کالم

اس دشت سے بہتر ہے دلی نہ بخارا

سب سے پہلے پاکستان، پھر افغانستان

”پانی سو سال بعد بھی اپنا راستہ تلاش کر لیتا ہے“کوئٹہ میں ہمارے دوست خان عصمت خان ترین نے حالیہ سیلاب کی بنیادی وجہ ایک کہاوت کی مدد سے بیان کر دی ہے ،کہنے لگے کہ زیادہ نقصان دریاو¿ں اور ندی نالوں کے قدرتی بہاو¿ کے راستوں پر آباد دیہات ، باغات اور عمارات کا ہوا ہے ۔انہوں کے ایک پشتون کہاوت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے بتایا کہ؛کہتے ہیںاور کتنا سچ کہتے ہیں کہ پانی سو سال بعد بھی اپنا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ پانی کے قدرتی بہاو¿ کی راہ میں مزاحم کوئی رکاوٹ پانی کو گوارہ نہیں ہوتی۔کوئٹہ کے اطراف اور نواح ،نیز ہرنائی ، خانو زئی ، کوہلو، سبی ، نصیر آباد اور زیارت شدید بارشوں کی زد میں ہیں۔ بڑے نقصانات پانی کی قدرتی گزر گاہوں کے کناروں پر آباد بستیوں کا ہو رہا ہے۔ کوئٹہ شہر اور اس کے اطراف شدید بارش سے متاثر ہوئے ہیں ۔ممتاز محب اقبال ڈاکٹر عبدالروف رفیقی بتا رہے تھے کہ شہر میں بجلی اور گیس مکمل طور پر بند ہے۔بازاروں میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہے ۔آج صبح سے کوئٹہ سے رابطہ منقطع تھا۔ شدید بارشوں کی وجہ سے جمعہ 26 اگست کے روز کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے کوئٹہ جانے والی قومی ایئر لائن کی پروازیں بھی منسوخ کر دی گئیں ،گویا اس طرح سے کوئٹہ کا ملک کے بقیہ حصوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔بلوچستان کے دیہی علاقوں میں تند و تیز سیلابی ریلوں کی تباہ کاریاں اور جنوبی پنجاب میں بارش اور سیلاب سے ہونے والی دل آزاریاں پہلے ہی سے بے چین کر رہی تھیں ،کہ شہر کوئٹہ میں شدید بارش اور رابطوں کے منقطع ہو جانے نے بے چین کر دیا خیر ، شکر ہے رابطے بحال ہوئے ۔دوستوں کی آواز سنی ۔ڈاکٹر شاہ محمد مری بتا رہے تھے کہ شہر میں بارش تو شدید ہے لیکن نقصانات نواحی علاقوں میں ہورہے ہیں۔اس کی وجہ وہی ہے یعنی پانی کے قدرتی راستوں میں مداخلت لیکن زیادہ تشویش بحالی اور بروقت امداد میں تاخیر ،گریز اور تساہل کی وجہ سے ہو رہی ہے۔بالآخر وہ جو کہتے ہیں بعد از خرابی بسیار، وزیراعظم بھی سیلاب زدگان کی طرف سندھ جا پہنچے اور بلاول بھٹو ،جو پہلے ہی سے بحالی کے کاموں کی نگرانی کر رہے تھے ،کے ساتھ کھڑے ہو کر پریس کانفرنس کر ڈالی اور صاف صاف بتا دیا کہ گزشتہ تیس سال میں یہ بارشیں شدید ترین ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ میں نے یہاں آتے ہوئے جہاز سے نیچے دیکھا تو اندازا ہوا کہ سیلاب سے کس درجے کی تباہی ہوئی ہے ۔ اس کے بعد وزیراعظم نے متاثرین کےساتھ متاثرکن فوٹو سیشن بھی کروایا۔ستم ظریف کہتا ہے کہ جب سیلاب اور بارشیں پورے ملک میں تباہی مچائی رہی تھیں ، ہمارے حکمران اپنی سیاست میں مگن تھے ، اور عمران خان اپنی احتجاجی سیاست میں ۔ہمارا الیکٹرانک میڈیا سیلاب کی بے رحم تباہی کو نہایت سرسری انداز سے دکھا رہا تھا۔یہ صرف سوشل میڈیا ہی ہے جس نے اس طوفان بلاخیز کے مناظر لوگوں تک پہنچائے اور یوں ایک آگاہی کا سلسلہ شروع ہوا۔جنوبی پنجاب ، بلوچستان اور سندھ تو سیلاب کا شکار تھے ہی ،اب خیبرپختونخوا بھی بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے ۔عمران خان کی تحریک انصاف سیلاب سے متاثر دو اہم صوبوں میں حکومت کر رہی ہے ۔لیکن ان دونوں صوبائی حکومتوں نے ہمہ وقت بنی گالہ کا طواف کرنے اور وہاں کے لات، منات، ہبل کی پوجا میں مصروف رہنے کی وجہ سے اپنے اپنے صوبوں میں سیلاب زدگان کو بری طرح سے نظر انداز کر رکھا ہے۔آج رائے عامہ کے شدید دباو¿ کی وجہ سے عمران خان خیبرپختونخواہ حکومت کے ہیلی کاپٹر پر سوار ہو کر اور اپنے سامنے بیٹھے صوبائی وزیر اعلی سے بریفنگ لینے اور ہیلی کاپٹر کی کھڑکی سے نیچے دیکھنے کی تصویریں بنوائیں ۔اور پھر ایک پریس کانفرنس بھی کر ڈالی ۔موصوف فرماتے ہیں کہ میرے پہ بڑا پریشر پڑا ہوا ہے کہ میں چندہ اکٹھا کروں فلڈ کے لیے ، میں ابھی تک ،جب لوگوں سے ہم پیسہ اکٹھا کرتے ہیں تو بہت بڑی ذمہ داری ہے۔میں جب تک مجھے پورا نہ پتہ چلے کہ میں اس پیسے کو کدھر لگا سکتا ہوں جس سے فرق پڑے۔میں پیسہ اکٹھا کرنے سے گریز کرتا ہوں۔یہ فرمودات سن کر مجھے لگتا ہے کہ میں ستم ظریف اور شرلی بے بنیاد کا ایک وفد بنا کر عمران خان کے پاس ایک خط کے ساتھ بھیجوں،جو وہ عمران خان کو تنہائی میں پڑھ کر سنائیں۔اس خط میں لکھا جا سکتا ہے؛
جناب عمران خان صاحب
السلام علیکم:یہ جانتے ہوئے کہ آپ پہلے ہی خیریت سے نہیں ہیں،بلکہ مسلسل حالت اضطراب میں ہیں اور اکیلے بیٹھ کر ناطق گلاٹھوی کا یہ شعر گنگناتے رہتے ہیں؛
ڈھونڈھتی ہے اضطراب شوق کی دنیا مجھے
آپ نے محفل سے اٹھوا کر کہاں رکھا مجھے
تو گزارش یہ ہے بھائی جان کہ یہ وقت پٹ سیاپے کا نہیں، سیلاب میں ڈوبے پاکستانیوں کی مدد کرنے کا ہے ۔میں جناب کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ جس تحریک انصاف پاکستان کے چیئرمین لگے ہوئے ہیں، اس وقت سیلاب سے بری طرح سے متاثر دو صوبوں میں اسی تحریک انصاف کی حکومت ہے بلکہ صوبہ خیبرپختونخواہ میں تو آپ کی حکومت دوسر ا ٹینیور مکمل کر رہی ہے ۔اسی طرح اب پیہم تگا پوئے دمادم کے بعد صوبہ پنجاب میں بھی آپ ہی کی جماعت حکمران ہے۔ آپ کو کون بتائے گا کہ پیسہ کہاں لگانا ہے ۔کیا آپ کو اپنی ہی جماعت کی صوبائی حکومتوں کی کارکردگی اور دیانت پر اعتبار نہیں ہے؟ آپ کے پیارے وسیم اکرم پلس عثمان بزدار کا جنوبی پنجاب پانی میں ڈوبا پڑا ہے ۔ خیبرپختونخواہ میں آج سوات اور کالام میں شدید طغیانی اور دریا کنارے بنی عمارات کے انہدام کی اطلاعات ہیں ۔تو ایسے میں کیا امر مانع ہے سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے لیے چندے کی اپیل کرنے میں۔ آپ براہ کرم خیبرپختونخوا اور پنجاب کی حکومتی مشینری کو اپنے جلسوں کے انتظام سے فارغ کردیں تاکہ یہ لوگ اپنے اپنے صوبے کے پانی میں ڈوبے علاقوں میں بحالی کی طرف توجہ دیں۔اور بخدا خیبر پختونخواہ حکومت کے ہیلی کاپٹر کی جان چھوڑ دیں۔اس ہیلی کاپٹر کی ڈوبتے پاکستانیوں کو زیادہ ضرورت ہے۔ آخر میں سلامتی کی دعا نہیں دوں گا ،کیونکہ سیلاب سے متاثرہ افراد کو اس دعا کی کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ والسلام
میں نے ستم ظریف اور شرلی کے ہاتھ یہ خط بھیجا ،جنہوں نے بتایا ہے کہ بنی گالہ پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومت کی سرکاری گاڑیوں اور اہل کاروں سے بھرا پڑا ہے اور سنا ہے کہ عمران خان سر پر لگا خضاب خشک ہونے کے انتظار میں بیٹھے ہیں ۔ مجھے کوئٹہ کے دوست خان عصمت خان ترین کی بتائی بات یاد آگئی کہ ؛ پانی سو سال بعد بھی اپنا راستہ تلاش کر لیتا ہے ۔پاکستان میں عوامی قیادت کا میدان لات ، منات اور ہبل جیسے سنگی بتوں سے بھرا بلکہ اٹا پڑا ہے ۔لازم ہے کہ ایک دن فہم و شعور کا ایسا تند خو سیلاب آئے گا کہ راستے میں پڑے سارے سنگی بت ریزہ ریزہ ہو کر تہہ آب چلے جائیں۔کیونکہ چاہے پانی ہو یا فہم و شعور کا طوفان،سو سال بعد بھی اپنا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔