کالم

سیلاب کی بد ترین صورت حال

sufi nama

سیلاب نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ہر طرف تباہی اور بربادی نظر آ رہی ہے پنجاب سندھ بلوچستان کی پی کے گلگت بلتستان سیلاپ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں لاکھوں لوگ بھوک افلاس اور بے سروسامانی کا شکار ھوئے ہیں اگرہم سندھ کا ذکر کریں تو سندھ کا کوئی شہر ہو یا دیہات سیلاب کی تباہ کاریوں سے نہیں بچ سکا پی پی پی کے سربراہ بلاول بھٹو کے اپنے علاقے لاڑکانہ میں بھی لوگوں کے مکانات گر گئے مویشی سیلاب کی نذر ہو گئے لوگ بغیر شیلٹر کے کھلے آسمان تلے سڑکوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں دادو سکھر مٹیاری حیدرآباد کے علاقے بھی بری طرح متاثر ہوہے ہیں سندھ کے گاﺅں گوٹھ میں فصلیں اور باغات تباہ ہو گئے ہاریوں کے مکانات پانی کی نذر ہو گئے کراچی حیدراباد اور سکھر کے سرکاری دفاتر بھی پانی میں ڈوب چکے ہیں ہر طرف پانی ہی پانی نظر ا ٓرہا ہے ستمبر کے مہینے میں بھی بارشوں کی پشین گوئی کی گئی ہے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کر رہے ہیں بلاول بھٹو بھی ان کے ساٹھ ہوتے ہیں پنجاب میں راجن پور اور جنوبی پنجاب کا بیشتر علاقہ سیلاب سے بہت متاٹر ہوا ہے دیہات کے دیہات پانی کی نذر ہو گئے ہیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی بھی متحرک ہو گئے ہیں وہ بھی سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کر رہے ہیں اور سیلاب متاٹرین کی مدد کر رہے ہیں کے پی کے میں بھی سیلاب نے بہت نقصان کیا ہے پا نی کے ریلوں کا بہاﺅ اتنا تیز تھا کہ وادی کالام میں کئی۔ منزلہ ہوٹل پانی میں بہہ گیا پاک فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے کالام کا دورہ کیا انھوں نے کہا غیر قانونی تعمیرات پر سزا ملنی چاہے انہوں نے فوج کی جانب سے سیلاب زدگان کی امدادی سرگر میوں کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے محمود خان بھی سیلاب ذدگان کی امداد کیلئے متحرک نظر اتے ہیں بلوچستان مہں اب بھی سیلاب نے بہت تباہی کی ہے بھوک نے ہر طرف ڈیرے ڈالے ہوہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدلقدوس بھی کافی سرگرم ہیں مشکل کی اس گھڑی میں افواج پاکستان پورے ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں بہت زیادہ متحرک ہے انہوں نے وادی سوات میں ایک غیر ملکی جوڑے کو ریسکیو کیا ہے اس قدرتی افت سے اکیلے نہیں نپٹا جا سکتا اس لیے ۔وزیر اعظم نے بین الاقوامی اداروں سے مدد کی اپیل کر دی ہے وزیر اعظم شہباز شریف نے پنجاب کے پی کے سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کیے اور متاٹرین کے سر پر ہاتھ رکھا لوگوں میں گھل مل گئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب کیا او ر عوام سے مدد کی اپیل کی ہے انہوں نے بھی کہا کہ سیاست ہوتی رہے گی مسلم لیگ کے کارکن عوام میں جائیں اور سیلاب سے متا ثرہ علاقوں میں کیمپ لگا کر متاثرین کی مدد کریں ۔انہوں نے وزیر اعظم کی کاوشوں کو سراہا ہے شہباز شریف نے تمام صوبوں کے سیلاب متاثرین کےلئے اربوں روپے جاری کیے ہیں ایک بڑے رائل اسٹیٹ گروپ کے سر براہ ملک ریاض سیلاب متاٹرین کی مدد کےلئے آپ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خیمہ بستیاں قائم کر رہے ہیں خوراک کپڑے اور ضرورت کی دیگر اشیاہ بھی فراہم کر رہے ہیں سہارا الخدمت اور ایدھی فاﺅنڈیشنز بھی سیلاب زدگان کی مدد کےلئے سرگرم عمل ہیں ہماے دوست ترکیہ چین قطر کویت اور امارات سے پھی امداد انا شروع ہو چکی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سیلاب سے اب تک دس ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کےلئے پینتیس ارب روپے کی ضرورت ہے تین چار کروڑ افراد متا ثر ہوہے ہیں ہزاروں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ آج ہمیں پوری قوم یکجا نظر آ رہی ہے وزیر اعظم روزانہ کی بنیاد پر سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کر رہے ہیں لیکن پی ڈی ایم کے تیرہ رکنی اتحاد کا ایک سر براہ مولانا فضل الرحمن سمیت سیلاب زدہ علاقوں میں نظر نہیں آیا۔ تحریک ا نصاف کے سربراہ عمران خان نے سیلاب زدگان کی بحالی کی ٹیلی تھون کے ذریعے پانچ سو بیس کروڑ روپیہ جمع کیا۔ جبکہ حکومت کو بیرونی ممالک سے صرف تین سو بیس کروڑ روپے اکٹھے ہوہے ہیں مصیبت کی اس گھڑی میں تمام سیاسی وابستگیوں کو بالاے طاق رکھ کر مجبور اور دکھی لوگوں کی مدد کریں۔ سیلاب زدگان کی امداد کےلئے انجمن ہلال احمر پاکستان نے بھی کروڑوں روپے امداد کا اعلان کیا ہے سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں سندھ ہیں بارشوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا دنیا بھر سے مالی امداد اور اشیا کی ا مداد کا سلسلہ جاری ہے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان میں سیلاب کی صورت حال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ سیلاب سے سکول تباہ ہو گہے شہر دیہات پانی میں ڈوب گئے سڑکیں اسپتال پانی کی نذر ہو گئے غرض ملک کا پورا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک اگے اہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب زدہ ملک کی مدد کریں اقوام متحدہ نے بھی ہر قسم کی امداد کا اعلان کیا ہے ۔تقریباً پوری دنیا سے ہمیں امداد ا رہی ہے اب اصل کام اسے حقیقی مستحقین تک پہنچانا ہے سیلاب کی وجہ سے خوراک اور سبزیوں کی قلت پیدا ہو گئی ہے خاص طور پر سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ پیاز چار سو روپے کلو تک فروخت ہو رہا ہے حکومت نے افغانستان سے سبزیاں درامد کرنے کی اجازت دے دی ہے اور ٹیکس ختم کر دیا ہے بھارت سے واہگہ کے راستے سبزیو ں کی درامد کی اجازت دے دینی چاہے اہی ایم ایف کا پروگرام بحال ہو چکا ہے مگر اس پروگرام کی منظوری سے قبل ہم نے آئی ایم ایف کی بہت سی مشکل شرائط مانی ہیں کیا ہم موجودہ سیلاب کی تباہیوں کے بعد وہ شرائط پوری کر سکیں گے بجٹ میں مقرر کردہ ٹارگٹس ہم سیلاب کی وجہ سے پورا نہیں کر پائیں گے۔ ہمیں پروگرام کو ری شیڈول کروانے کےلئے تیار رہنا ہو گا آج پوری قوم اس وقت انتہائی مشکل میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمت دے کہ ہم ملک کی تعمیر نو کر کے سیلاب زدگان تک خوراک ادویات اور ضرورت کی دیگر اشیا پہنچا کر انکو گھروں میں دوبارہ آباد کرسکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔