کالم

جماعت اسلامی کا یوم تاسیس اور سراج الحق

rohail-akbar

گزشتہ سے پیوستہ
1958 میں جماعت اسلامی نے عبدالقیوم خان (مسلم لیگ) اور چوہدری محمد علی (نظام اسلام پارٹی) کے ساتھ اتحاد کیا اس اتحاد نے اسکندر مرزا (1956-1958) کی صدارت کو غیر مستحکم کر دیا اور پاکستان دوبارہ مارشل لا کی گود میں چلا گیا فوجی حکمران صدر محمد ایوب خان (1958-1964) کا جدید ایجنڈا تھا اور وہ سیاست میں مذہب کی مداخلت کی مخالفت کرتے تھے اس نے سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی اورمولانا مودودی کو مذہبی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے سے خبردار کیا جماعت اسلامی کے دفاتر بند کرکے فنڈز ضبط کر لیے گئے اور مودودی کو 1964 اور 1967 میں قید کر دیا گیا بعد میںجماعت اسلامی نے اپوزیشن جماعت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کی حمایت کی۔ 1964-1965 کے صدارتی انتخابات میں جماعت اسلامی نے سیاست میں خواتین کی مخالفت کے باوجود اپوزیشن لیڈر فاطمہ جناح کی حمایت کی 1965 میں پاک بھارت جنگ کے دوران جماعت اسلامی نے حکومت کے جہاد کی کال کی حمایت کرتے ہوئے ریڈیو پاکستان پر حب الوطنی پر مبنی تقاریر پیش کیں اور عرب اور وسطی ایشیائی ممالک سے تعاون حاصل کیا جماعت نے ذوالفقار علی بھٹو اور مولانا بھاشانی کے اس وقت کے سوشلسٹ پروگرام کے خلاف مزاحمت کی جماعت اسلامی نے 1970 کے عام انتخابات میں حصہ لیا 151 امیدوار کھڑے کرنے کے بعد قومی اسمبلی کی صرف چار اور صوبائی اسمبلیوں کی بھی چار نشستیں حاصل کیں ذوالفقار علی بھٹو (1973-1977) کے منتخب ہونے کے بعد جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ نے لاہور میں ان کے پتلے جلائے اور ان کے انتخاب کو ”یوم سیاہ” قرار دیا۔ 1973 کے اوائل میں جماعت نے فوج سے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی اپیل کی جماعت اسلامی نے نظام مصطفی کے مذہبی جھنڈے تلے بھٹو مخالف سیاسی تحریک کی ”قیادت” کی۔ بھٹو نے جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کی قید کے ذریعے جماعت اسلامی کو دبانے کی کوشش کی۔ 1975 کے انتخابات میں انتخابی بے ضابطگیاں ہوئیں جن میں جماعت اسلامی کے ارکان کو کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے روکنے کےلئے گرفتار کیا گیا جماعت اسلامی نے بھٹو کو معزول کرنے کےلئے پاکستان نیشنل الائنس (PNA) کی مدد کی اور بھٹو کی پھانسی سے پہلے کی رات ضیاءالحق سے نوے منٹ تک ملاقات کی جماعت اسلامی واحد سیاسی جماعت تھی جس نے ضیاءکی مسلسل حمایت جس کے بدلے میں جماعت کے ہزاروں کارکنوں اور ہمدردوں کو نوکریوں سے نوازا گیا تھا تاہم ضیاءبروقت انتخابات کرانے میں ناکام رہے اور خود کو جماعت اسلامی سے دور کر لیا جب ضیاءنے طلبہ یونینوں پر پابندی لگائی تو اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کی حامی مزدور یونینوں نے احتجاج کیا تاہم جماعت اسلامی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بحالی جمہوریت کی تحریک میں حصہ نہیں لیا 1987 میں میاں طفیل نے خرابی صحت کی وجہ سے جماعت اسلامی کے سربراہ کی حیثیت سے مزید خدمات سے انکار کردیا اور قاضی حسین احمد کو منتخب کرلیا گیا 1987 میں جب ضیاءکا انتقال ہوا تو پاکستان مسلم لیگ نے دائیں بازو کا اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) تشکیل دیا 1990 میں جب نواز شریف برسراقتدار آئے تو جماعت اسلامی نے اس بنیاد پر کابینہ کا بائیکاٹ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کے درمیان برابری کا مسئلہ ہے 1993 کے الیکشن میں جماعت اسلامی نے تین نشستیں حاصل کیں۔۔۔۔(باقی صفحہ نمبر10)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔