کالم

سےلاب اور تباہی ہمارا مقدر کےوں؟

syed-dildar

تپتی ہوئی زمےن پر بارش کے پہلے قطرے گرتے ہی فنا ہو جاتے ہےں لےکن ان قطروں کے بعد مزےد قطرے گرنا شروع ہو جائےں تو پھر سےلاب کی شکل اختےار کر لےتے ہےں ۔اس سےلاب سے بڑے بڑے پشتے ٹوٹ جاتے ،شہروں کے شہر تباہ ہو جاتے ہےں ۔ بڑے بڑے گھڑے پڑ جاتے ،قےمتی املاک ، حےوان ،انسان جو بھی ان رےلوں کے سامنے آ جائے بہہ جاتا ہے ۔حالےہ غےر معمولی بارشوں اور سےلاب کی تباہ کارےوں مےں شہر ڈوب گئے ،شہروں اور دےہات مےں گھروں کے اندر کئی فٹ تک پانی آ گےا ،گھرےلو سامان ،مال موےشی ، کھڑی فصلےں ،ہرے بھرے کھےت پانی مےں بہہ گئے ۔درےا اور ندی نالے بپھر گئے ۔ملک کے چاروں صوبوں ،آزاد کشمےر ،گلگت اور بلتستان مےں 30سالہ رےکارڈ قائم کرتے ہوئے اندازاً 6سو فےصد زےادہ طوفانی بارشوں اور تند و تےز سےلابی رےلوں نے جو ہولناک تباہی مچائی ہے اس سے مجموعی طور پر اب تک کے دستےاب اعدادو شمار کے مطابق 116اضلاع مےں 326بچوں سمےت اےک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہےں ۔بستےوں کی بستےاں غرقاب ہو چکےں ،تےن کروڑ لوگ بے گھر ہو چکے ہےں ۔پانچ لاکھ سے زےادہ مکانات کو نقصان پہنچا ہے ،10لاکھ سے زےادہ موےشی پانی مےں بہہ گئے ہےں ،2886شاہراہےں پانی کی نذر ہو گئےں ،3ہزار کلو مےٹر سڑکےں اور129پل بہہ گئے ،کروڑوں روپے کا گھرےلو سامان تباہ ہو گےا ،ہزاروں ٹن گندم خراب ہو گئی اور صرف سندھ مےں وزےر اعلیٰ مراد علی شاہ کے مطابق 90فےصد کھڑی فصلےں تباہ ہو گئےں ۔بلوچستان کا سندھ اور خےبر پختونخواہ سے زمےنی رابطہ منقطع ہو گےا ،نواب شاہ اےئر پورٹ بھی رن وے پر پانی آجانے سے بند کر دےا گےا ہے ۔اپر دےر مےں 6بچے جاں بحق ہو چکے ۔محسن نقوی نے اےسے حالت کی تصوےر کشی کرتے ہوئے کہا تھا۔
محسن غرےب شہر بھی تنکوں کا ڈھےر ہےں
ملبے مےں دب گئے کبھی پانی مےں بہہ گئے
کئی گرڈ اسٹےشن بند ہو چکے ہےں جن علاقوں سے کسی حد تک پانی اتر چکا ہے وہاں سے انسانوں کی لاشےں برآمد ہو رہی ہےں ۔بچوں کی مٹی مےں لتھڑی ہوئی مےتےں کرب ناک مناظر کی گواہ ہےں ۔کہتے ہےں ےہ موسمےاتی تبدےلی کا شاخسانہ ہے مگر ےہ بلوچستان مےں 21ڈےمز کا ٹوٹنا ہماری کرپشن کی گواہی دے رہا ہے ۔ےہاں پتھر رکھنے کی بجائے مٹی سے کام لےا گےا جسے سےلاب کا رےلا بہا کر لے گےا ۔اس وقت پاکستان مےں موسم کو مانےٹر کرنےوالے 70 آبزروےشن سسٹم ہےں مگر ان مےں سے خودکار صرف 50ہےں ۔سات موسمی رےڈار بھی موجود ہےں لےکن ان مےں سے تےن کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔سمندر کے اندر مانےٹر کرنے والا کوئی سسٹم نہےں ۔اس وقت ہزاروں متاثرےن در بدر ہےں ،کھانے پےنے کی اشےاءبھی ان تک نہےں پہنچ پاتےں ۔حکومت اور سےاسی جماعتوں کا روےہ اس سےلابی صورتحال مےں بے حسی کا شاہد تھا ۔ ہمارے سےاستدانوں کو اقتدار کی راہدارےوں سے نکلنے کی فرصت نہےں تھی ۔اقتدار کی بازی جےتنے کےلئے جنگ جاری تھی ۔عمران خان کا فوکس بھی اپنی احتجاجی سےاست تک محدود تھا ۔ انہوں نے بھی اپنی تقرےروں اور پرےس کانفرسوں مےں سےلاب سے پےدا ہونےوالی صورتحال کا کوئی خاص ذکر نہےں کےا ۔سےاست کی ےہ سرد مہری اور بے حسی انتہائی ماےوس کن ہے ۔اےسی بے حسی پہلی دفعہ دےکھنے مےں نہےں آئی ۔ےہ کہانی پرانی ہے ۔کچھ فلاحی اور مذہبی تنظےمےں بشمول جماعت اسلامی امدادی کاروائےوں مےں مصروف ہےں ۔پاک فوج رےسکےو اور رےلےف آپرےشن مےں ہمےشہ کی طرح بھرپور حصہ لے رہی ہے ۔سندھ مےں پاک فضائےہ اور بحرےہ بھی امدادی سرگرمےوں مےں مصروف ہے لےکن جس بڑے پےمانے پر تباہی آئی ہے ،امدادی سرگرمےاں بھی بڑے پےمانے پر رےلیف کی متقاضی ہےں جس مےں پوری قوم کی شمولےت درکار ہے ۔
معزز قارئےن سےلاب تو دنےا بھر مےں آتے ہےں ۔امرےکہ مےں بڑے بڑے سونامی آتے ہےں مگر زندگےوں کو محفوظ رکھنے کو وہ اپنا پہلا فرےضہ سمجھتے ہےں ۔کسی سونامی ےا سےلاب مےں دوچار لوگ مر جائےں تو وہاں بھونچال آ جاتا ہے ۔دنےا بھر مےں سےلاب سے نمٹنے کےلئے مون سون سے قبل منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔محکمہ موسمےات اور اس سے متعلقہ محکموں کی رپورٹوں کو لے کر صوبائی حکومت ،ضلعی حکومتوں ،بلدےاتی اداروں ،محکمہ آبی وسائل ، محکمہ انہار اور دےگر رےسکےو اداروں سے مل کر باقاعدہ حکمت عملی تےار کی جاتی ہے ۔جن علاقوں مےں سےلاب آنے کا امکان ہو وہاں سے آبادی کا انخلا پہلے ہی کر لےا جاتا ہے ۔کسانوں کو فصلوں کے حوالے سے برےف کےا جاتا ہے تاکہ ان کے مال موےشی محفوظ مقامات تک پہنچائے جا سکےں اور کم تباہی ہو ۔ہمارے ہاں سےلاب کی طغےانی سے تباہی کا ہولناک منظر ہر سال دےکھنے کو ملتا ہے ۔اس سے برپا ہونے والی تباہےوں اور بربادےوں پر اظہار افسوس بھی کےا جاتا ہے مگر مجال ہے کہ ان طوفانی بارشوں سے ہونے والی تباہےوں سے بچنے کےلئے کوئی پےش بندی کی جائے ۔پرانے زمانے مےں ہمارے لئے ےہ کہا جاتا تھا کہ مسلمان آگ لگنے کے بعد کنواں کھودنے لگتا ہے جبکہ ےورپ والے آگ لگنے سے پہلے کنواں کھودتے ہےں وہ دور شاےد بہتر ہی تھا کنواں کھود لےا جاتا تھا ،کم ازکم کنوےں کی اہمےت سمجھ لی جاتی تھی ۔اب تو صورتحال کچھ اےسی ہے کہ صرف کنواں کھودنے کا اعلان کےا جاتا ہے ۔نئی آگ لگنے تک وعدہ کرنے والا تارےخ کی نذر ہو چکا ہوتا ہے لہٰذا نئے آدمی کو دوبارہ اعلان کرنے مےں شرمندگی محسوس نہےں ہوتی ،کنواں نہےں بنتا آگ لگتی رہتی ہے اور لوگ مرتے رہتے ہےں ۔اگر سدھار ،بھلائی اور آفات سے نجات مطلوب ہے تو سماج کو سدھارنا پڑے گا ۔ہمارا دوست ملک چےن جہاں ہر سال سےلاب آتے ،تباہی مچاتے ،لوگوں کو ہلاک کرتے اور ان کی فصلےں اور گھر اجاڑ دےتے ۔چےن کے قوم پرست لےڈر ماﺅزے تنگ نے کہا کہ ہمارے عوام کی ےہ تقدےر نہےں ہو سکتی کہ وہ ہر سال سےلاب کی نذر ہوتے رہےں ۔اس نے فےصلہ کےا کہ ہم سےلابوں کا رخ موڑ دےں گے ۔انہوں نے قوم کے تعاون سے جہاں جہاں درےا گزرتے تھے وہاں پختہ بند بنا دئےے اور اس طرح عوام کو ہمےشہ کےلئے سےلاب کی تباہ کارےوں سے محفوظ بنا دےا ۔آج کا سوال ےہی ہے کہ آےا حکومت نے عوام کو سےلابی تباہ کارےوں سے نجات دلانے کےلئے کوئی پےشگی پلان ترتےب دےا ؟ آج وطن عزےز تمام سےاستدانوں ،دانشوروں اور مےڈےا کی زےنت اےنکر پرسنوں کا اےک ہی واوےلا ہے کہ ملک مےں سےلاب کی تباہ کارےوں سے نمٹنے کےلئے کوئی تےاری نہےں کی گئی تھی ۔صرف الزامات کے پتھروں کی بارش سے تو آج سےلاب کی طغےانی کے نقصان کا ازالہ نہےں ہو سکتا ۔اگر حکومت نے اس طغےانی کے سد باب کےلئے کچھ نہےں کےا تھا تو اخبارات اور الےکٹرک چےنلوں نے سےلاب کی تباہ کاری سے بچاﺅ کےلئے کتنے مذاکرے اور پروگرام تشکےل دئےے ۔ لوگ ڈوب رہے تھے ،بے گھر ہو رہے تھے اور ےہ سےاست لےکر بےٹھے ہوئے تھے ۔اگر حقےقت حال کا بنظر غائر جائزہ لےں تو سےلاب سے جتنی بڑی تباہی آئی ہے اس کے انتظامات کےلئے سالہاسال کا وقت درکار اور اےک خطےر رقم بھی اس مد مےں خرچ کرنے کی ضرورت ہے ۔ادھر ہمارا ہمساےہ بھارت ہماری اس تباہی مےں کافی حصہ ڈالتا ہے ۔وہ برسات کے موسم مےں اپنا فالتو پانی ہماری طرف چھوڑ دےتا ہے ۔حکمرانوں اور ملک کے پالےسی سازوں کو مورد الزام ٹھہرانا ،سسکتی انسانےت کو دم توڑتے دےکھ کر پرےشان ہونا اور افسوس کرنا انسانےت کےلئے درد دل رکھنے والوں کا فطری عمل ہے ۔دےکھنا ےہ ہے کہ جب ہماری قومی ترجےحات مےں اس قسم کی تباہی سے نبرد آزما ہونے کےلئے کوئی گنجائش ہی نہےں ہے تو پھر ہنگامی بنےادوں پر کئے گئے اقدامات تو زےادہ بار آور ثابت نہےں ہو سکتے ۔آج سےلاب سے متاثر ہزاروں لوگ مناسب خوراک ، ادوےات اور پےنے کے پانی سے محروم ہےں ۔ ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے پڑے ہےں ۔ آج تو پوری قوم سے ےہی اپےل کی جا سکتی ہے کہ وہ رےلےف کے کاموں مےں اپنا حصہ ضرور ڈالےں اور چارہ گری اختےار کرتے ہوئے افتادگان تک خوراک و پانی اور ادوےات پہنچا کر ہر سطح پر ان مصےبت زدہ بھائےوں کی مدد کرےں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔