھی صحافی آگے گیا وہ کندن بن کر گیا، میری صحافتی زندگی کا آغاز بھی پرنٹ میڈیا ہی سے ہے ، اب میں باقاعدہ ایک میڈیا ہاءوس چلا رہا ہوں ، لیکن آج بھی جو بات تحریری انداز میں کرنے میں مزہ آتا ہے وہ کہیں اور نہیں ، پھر یہ اہم تقریب تھی اور اس کا احوال بھی سپرد قلم کرنا لازمی تھا، ابھی تک یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وزیر اعظم شہبا زشریف جو ’’سپیڈ پاکستان ‘‘ کے حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں اس کے تحت وہ ملک کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں ، ان کی دن رات کی محنت بھی سب کے سامنے عیاں ہے ، کہ صبح ہوتے ہی وہ وزیر اعظم ہاءوس پہنچ کر اپنی طے شدہ منازل کی جانب گامزن ہو جاتے ہیں ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دنیا کے تمام ممالک کےساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں ، چونکہ اس وقت قومی اور بین الاقوامی سطح پر حالات کچھ اور ہی غمازی کررہے ہیں ، اندرون ملک سیاسی معاملات کو کنٹرول کرنے کیلئے بھی انتہائی سیاسی بصیرت اور دو اندیشی سے کام لینا ہو گا، درحقیقت ان زمینی حقائق کو سمجھنا ہو گا، جس کو گزشتہ دور میں نظر انداز کیا گیا، گلی محلوں میں کیا ہو رہا ہے ، مہنگائی کہاں تک پہنچ گئی ہے ، بے روزگاری کے کیا حالات ہیں ، معاشی ترقی کیا ہے ، سٹاک ایکسچینج کا اتار چڑھاءو دیکھناہو گا اور پھر جب تک عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہونگے اس وقت تک معاملات کو کنٹرول کرنا ناممکن ہے ، کام کرنے کے تمام اوصاف وزیر اعظم شہباز شریف میں پائے جاتے ہیں ،دیکھنا یہ ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے لئے گئے پیسے سے مسائل حل کرتے ہیں ، جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا،یا وہ پھر ملکی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

]]>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔