کالم

سیاسی قائدین کی ذمہ داری

Asghar-Cheema

ملک بھر میں طوفانی بارشوں کے بعد آنیوالے سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور صوبہ خیبر پی کے اور بلوچستان میں سیلابی ریلوں نے شدت اختیار کرلی ہے جن میں انسانوں‘ چرندپرند‘ بڑی بڑی عمارتوں‘ فصلوں اور دوسری املاک سمیت ہر چیز خس و خاشاک کی طرح بہہ رہی ہے اور صفحہ ہستی سے مٹ رہی ہے۔ گزشتہ روز سیلاب سے ہونیوالی پچاس مزید انسانی ہلاکتوں سے ہلاک شدگان کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ سیلاب سے ڈیڑھ سوپلوں کو نقصان پہنچا۔ سیلاب کے باعث کئی علاقوں میں ریل‘ موبائل‘ انٹرنیٹ سروس‘ بجلی اور سڑک کے راستے آمدورفت کا سلسلہ معطل ہے۔ بلوچستان سے ملک کے دوسرے حصوں کا رابطہ منقطع ہو چکا ہے، سوات میں ایک معروف ہوٹل سمیت متعدد عمارتیں زمین بوس ہو کر پانی میں بہہ گئیں، کوئٹہ اور روجھان بھی زیرآب آچکا ہے، نوشہرہ کے ڈوبنے کا بھی خطرہ لاحق ہو چکا ہے اور سندھ کے مختلف علاقوں میں سیلاب نے قیامت صغریٰ کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔عشروں کا ریکارڈ توڑ دینے والی بارشوں اور سیلاب نے ملک بھر میں قیامت برپا کررکھی ہے۔ بلوچستان کے بعد سندھ، خیبر پختون خوا اور جنوبی پنجاب کے وسیع علاقے بدترین تباہی سے دوچار ہیں۔ کم و بیش ایک ہزار مرد و زن، بوڑھے اور بچے آسمانی آفت کی نذر ہوچکے ہیں۔ بلوچستان میں بجلی، گیس اور مواصلاتی نظام معطل ہے۔نوشہرہ میں سیلابی ریلا آبادیوں میں داخل ہوچکا ہے جس کی وجہ سے گھروں، اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر عمارتوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑاہے۔سو ات، کالام، مٹہ، لوئر دیر، کوہستان،مدین سمیت دیگر سیاحتی علا قوں میں متعدد ہوٹل اورمکانات منہدم اور مرکزی شاہراہیں معدوم ہوگئی نیزہزاروں گاڑیوں، درجنوں پلوں، سینکڑوں انسانوں اور مال مویشی سب کچھ سیلابی ریلے بہا لے گئے ہیں۔ ابتدائی جائزوں کے مطابق نقصانات کا مجموعی تخمینہ نو سے دس کھرب روپوں تک ہے۔وفاقی وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں کی درخواست پر ملک بھر میں سیلاب زدگان کے ریلیف اور ریسکیو کارروائیوں میں سول حکومت کی مدد کیلئے فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ بلاشبہ پوری پاکستانی قوم کو جو پہلے ہی شدید معاشی بحران سے نبردآزما ہے، اس ملک گیر سیلاب نے ایک ایسی قومی آزمائش سے دوچار کردیا ہے جس سے نمٹنے کیلئے مکمل یکجہتی اور بھرپور عزم و حوصلہ لازمی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کی جانب سے قومی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان یقینا ایک مثبت فیصلہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے تباہ ہوجانے والے علاقوں، سڑکوں اور شاہراہوں سمیت بنیادی ڈھانچے کی از سرنو تعمیر کا لائحہ عمل مرتب کرنے کی خاطر آئندہ ہفتے وزیر اعظم کی صدارت میں قومی کانفرنس منعقد ہوگی جس میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وزیر اعظم آ زاد کشمیر، چیئر مین این ڈی ایم اے کے علاوہ تمام متعلقہ شراکت داروں کو مدعو کیا جائے گا۔ کانفرنس کا مقصد وفاق اور صو بوں کے در میان اشتراک عمل کو موثر، مربوط اور نتیجہ خیز بنانا ہے۔ سیلاب زدگان کی امداد اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کی کوششوں کو مربوط کرنے میں یہ کانفرنس یقینا موثر ثابت ہوگی لیکن چیلنج اتنا دشوار ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے اتنے بڑے پیمانے پر مالی وسائل، افرادی قوت اور قومی عزم درکار ہے کہ محض ملکی انتظامیہ کی کوششوں کا مربوط کردیا جانا کافی نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کی تمام سیاسی قوتیں اور ریاستی اداروں پر مشتمل ایک قومی کانفرنس جلدازجلد بلائی جائے جس کا ایجنڈا صرف سیلاب کے چیلنج سے عہدہ برآ ہونے کی خاطر متفقہ اور مشترکہ جدوجہد ہو۔قومی جماعتوں کے تمام قائدین اجتماعی آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے سیاسی اختلافات، الزام تراشی کی جنگیں، اشتعال انگیز بیان بازیاں اور قومی اداروں کے خلاف مہم جوئیاں بالائے طاق رکھ کر صرف خدمت کے جذبے کے ساتھ اس میں شریک ہوں اور اپنے اخلاص کا ثبوت اپنے عمل سے فراہم کریں۔قوم سے قربانی مانگنے سے پہلے خود مصیبت زدہ عوام کیلئے قربانی دیں جس کی سب سے آسان شکل مالی ایثار ہے۔ہماری تاریخ تو یہ ہے کہ جب مشکل وقت پڑے اور فاقہ کشی کے سبب پیٹ پر پتھر باندھنے کی نوبت آجائے تو عام آدمی کے ایک کے مقابلے میں حکمراں کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوں۔ ہمارے مقتدر طبقے قوم سے اپیلوں سے پہلے خود عملی مثال بنیں تو یقینا عام لوگوں میں بھی قومی تعمیر نو کا مثالی ولولہ نظر آئے گا اور اس مشکل وقت کا مقابلہ آسان ہوجائے گا۔ امدادی سامان اور رقوم کی تقسیم میں شفافیت کو آخری حد تک یقینی بنا یا جانا بھی لازمی ہے۔اصولی طور پر تو اس وقت تمام قومی سیاسی قائدین کو باہم یکجا ہو کر اور ایک میز پر بیٹھ کر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور متاثرین سیلاب کے لاانتہادکھوں کے ازالہ کی موثر اور ٹھوس حکمت عملی طے کرنی چاہیے جس کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشینری کو باہم مل کر بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح آج سیلاب کی تباہ کاریوں کا احساس دل میں رکھتے ہوئے ڈیمز کی تعمیر سمیت آئندہ کے تمام ضروری اقدامات کا بھی قومی سیاسی قیادتوں کو اتفاق رائے سے فیصلہ کرنا چاہیے۔ کیا محض اس اظہار خیال سے سیلاب زدگان کے زخموں پر پھاہے رکھے جا سکتے ہیں کہ ڈیمز تعمیر ہوئے ہوتے تو سیلاب سے اتنی تباہی نہ ہوتی۔ اس سفاک سیاست کے باعث ہی تو اب تک کسی نئے ڈیم کی تعمیر کی نوبت نہیں آسکی اور تربیلا اور منگلا ڈیم بھی سلٹ نکالنے کا مناسب بندوبست نہ ہونے کے باعث ناکارہ ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے تمام مووقر جریدوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خدارا! آج کے حالات کو پیش نظر رکھ کر ہی آئندہ کیلئے سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاوکی کوئی تدبیر کرلیں۔ آپ کی سیاسی دکانداریاں بھی تبھی چلیں گی جب یہ ملک سلامت اور مضبوط ہوگا اس لئے اپنے باہمی اختلافات کو ملکی مفادات کی خاطر طاق پر رکھیں اور سیلاب کے مزید نقصانات سے ملک اور قوم کو بچانے کا سوچیں ورنہ مفاد پرستی والی سفاک سیاست کیخلاف عوامی نفرت کے تھپیڑے چلنے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔آج کے اخبارات کے تمام اداریے اسی بات کو محور و مرکز بنائے ہوئے تھے کہ ہماری سیاست کی اس سے بڑی سفاکی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور ایک دوسرے پر پوائنٹ سکورنگ کیلئے بلیم گیم میں شریک سیاست دانوں کو کبھی ملکی اور قومی مفادات کا خیال آتا ہے نہ عوام کے دکھ درد کا احساس ہوتا ہے۔ کالاباغ ڈیم اور دوسرے مطلوبہ ڈیمز کی تعمیر بھی اسی سفاک سیاست کی نذر ہوئی اور ہمیں ہر سال پانی میں ڈبونے کی بھارتی سازش بھی ہمارے سیاست دانوں کی باہمی ناچاکیوں کے باعث پھلی پھولی جبکہ آج سیلاب سے ہونیوالی تباہ کاریوں کے دوران بھی ہماری سیاست کا گندا کھیل پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ اس وقت جبکہ وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کی جانب سے متاثرین سیلاب کی بحالی کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے‘ پی ٹی آئی کی قیادت پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکیج کا اجرا رکوانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اس معاملہ میں پی ٹی آئی کی خیبر پی کے اور پنجاب حکومت کو گائیڈ لائن دے کر متحرک کیا گیا ہے جنہوں نے آئی ایم ایف کے پلان پر اپنے صوبوں میں عمل نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کیا اس سفاک سیاست میں ملوث ہمارے قائدین کو اتنا بھی احساس نہیں کہ انکی اس پالیسی سے پہلے ہی آزمائش میں پڑی اس ارض وطن کو مزید کن کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑیگا جبکہ انہی آزمائش کے لمحات میں امدادی کاموں میں وفاقی حکومت کا ہاتھ بٹانے کی بجائے پنجاب حکومت پی ٹی آئی قیادت کی ہدایت پر اپنے مخالف مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی گرفتاریوں میں مصروف ہے جبکہ اس وقت منافرت کو فروغ دینے کے بجائے رواداری اختیار کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ اور تو اور پی ٹی آئی قائد عمران خان نے بلیم گیم کی سیاست کو برقرار رکھنے کیلئے اپنے شیڈول کئے گئے پبلک جلسے موخر کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا اور انہوں نے متاثرین سیلاب کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے بجائے اپنے پبلک جلسے کیلئے جہلم جانا زیادہ ضروری گردانا ہے- خان صاحب کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اس قدر بڑی تباہی سے حکومت تن تنہا نہیں نمٹ سکتی۔ ایسے حالات میں ان کو بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور قوم سے اپیل کرنی چاہیے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں ملکی مفاد کے پیش نظر اپنے سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے قومی وحدت کی اہمیت پر زور دینا ہوگا تاکہ پوری قوم اپنی تعمیر نو کی ذمہ داری اٹھا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔