کالم

سیلاب زدگان کےلئے امریکی مسلمانوں کی ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی امداد

riaz-chuadary

پاکستان کو اس وقت تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا ہے۔ جس قدر جانی و مالی نقصان ہو چکا‘ اس کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے‘ تاہم یہ نقصان اس قدر ہے کہ جس کو پورا کرنے میں کئی برس درکار ہونگے۔پاکستان سے باہر انسانی ہمدردی رکھنے والے ممالک بھی پاکستان اور اہل پاکستان کی ان مشکلات اور تکالیف کا احساس رکھتے ہیں اور مشکل کی ان گھڑیوں میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بیرون ملک پاکستانی دل کھول کر سیلاب زدگان کی مدد کر رہے ہیں۔ اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ(ICNA) نامی تنظیم کے تحت شمالی امریکہ میں بسنے والے پاکستانیوں نے سیلاب زدگان کی امداد کےلئے لاکھوں ڈالرز کے عطیات دیئے ہیں۔ آپ سب شاید ICNA کے بارے میں کم ہی جانتے ہوں اور جانیں گے بھی کیسے کیونکہ ہمارے ذرائع ابلاغ جہاں لفظ اسلام آ جائے اس کی ترویج سے دور رہتے ہیں، کیونکہ ان کو یہاں مسالہ نہیں ملتا، کسی مخالف پارٹی کے لیڈر کےلئے الزامات اور لڑائیاں نہیں ہوتی ہیں، اپنے لیڈر کو آفاقی بنانے اس کو یونانی شہزادہ کہنے کی باتیں نہیں ہوتی ہیں۔اکنا اخوان المسلمین اور جماعت اسلامی کے امریکہ میں رہائشی افراد پرمشتمل تنظیم ہے جو اس وقت امریکہ میں لیڈنگ انسانی خدمت کی تنظیم ہے۔ اس کا دائرہ دنیا کے ہر ملک تک پہنچ گیا، یہ آپ کو برما، شام، عراق، افغانستان، فلسطین اور جہاں جہاں مسلمان مصائب کا شکار ہیں ان کے شانہ بہ شانہ ملے گا۔ اکنا میں فنڈ کی شفافیت اس کے خرچ اتنے واضح ہیں کہ امریکی اداروں کو بھی ان پر اعتماد ہے۔اکنا کے پلیٹ فارم سے ہر سال ہزاروں غیر مسلم حلقہِ بگوش اسلام ہوتے ہیں۔ ان کی مساجد ان کے اسلامک سینٹرز ان کی چیریٹی، ان کی انسانی خدمت اس وقت امریکہ میں لیڈنگ رول ادا کر رہی ہے۔پاکستان میں سیلاب زدگان کےلئے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی امداد ان کی مسلم دوستی کا ثبوت ہے۔اکنا تنظیم پاکستان میں الخدمت کے ساتھ یہ کام کرتی ہے۔ یہ الخدمت کے ڈیٹا پر حکومتی ذرائع سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔سیلاب زدگان کےلئے الخدمت فاو¿نڈیشن کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ان کے پاس محدود وسائل ہیں مگرپھر بھی ان وسائل کو مکمل طور پر متاثرہ افراد کی مدد کےلئے استعمال کر رہے ہیں۔ جگہ جگہ سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو کشتیوں سے محفوظ مکامات پر پہنچا رہے ہیں۔ بڑے شہروں سے سامان کے ٹرک سیلاب زدگان کی امداد کےلئے پہنچ رہے ہیں۔ عوام نے جماعت اسلامی اور الخدمت پر اعتماد د کیا چند دنوں میں پینتالیس (45) کروڑ کے فنڈ دیے۔ اس کی ایک ایک پائی سیلاب زدگان تک پہنچا دی جائے گی۔ گزشتہ دو ماہ سے کراچی سمیت پورے پاکستان میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الخدمت نے شروع دن سے ہی متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کے فرائض انجام دینے کےلئے ٹیمیں روانہ کردی تھیں ۔ جیسے ہی بلوچستان اور سندھ میں سیلابی تباہ کاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تو مقامی الخدمت سے رابطہ کرکے ریلیف کا کام کیا۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث رابطہ اور راستے بند ہوچکے تھے۔ اندرون سندھ میں اکثر گاو¿ں صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ 903 افراد ان بارشوں کی وجہ سے جاں بحق ہوچکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں جانور مر چکے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان مشکلات میں ڈوبا ہوا ہے۔ عوام تباہ کن مون سون اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے۔ ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے۔ اہم انفراسٹرکچر ملیا میٹ ہو گیا۔ لوگوں کے خواب چکناچور اور ان کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ تباہ کن سیلاب سے ہر صوبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔پوری دنیا میں ہر سال بارشیں ہوتی ہیں۔بارش اللہ کی رحمت ہے مگر حکومتی نااہلی، کرپشن اور انتظامی غفلت کی وجہ سے یہ انسانوں کے لیے زحمت بن جاتی ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیشگی اطلاع کے باوجود حکومتی بے حسی افسوس ناک اور عوام دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔ اداروں کی کرپشن اور حکومتی نااہلی کی وجہ سے اس وقت کراچی سے کشمور تک سندھ کا ہر شہر تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ سیوریج و بارش کے پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے پانی سڑکوں، گلیوں اورمحلوںمیں تالاب اور جوہڑ کی شکل اختیار کرگیا ہے ، پانی لوگوں کے گھروں دکانوں و بازاروں میں داخل ہوچکا ہے۔ جس کی وجہ اربوں کا نقصان اور غریب لوگ اپنی سال بھر کی جمع پونجی سے محروم ہوگئے ہیں۔ متاثرین کی امداد کےلئے اقوام متحدہ 16 کروڑ ڈالرز کی فلیش اپیل کر رہا ہے ۔ چین ، امریکہ ،ترکیہ اور یورپ سمیت دیگرممالک نے بھی پاکستان کے سیلاب زدگان کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی اپیل پر 131 ارب روپے جمع ہو چکے ہیں جبکہ بعض ممالک اور اداروں کی طرف سے اعلان کردہ امداد پائپ لائن میں ہے۔ پاکستان کیلئے عالمی برادری کی طرف سے ہمدردی کے جذبات حوصلہ افزا ہیں۔پی ٹی آئی کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان کے ٹیلی تھون سے صرف تین گھنٹے میں پانچ ارب روپے جمع ہوگئے۔ ان سے بلاشبہ اہل پاکستان کے حوصلے بڑھے ہیں‘ تاہم اب یہ حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ امدادی رقم کی مستحقین میں منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں۔ تقسیم کے عمل کو مکمل طورپر شفاف رکھا جائے اور ایک پیسہ کی بھی خیانت نہ ہونے دی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔