کالم

چھ ستمبر جب انڈیا نے ہمیں للکارا

sufi nama

چھ ستمبر انیس سو پینسٹھ ایک ایسا دن ہے جب عیار دشمن نے کھلے عام ہمیں رات کی تاریکی میں للکارا تھا دشمن نے تمام بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کو بالائے طاق رکھ کر ہمارے ملک کی سرحدوں کو عبو ر کرنے کی کوشش کی لیکن ہمارے ملک کی مسلح افواج نے بڑی بے جگری سے لڑ کر دشمن کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا دشمن نے اپنے حملے کی ابتدا واہگہ سے کی جو لاہور سے چند میل کے فاصلے پر ہے اور انڈین فوج کے اس خیال کو خاک میں ملا دیا کہ لاہور کے جیم خانہ کلب میں مے نوشی کریںگے دشمن نے لاہور کے علاوہ سیالکوٹ کا محاذ بھی کھول دیا اور چونڈہ کے محاذ پر تقریبا پانچ سو ٹینک لے آیا لیکن مبینہ طور پر ہمارے جوان جسموں سے بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے کود گئے اور اسے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا جیے اقبال نے کہا تھا بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق یعنی وہ جذبہ جہاد ہی تھا کہ جس نے جوانوں کو ٹینکوں کے نیچے کودنے پر مجبور کر دیا اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے ریڈیو پاکستان پر قوم سے خطاب کر کے قوم کو اعتمار میں لیا اور کہا میرے ہم وطنو آج مکار دشمن نے ہمیں للکارا ہے ہمیں بطور قوم اکٹھے ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہے انہوں نے قوم میں ایک جذبہ اور امنگ پیدا کی کہ ملک کا ہرطبقہ یکجا ہو گیا فنکار ہو یا سیاستدان تاجر استاد ڈاکٹر یا وکیل ہر طبقے نے اپنا اپنا حصہ ڈالا شاعروں نے سرحدوں پر برسر پیکار سپاہیوں کا جذبہ بڑھانے کےلئے قومی ترانے لکھے اور گلوکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگا کر سرحدوں پر ڈٹی ہوئی مسلح افواج کے حوصلوں کو بڑھایا ملک کی نامور گلوکارہ ملکہ ترنم نور جہاں نے بہت سے نغمے گائے جن میں اس پنجابی نغمے اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے پاوین لبدی پھریں ،ادھار کڑے نے بہت شہرت پائی مہدی حسن او مسعود رانا نے بھی آواز کا جادو جگایا اس جنگ میں جہاں بری فوج نے میدان جنگ میں ناقابل فراموش قربانیاں دیں وہاں پاکستان ایئر فور س اور پاک بحریہ بھی کسی سے کم نہ تھی پاک فضائیہ کے نامور سپوت ایم ایم عالم نے انڈیا پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر کھڑے ہوے جنگی طیاروں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ میجر عزیز بھٹی میجر سرور میجر طفیل نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ انہیں اعلیٰ فوجی اعزازوں سے نوازا گیا،اس وقت ملک کو بہترین قیادت دستیاب تھی ملک کے صدر ایوب خان اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو تھے وزیر خارجہ نے بہت اچھے انداز میں پاکستان کی نمائندگی کی انہوں نے کہا کہ ہم ہزار سال تک جنگ جاری رکھیں گے بیویوں نے اپنے سہاگ اور ماﺅں نے اپنے بیٹے مادر وطن پر قربان کر دیے لڑائی میں دشمن شکست کھا رہا تھا اسے اقوام متحدہ جا کر جنگ بند کروانے کی درخواست کرنی پڑی یہ جنگ جودہ روز تک جاری رہی جنگ بندی میں روس کے وزیر اعظم کوسیگن نے اہم کردار ادا کیا پاکستان اور بھارت کے رہنما روس کے شہر تاشقند میں اکٹھے ہوئے پاکستانی وفد کی قیادت ملک کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے کی وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو ان کے ہمراہ تھے جبکہ بھارت کی جانب سے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے شرکت کی اور وزیر خارجہ سورن سنگھ ساتھ تھے روسی وزیر اعظم کوسنگین کی موجودگی میں جنگ بندی عمل میں ہی سمجھوتے کے دوسرے روز بھارتی وزیراعظم لال بہادرشاستری کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ اس معاہدے کے بعد یہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچی اگرچہ اس جنگ کو ختم ہوئے ستاون سال کا طویل عرصہ گزر چکاہے لیکن جب بھی چھ ستمبر آتا ہے تو ہمیں اپنے ان شہدا کی یاد بہت ستاتی ہے جنہوں نے اپنے ملک ک خاطر اپنا تن من دھن سب قربان کر دیا لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے دشمن بھارت نے انیس سو اکہتر میں ایک بین ا لاقوامی سازش کے ذریعے ہمارے ملک کا آدھا حصہ ہم سے الگ کر دیا اور اور وہ بنگلہ دیش بن گیا اندرا گاندھی نے کہا کہ ہم نے مسلمانوں کی سو سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پاک وطن کو سلامت رکھے اور یہ ملک دن دگنی رات چگنی ترقی کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔