کالم

بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب آنا پڑیگا

Asghar-Cheema

بھارت کو سمجھ جاناچاہیے کہ اسے اب ہرصورت مسئلہ کشمیرکوحل کرناہوگا اورمقبوضہ وادی سے نہ صرف اپنی دہشت گردفوج نکالنا ہوگی بلکہ ناجائزقبضے کو بھی چھوڑناہوگا۔ جب تک بھارتی حکومت اپنے غیر قانونی قبضے والے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 بحال نہیں کرتی تب تک اس کے ساتھ کسی قسم کی تجارت نہیں ہونی چاہئے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ بھارت کے اندر مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جائے، مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے، کشمیری عوام کو ان کے حقوق نہ دئیے جائیں اور ہم یہ سمجھیں کہ اس سب کے باوجود اسلام آباد اور نئی دہلی ہنسی خوشی رہ سکتے ہیں۔حکومت کا یہی موقف ہے اور اسی موقف کے ساتھ ہم آگے بڑھیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں بربریت بدستور جاری ہے۔ بھارت سے تو مسئلہ کشمیر کے حل تک کوئی بھی چیز سستی تو کیا مفت ملے تو بھی درآمد کی ضرورت نہیں۔ بھارت کیساتھ کسی صورت معروضی حالات میں کسی بھی سطح کے تعلقات اور تجارت کی ضرورت نہیں ہے۔ کم از کم اس وقت تک جب وہ کشمیر کی 5 اگست سے قبل کی صورتحال بحال نہیں کر دیتا ۔ جہاں تک اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کا تعلق ہے ان کے بارے میں وضاحت سامنے آئی کہ یہ ادارہ خالص اقتصادی بنیادوں پر فیصلے کرتا ہے جن کی حیثیت تجاویز کی ہوتی ہے۔جب تک مقبوضہ کشمیر کے بارے میں ۵ اگست 2019ءکے فیصلے واپس نہیں لئے جاتے، بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازع جو برٹش انڈیا کی تقسیم کے ایجنڈے کا نامکمل حصہ ہے محض زمین کے ٹکڑے کا جھگڑا نہیں۔ ایک کروڑ انسانوں کے بنیادی حقوق اور امنگوں کے حصول کی ایسی جدوجہد کا حصہ ہے جس میں لاکھوں کشمیری اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں ان کا حق خودارادیت کا موقف جنوبی ایشیا کے تمام مسلمانوں کے اس موقف کا حصہ ہے جس کا اظہار ۳۲مارچ 1940ءکی قرارداد لاہور میں کیا گیا ایک اعتبار سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خودارادی کی حمایت پاکستانیوں کا ایسا بنیادی موقف ہے جس نسل درنسل حفاظت حصول مقصد کے وقت تک پوری قوم اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ اس موقف کی حفاظت کے دوران پاکستانی قوم کی قربانیاں بھی تین کھلی جنگوں اور دہشت گردی کی صورت میں افغانستان کے راستے اندر سے مسلط کردہ طویل جنگ کی صورت میں نمایاں ہیں جن کے نتائج سامنے آنے کی گھڑی قریب تر محسوس ہورہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جب یہ کہتے ہیں کہ پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کےلئے اب بھارت کو پہل کاری کرنا ہوگی، تو اس کا واضح مفہوم یہی ہوتا ہے کہ 5 اگست 2019ءکے اقدامات واپس لینے سمیت سازگار فضا پیدا کرنا ہوگی۔ دنیا میں تیزی سے رونما ہونےوالی تبدیلیاں متقاضی ہیں کہ بھارت حقائق کو سمجھے، کشمیر کو بھارتی یونین میں ضم کرنے سمیت تمام غیرقانونی اقدامات واپس لے اور خطے کے لوگوں کےلئے امن و آشتی کی فضا میں ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر پیشقدمی کی راہ میں قائم کی گئی رکاوٹیں دور کرے اگر بھارت کو بھی امن مقصود ہے تو اسے یواین قراردادوں کے مطابق بہرصورت مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب آنا پڑیگا۔ ہمارے دل کشمیری عوام کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں جو اپنی آزادی کی جدوجہد درحقیقت تکمیل و استحکام پاکستان کیلئے کررہے ہیں۔ انکی اور ہماری ایک ہی منزل ہے اور ہماری قومی‘ حکومتی‘ سیاسی اور عسکری قیادتوں سمیت پوری قوم اسی منزل کی جانب گامزن ہے جس کا حصول آج نوشتہ دیوار بن چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔