پاکستان

میری کال ریکارڈنگ کو توڑ مروڑ کر کیا ثابت کیا گیا ؟

میری کال ریکارڈنگ کو توڑ مروڑ کر کیا ثابت کیا گیا ؟

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اور سابق وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے پریس کانفنس کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ میری اڈیو گفتگو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔
سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا بند کریں اس سے جمہوریت کو نقصان ہو گا، ہفتہ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن والے اپنے گریبان میں جھانکیں انہوں نے کیا کیا، ہم اپنے پیسے خود اپنے عوام پر خرچ کرنا چاہتے ہیں اور عمران خان نے ٹیلی تھون سے جو رقم اکٹھی کی وہ ملک بھر کے متاثرین میں تقسیم ہو گی،انہوں نے کہا کہ شوکت ترین کے والد نے برطانوی جیل میں قید کاٹی تو بیٹا کیسے غدار ہوا۔ ن لیگ والوں کو کہنا چاہتا ہوں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا بند کریں کیونکہ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے سے جمہوریت کو نقصان ہو گا،سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ شوکت ترین تھائی لینڈ سے ۵۰لاکھ مہینے کی تنخواہ چھوڑ کے پاکستان آیا تھا اور شوکت ترین نے ساتواں این ایف سی ایوارڈ کرایا لیکن اس وقت تو غدار نہیں تھا،انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کو یاد دلادوں کہ ملیشیا کی کمپنی کے معاملے میں مجھے فریق بنایا گیا اور میں اپنے خرچے پر ملیشیا گیا جہاں بیان دیا تو معاملہ حل ہوا۔ شاہد خاقان عباسی کو بتانا چاہتا ہوں شوکت ترین غدار نہیں ہے،شوکت ترین نے کہا کہ آڈیو ٹیپ کے ذریعے سے پی ٹی آئی کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ ٹیلی فون پر پرائیوٹ گفتگو ٹیپ کرنے کا عمل غیرقانونی ہے۔ وزیر خزانہ خیبر پختونخوا نے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو خط لکھا تھا۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ میں نے ۱۹ سال کے بعد این ایف سی ایوارڈ دیا تب تو میں غدار نہیں تھا، غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے بند ہونے چاہئیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہناتھا کہ مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف سے بات چیت کر رہے تھے ہماری آڈیو توڑ مروڑ کر لیک کر دی گئی کسی کی گفتگو کو ٹیپ کرنا قانوناً جرم ہے ، ہم نے تو کوئی آڈیو لیک نہیں کی، آڈیو لیک ہونے سے آئی ایم ایف ڈیل متاثر ہونے کا خدشہ تھا تو انہوں نے کیوں لیک کی، اس سے پہلے یا بعد میں کر لیتے اسی روز ہی کیوں لیک کی گئی ۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم دنیا سے بھیک مانگ رہے ہیں، یہ ادھار لے رہے ہیں حالانکہ عمران خان نے کورونا کے ایام میں آئی ایم ایف سے رعایت لی تھی، انہیں بھی بھیک مانگنے، قرضے لینے کی بجائے رعایت مانگنی چاہئے ، صوبوں کے بجٹ کے مطابق سویا سوا سو بلین کے سرپلسز ہیں، آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کیلئے تمام صوبوں سے ساڑھے ۷۰۰ارب کے سر پلسز کیلئے سائن کرائے، یہ تو کسی صوبے کے بجٹ میں ہے ہی نہیں ، اس کی تہمت بھی ڈال دی گئی، آئی ایم ایف کے پاس جائے اور کہیں کہ کووڈ میں ریلیف کی طرح اس بار بھی دیں ۔
سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان نے ٹیلی تھون کے ذریعے ساڑھے پانچ ارب روپے اکٹھے کئے اور انہوں نے کہا کہ یہ پیسے ملک کے عوام کیلئے ہیں، صرف خیبرپختونخوا اور پنجاب کیلئے نہیں ہے ، یہ سندھ اور بلوچستان کیلئے ہیں ، جہاں جہاں لوگ متاثر ہوئے ہیں ہم یہ پیسے ان سے بانٹیں گے ، یہ آج ہم پر غداری کی بات کرتے ہیں ، جنوری میں یہ خود کیا کر رہے تھے ، جب ہم آئی ایم ایف کے چھٹے جائزہ کیلئے جا رہے تھے تو ان کی ٹاپ لیڈر شپ نے کہا کہ ہمارے ساتھ غداری ہو رہی ہے ۔
میں نے ہی ۱۹ سال بعد صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ دیا ، تب تو میں غدار نہیں تھا۔ شاہد خاقان عباسی کو یاد دلانا چاہتا ہوں جو ملائیشیا کی آئل کمپنی تھی جس کے ساتھ ان کی آبٹریشن لندن میں ہو رہی تھی میں، اس میں میں فریق نہیں تھا مگر مجھے بنا دیا گیا ، میں اگر نہ جاتا تو وہ ڈیل ان کے خلاف جاتی، میں اپنے خرچے پر میں ادھر گیا ،یہ اس وقت انرجی کے وزیر تھے ، میں نے بیان دیا اور میرے بیان نے ایک بہت بڑا کردار ادا کیا ، تو شاہد خاقان عباسی صاحب ، شوکت ترین غدار نہیں ہے ، ان چیزوں سے آگے نکلیں ، غداری کےسرٹیفکیٹ بانٹنے بند کر دیں ، اختلاف رائے ہوتا ہے ۔
انہوں نےکہا کہ معیشت کی حالت یہ ہے کہ اس وقت کنزیومر پرائس انڈیکس۲۷۔۳ فیصد ہے جو پچھلے سال اگست میں ۸۔۴ فیصد تھی جب شور تھا کہ مہنگائی بہت ہے ۔ بجلی کی قیمت ۱۶ روپے تھی ، اب ۳۸ روپے مل رہی ہے جو اب پچاس روپے فی یونٹ تک جائے گی ، گیس کے چارجز بڑھنے والے ہیں وہ ۵۳ فیصد تک بڑھنے والے ہیں ، یہ آئی ایم ایف نے آج شرط ڈالی ہے ، حکومت نے بجٹ کے وقت کہا تھا کہ مہنگائی ساڑھے گیارہ فیصد ہو گی ، اب کوئی ۲۰ اور کوئی ۲۶ فیصد کہہ رہا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔