معیشت و تجارت

جمیعت القریش کا حکومت سے دودھ اور گوشت والے جانور ہمسایے ممالک سے امپورٹ کرنے کا مطالبہ

مرکزی صدر آل پاکستان جمیعت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن و ڈائریکٹر لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ خورشید احمد قریشی نے کہا کہ ملک میں لائیوسٹاک ختم ہو رہا ہے

مرکزی صدر آل پاکستان جمیعت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن و ڈائریکٹر لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ خورشید احمد قریشی نے کہا کہ ملک میں لائیوسٹاک ختم ہو رہا ہے حالیہ سیلاب میں کم و بیش 20 لاکھ جانور ڈوب کر مر گئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ لمپی سکن وائرس کی ویکسین بروقت میسر نہ ھونے کی وجہ سے پہلے ھی ھزاروں جانور ھلاک ھو چکے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان بھر کی عوام پروٹین سے محروم ہو رہی ہے کیونکہ ملک سے لائیوسٹاک اور ایگریکلچر سیکٹر مزید بحران کا شکار ہو چکا ہے ۔ اگر اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل قریب مزید جانوروں کی ھلاکت کااندیشہ ھے۔جس کی وجہ سے جانوروں کی مزید قلت کا موجودہ حکومت اور ملکی معیشت کے سروں پر خطرہ منڈرا رہا ہے حکومت لائیوسٹاک کے ضائع ہونے سے پیدا ہونے والے بحران کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہے ۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر گوشت اور دودھ کے بحران پر قابو پانے کیلئے حکومت کو چاہیے کہ وہ ہمسایے ممالک سے دودھ اور گوشت والے جانور امپورٹ کریں ۔ لہذا ہمارا موجودہ حکومت سے یہ مطالبہ ہے کہ ملکی لائیوسٹاک پر توجہ دی جائے اور لائیوسٹاک کو ضائع ہونے سے محفوظ رکھنے کیلئے فوری طور پر اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور وزارت نیشنل فوڈ سیکرٹی اینڈ ریسرچ کو چاہیے کہ وہ دودھ ،گوشت اور جانوروں کے شعبہ سے منسلک ماہرین سے مشاورت کر کے اس بحران پر قابو پانے کیلئے اقدامات کئے جائے وگرنہ وہ وقت دور نہیں جب ملک سے لائیوسٹاک تباہ و برباد ہو کر ختم ہو جائے گا اور ملک جیسے 1947 میں مختلف بحران کا شکار تھا اس وقت ملک کو اس سے زائد بحران کا شکار ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔