کالم

وراثتی اور خود ساختہ رشتے

میں آج ناشتے کے ٹیبل پر بیٹھا اگر چہ ناشتہ کررہا تھا لیکن دماغ میں ایک قسم کی اداسی کی لہر تھی جس نے دل کو بھی متاثر کررکھا تھا ، میں سوچ رہا تھا اللہ نے ہماری زندگیوں میں رشتوں کی بڑی اہمیت بنادی ہے جو رشتے وراثتی یا پیدائشی طور پر ہمیں ملتے ہیں انہیں توڑنے سے نہ تو توڑا جاسکتا ہے اور نہ ہی جوڑنے سے جوڑا جاسکتا ہے کیونکہ وہ تعلق اللہ نے ہماری پیدائش سے قائم کر دیا ہوتا ہے ، یہ ازلی وابستگیاں ہوتی ہیں اور دائمی رشتے ہوتے ہیں ، اصل میں یہ ہماری ذمے داریاں ہوتی ہیں جن کو ہر حال میں چاہتے نہ چاہتے ہوئے پورا کرنا ہی ہوتا ہے، بز رگوں کی عزت ،چھوٹوں سے پیار ان ازلی رشتوں کے تقاضے ہوتے ہیں ، ایک وہ رشتے ہوتے ہیں جنہیں ہم خود بناتے ہیں مثلاً ہمارے دوست ، ہم پیشہ ، ہم مذہب ہمارے مداح ، حریف حلیف ہمارے اساتذہ شاگرد غرض ہر طرح کے لوگ ہم سے تعلق میں آتے ہیں اور ہم اپنی پسند کے مطابق عارضی تعلق کو مستقل تعلق میں بھی بدل دیتے ہیں ، ہماری زندگی انہیں عارضی او ر مستقل رشتوں میں بٹی ہوئی ہے اور اسی دائرے میں گھومتے گھومتے آخر ختم ہوجاتی ہے ۔ ہم اپنی زندگی کی اچھی اور بری یادیں انہیں تعلق داروں کو سناتے اور ان کی سنتے ہوئے گزار دیتے ہیں ، کبھی گلے کبھی شکوے کچھ شکایتیں کچھ سنہری یادتیں ، کچھ حادثات کی دل سوز کہانیاں سبھی کچھ ان رشتوں کی بارہ دری میں آنکھ مچولی کی طرح چلتا رہتا ہے ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ہم ہر تعلق میں نظر آتے ہیں وصال اور ہجر کی کشمکش انہی رشتوں کی خوب صورت کہانیاں ہیں ۔ کبھی انہی رشتوں میں ہمیں اپنی زندگی روشن چراغ کی طرح اجالوں میں نظر آتی ہے اور کبھی یہی رشتے گہرے زختم لگادیتے ہیں کہ وقت کا مرہم بھی کارگر ہوتا محسوس نہیں ہوتا۔ ہمارے اپنے ہمارے نہیں رہتے ، ہمارا وجود جو کبھی تعلق کا محور ہوتا ہے غیر موجود ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے ، ہمارے تذکرے زبانوں سے غائب ہوجاتے ہیں ہماری یاد دل سے اتر جاتی ہے جنہیں بن دیکھے چین نہیں آتا وہ کہیں غائب ہوجاتے ہیں ۔ اپنوں کے پاس اپنوں کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہیں رہتا ، محبت آزمائش میں بدلنے میں دیر نہیں لگی ، رشتے دیکھتے ہی دیکھتے دم توڑنا شروع کردیتے ہیں کچھ رشتے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں ، کچھ شکوے شکائتوں کا لبادہ اوڑھ کر اپنی شکل تبدیل کرلیتے ہیں ، انہیں اجنبی بنتے ہوئے دیر نہیں لگتی، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن کے بغیر زندگی ادھوری لگتی ہے ان سے دوری میں سکون ملتا ہے ۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ صرف رشتوں کی وجہ سے مفادپرستی ہی زندگی نہیں بلکہ زندگی کو شاداب رکھنے کیلئے تعلقات کی سیرابی بھی ضروری ہے ۔آج کل حال مست اور مال مست نے یہ فضاءقائم کردی ہے کہ اپنے خونی رشتے اگر اپنوں کو کسی صورت مفاد نہ پہنچا سکیں تو قربتیں دوریوں میں بدلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ کیا ہم ایسا وقت چاہتے ہیں کہ ہمارے لئے کوئی نیک خواہشات کا اظہار کرنے والا ہی نہ رہے۔ہم نے جن لوگوں کو اپنی موت کا غم دیکر جانا ہے انہیں زندگی سے دوررکھا جائے موت سانس کا ختم ہوجانا نہیں بلکہ اصل موت یہ ہے کہ ہمیں کوئی یاد کرنے والا ہی نہ رہے ۔ ہمارے لئے کوئی دل تڑپنے والا نہ ہو، ہم پر کسی کی متلاشی نظر پڑنے سے اسے سکون نہ لے اگر ہماری زندگی میں رشتوں کا تقدس ختم ہوجائے تو پھر زندگی کیا ہے اور اس کا ہونا کیا ہے ، آج کل رشتے نہ جانے کیوں محبت ، احترام سے آزاد ہوکر گستاخی اور بیباکی کے لبادے میں زیادہ نظر آرہے ہیں کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارا انتظار کرنے والا نہ ہو کوئی ہمیں بے لوث دعائیں دینے والا نہ رہے ، کوئی ہماری پریشانی پر خود پریشان نہ ہو ، کوئی ہمارے دکھ تکلیف باٹنے والا نہ رہے ، آج کے ماحول نے بھائیوں کو بھائیوں اور بہنوں کو بہنوں سے جدا کررکھا ہے ، اولاد والدین سے دور رہنے میں سکون محسوس کرتی ہے ۔ جن کے قدموں میں اللہ نے جنت رکھ دی اولاد ان کے قدموں کی چاپ بھی سننا پسند نہیں کرتی جنہوں نے مشقت سے اولاد کو پالا ہوتا ہے وہ اولاد والدین کو اولڈ ہاو¿سز میں چھوڑ آتی ہے لیکن اس بے وفائی کے عمل کے باوجودبوڑھیں آنکھیں اولاد کے انتظار میں اگر چہ پر نم رہتی ہیں لیکن دل دعائیں دینے سے کبھی غافل نہیں رہتے ۔نہ ٹوٹنے والے رشتے بے لوث ہونے کا ثبوت دیتے ہیں ۔آسمان کے دروازے کھٹکھٹانے والے دل کے دروازے پر دستک نہیں دیتے ، آج کل نہ جانے کیا فضا پھیل گئی ہے کہ بھائی بہنوں کے کبھی مان ہوا کرتے تھے لیکن اب خود غرضی کی عینک سے دیکھنے والوں کے دل اور دماغ کبھی پیا کے دیس میں بسنے والی بہنوں کو بھولے سے فون بھی نہیں کرتے ۔ ستاروں کی گزر گاہیں تلاش کرنے والا دل کی وادی کا راستہ بھول چکا ہے ، کوئی بہن اگر حالات کا مارا ہوا غریب ہے تو وہ قید تنہائی کا شکار ہے کوئی بہن بھائی اس کی تکالیف کو شیئر کرنے یا اسکا مداوا کرنے کیلئے رابطہ نہیں کرتا جس پر آفت پڑی ہو وہ جانے یا اس کے بیوی بچے ، یہ کیسا زمانہ ہے کہ رشتے اجنبیت کا لبادہ اوڑھ چکے ہیں ، ڈبڈباتی آنکھوں سے بہن یا غریب بھائی اپنوں کا راستہ تکتے رہتے ہیں کیا بے مروتی سے رشتے ختم ہوجاتے ہیں نہیں بلکہ دکھ کی بیاض میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ، بے جان سی چیزوں کو جمع کرنے اور ان سے محبت بڑی گاڑیاں پر تعیش گھر بینک میں رکھی دولت کے نشے میں مست انسان کے پاس اتنا بھی وقت نہیں رہ گیا ہے کہ وہ خونی رشتوں کی مہک کو محسوس کرسکے ۔ جذبوں سے عاری انسان رشتوں کو توڑتے ہوئے خود بھی ٹوٹ چکا ہے ، ڈپریشن عام ہے ، ڈاکٹروں کے کلینک بھرے پڑے ہیں ، انسان کا باطن مریض بن جائے تو کونسا ڈاکٹر کس نسخے سے اسے ٹھیک کرسکتا ہے ، بے حسی کی اکاس بیل ادر لپٹ جائے تو چھٹکارا ناممکن ہی نہیں بلکہ قدرے مشکل ہوجاتا ہے ۔ آج کا انسان صرف مکان میں رہتا ہے ، گھر میں نہیں رہتا باہمی اشتراک کے زمانے ختم ہوگئے ۔ ملاقاتیں ضرورت کے گرد گھومتی ہیں ، تعلق افادیت کے بغیر پروان نہیں چڑھتے ، انسانوں کے میلے میں وہ اکیلا ہوچکا ہے وہ کسی کا نہیں اور کوئی اسکا نہیں وہ صرف چیزوں کے حصار میں قید ہوچکا ہے ، رشتوں کے تقدس اور اس کی لطافت سے محروم ہوچکا ہے ۔ ماڈرن بنتے بنتے انسانیت اور اسکے جذبوں سے محروم ہوچکا ہے محبت اور احترام سے عاری ہوکر انسان گستاخ بے ادب خودغرض اور خود فریبی کا شکار ہوچکا ہے ، اسے انسانی اور خونی رشتوں کی پہنچان نہیں رہی خود فریبی کا شکار اسنان مفادپرستی کی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے ، اللہ نے جو رشتے بنادیئے ہیں ان کی لاج رکھنا ضروری ہے ورنہ پچھتاوے دیمک کی طرح دل اور دماغ کو چاٹتے رہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔