کالم

سب کتابوں کے کھل گئے معنی

سب سے پہلے پاکستان، پھر افغانستان

دو کتابیں پیش نظر ہیں،ایک غنی خان کا ناول کرمے کی سرائے ،اور دوسری اطالوی لوک کہانیوں کا اردو ترجمہ بہ عنوان کہانی آوارہ ہوتی ہے ، اردو مترجم سلیم اختر ڈھیرہ ہیں ۔ایک ناول ،ایک ترجمہ،دو مختلف کتابیں،مگر دونوں کا مزاج مکمل طور پر آوارہ، مکمل طور پر خود معاملہ اور خود سر ۔مگر ہاں ناول کا جہان لوک کہانیوں سے مختلف ہوتا ہے ۔غنی خان کا ناول کرمے کی سرائے پڑھ کر یہ تاثر پختہ ہوا کہ کہانی اور انسان کا رشتہ بڑا قدیم اور بڑا گہرا ہے ۔نہایت متنوع جہات رکھنے والا یہ تعلق کبھی کمزور نہیں ہوا ۔یہ دونوں گہرے دوست ، چالاک رقیب اور کبھی کبھی بے وفا محبوب کی طرح ہو جاتے ہیں ۔کون کس کے دم سے آباد ، خوش اور نہال ہے ،کوئی نہیں جانتا۔ہاں البتہ یہ احساس دونوں میں پایا جاتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کےلئے ضروری ہیں۔ یہ حقیقت انسان کو گاہے اداس بھی کر دیتی ہے کہ کہانی کی عمر انسان سے زیادہ ہوتی ہے۔ پر جو چیز انسان کو کہانی جیسی سرکش ،خود معاملہ، مغرور اور متکبر صنف پر حاوی کرتی ہے ،وہ اس کا تخلیق کار ہونا ہے۔
غنی خان کے ناول کرمے کی سرائے کا خلاصہ تو اس ناول کے انتساب میں مستور دکھائی دیتا ہے ۔یہ انتساب ان سہمے ہوئے بچوں کے نام ہے جو اپنے ڈر اور محرومیوں کا اظہار نہیں کر پائے۔ غنی خان جانتا ہے کہ معاشرے کے جال میں پھنسے بچوں اور بڑوں کو خوف ، وہم اور حسرت کے ہتھیاروں سے شکار کیا جاتا ہے۔ انہیں اس دنیا کے مصائب و مظالم پر آمادہ و تیار کرنے کےلئے اسکے متبادل کے طور پر کسی اور دنیا کے خواب بھی دکھائے جاتے ہیں۔پر ناول نگار کا اضطراب اسے سوچنے ، کہنے اور لکھنے پر تیار کرتا رہتا ہے ۔وہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ عامتہ الناس کہانی کہنے والے کی بجائے کہانی کے مقبول کرداروں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔ایک مقبول کردار کے خالق ہونے کا احساس اس کی ذہنی توانائی کو کم نہیں ہونے دیتا۔
کرمے کی سرائے کے مرکزی کردار کرم دین کے نام سے جب دین کو الگ کرکے سمجھنے کی کوشش کی گئی تو وہ کرما بن گیا۔اس اردو کے ناول نگار کا لسانی پس منظر پشتو اور ہندکو کا ہے ۔ناول میں کرداروں کا عمل ،ردعمل اور معاشرتی فضا میں بادلوں کی طرح تیرتے انسانی رویے اس ذو لسانی نفسیات کی نشاندھی بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔غنی خان کی سیدھی سی کہانی اپنی علامتی جہات میں بھی معانی کے ایک دیگر جہان کی طرف اشارہ کرتی دکھائی دیتی ہے ۔کرما قسمت بھی ہے اور مقدر کر دئیے گئے اعمال و افعال کا سلسلہ بھی۔ لیکن کرم دین کی سرائے ،اس وقت کرمے کے اعمال کا محور بنتی ہے جب وہ دین کو ایک طرف رکھ کر ،صرف کرمے کے طور اپنی زندگی کے معنی تلاش کرنے نکلتا ہے ۔انسانی ذہن صدیوں سے کہانی سننے ، کہانی بننے اور کہانی جننے میں مصروف ہے۔شاید، ایسا لگتا ہے ،شائد کرمے کو کہیں نہ کہیں یہ گیان ہو گیا تھا کہ کہانی لکھنے والا کہانی کے سرکش ہوتے کرداروں اور واقعات کے خود سر بہا کے ہاتھوں کچھ نہ کچھ مجبور ضرور ہوتا ہے۔کس قدر عجیب بات ہے اگر یہ عقدہ کھلے، کہ تخلیق کار بھی مجبور محسوس کرتا ہے۔کہانی کو زندہ رکھنے والا وصف کہانی بھول جانے کی وہ عادت ہے جو صدیوں سے انسان کا پورے خلوص سے ساتھ نبھا رہی ہے ۔ہر نیا ناول پر پیچ زندگی کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش خیال کی جا سکتی ہے۔غنی خان ایک بڑے سمندر میں رقص کناں ہے ، ویل مچھلی کے سے تخلیقی حجم اور لہریا مچھلی جیسی تندی و تیزی کےساتھ وہ لکھتا چلا جا رہا ہے ۔وہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اس سرائے کو سمجھنے کےلئے اسکے ہر کردار کےساتھ نبھا کرنے کی اہلیت پیدا کرنی ضروری ہے ۔ایک طویل راستہ طے کرنے کے بعد کھلے گا کہ خدا سے دوستی دراصل خود سے دوستی ہی ہوتی ہے۔ سلیم اختر ڈھیرہ انگریزی کے استاد اور اردو کے شیدائی ہیں ۔انہوں نے اطالوی لوک کہانیوں کے ایک انگریزی ترجمے کو بنیاد بنا کرکہانی آوارہ ہوتی ہے کے عنوان سے اردو میں پیش کیا ہے۔آوارگی کہانی کا نہیں، انسان کا مزاج ہے۔آوارگی زمین کا نہیں، ہوا کا مزاج ہے ، آوارہ شجر نہیں ، بادل ہوتے ہیں ۔ تاریخ تو خیر نہیں ،پر اس سے حاصل ہونے والی بصیرت بتاتی ہے کہ دنیا کا کوئی آوارہ گرد ایسا نہیں گزرا ،جس نے کسی مقیم کو فیض نہ پہنچایا ہو ۔حضرت انسان کی اولین تخلیق یعنی قصہ کہانی بھی اپنے مزاج میں آوارہ اور جہاں گرد شمار کی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لوک کہانیوں کا کوئی ایک وطن نہیں ہوتا۔یہ ہوا کی طرح سے چلتی ہیں،اڑتی ہیں،اور محسوس ہوتی ہیں۔ یہ صرف کہنے سننے یا پڑھنے کی بات نہیں، ایسا جابجا ،اور ہر جگہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ بات کہیں نہ کہیں پہلے بھی سنی ہوئی ہے ، یہ قصہ فلاں قصے سے ہم آہنگ ہے۔کہانی کی آوارگی کا تو یہ عالم ہے کہ وہ نہ مکان کی پابند رہتی ہے اور نہ زمان کی۔کہانی کا بنیادی سرا انسان ہے ، کہانی کا تخلیق کار ،انسان ہے ، کہانی کا موضوع اور سروکار بھی انسان ہی ہے، اس سب کے ساتھ ساتھ پرلطف بات یہ ہے کہ کہانی انسانی دانش کا سراغ بھی بن جاتی ہے اور اخفا بھی۔ انسان جب کہانی لکھتا ہے تو وہ زندگی اور اسکے متعلقات میں سے چند ایک کو اپنا موضوع بناتا ہے ، اور کچھ بتانے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔دوسری طرف انسان جب کہانی پڑھتا ہے تو گویا وہ اسی زندگی کو ایک دیگر تناظر کے میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔پر کہانی اپنا آپ چھپاتی زیادہ اور بتاتی کم ہے۔کہانی کا مستور مزاج ہونا ہی اسے اسطور بنا دیتا ہے ۔اس طور کو ایک ایسی گٹھڑی قیاس کر لیں ،جسے کوئی تاجر کسی دوسرے براعظم سے لے کر آیا ہو ۔ایسی گٹھڑیاں سب کے سامنے نہیں کھولی جاتیں۔انکے اندر کیا کچھ ہے ،یہ صرف قدر دان ہی جان سکتے ہیں ۔ انگریزی زبان کے نوجوان استاد سلیم اختر ڈھیرہ نے کچھ اطالوی لوک کہانیوں کو اردو ترجمے کی گٹھڑی میں باندھ کرکہانی آوارہ ہوتی ہے کے زیر عنوان پڑھنے والوں کے سامنے رکھا ہے۔ ترجمے کا عمل تخلیق سے قریب تر ہے ۔شاید کچھ مشکل اور تہہ دار بھی۔مترجم کو کہانی کے ماحول، مصنف کی منشا، کرداروں کے رویے ، اس زبان کی ثقافت سب کو ایک دیگر زبان کے قاری کے سامنے کھولنا یا ڈھالنا یا بیان کرنا پڑتا ہے۔یہ کافی مشکل کام یے۔ سلیم اختر ڈھیرہ نے جن اطالوی لوک کہانیوں کا اردو ترجمہ کہانی آوارہ ہوتی ہے کے عنوان سے پیش کیا ہے ،ان کو 1950 میں اطیلو کیل وینو نے اطالوی لوک کہانیوں کے طور پر جمع کیا تھا ۔اس اردو ترجمے کا بنیادی مآخذ ان اطالوی کہانیوں کا انگریزی ترجمہ ہے ۔اب یہ لوک کہانیاں ہماری مقامی دانش کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ہر کتاب کی اپنی ایک آواز ، اپنا لحن ، اپنا سخن اور اپنی خوشبو ہوتی ہے ۔ ایک کتاب کو صرف ذرا سا التفات چاہیئے ہوتا ہے ۔تھوڑا سا وقت اور ذرا سی توجہ سے کتاب آپ کو اپنی روشنی کا حصہ بنا لیتی ہے، لیکن ہاں یہ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ آپ کا دل ،خود آپ کی اپنی تحویل میں ہو، اور آپ کے اپنے دل سے تعلقات بھی اچھے ہوں ۔حضرت نظیر اکبر آبادی نے کیا خوب کہہ رکھا ہے کہ:
سب کتابوں کے کھل گئے معنی
جب سے دیکھی نظیر دل کی کتاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔