دنیا

سعودی عرب میں تاریخی مساجد کی بحالی سے متعلق امیر محمد بن سلمان پروجیکٹ کا دوسرا مرحلہ شروع

سعودی عرب میں تاریخی مساجد کی بحالی سے متعلق امیر محمد بن سلمان پروجیکٹ کا دوسرا مرحلہ شروع

سعودی عرب میں 130 مساجد کی بحالی سے متعلق امیر محمد بن سلمان پروجیکٹ کا دوسرا مرحلہ شروع کیا گیا ہے۔
دوسرے مرحلے میں الجوف ریجن کی مسجد السعیدان ہے اور مسجد الفویھی کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق دونوں تاریخی مساجد کا احیا قدیم فن تعمیر کے روایتی ضوابط، ماحول اور انہیں موسمی خطرات سے بچاؤ کی تدابیر کے ساتھ کیا جائے گا۔ مسجد السعیدان دومتہ الجندل کے الرحیبین محلے میں واقع ہے۔ یہ 620ھ مطابق 1223 میں تعمیر کی گئی تھی اس مسجد کی ایک امتیازی خوبی یہ بھی ہے کہ یہاں جمعے کی نماز ہوتی رہی ہے۔ اسے الجوف ریجن کے دارالقضا ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہاں مختلف فریقوں کے مقدمات سماعت کے بعد نمٹائے جاتے تھے۔ یہ مسجد السعیدان تنظیم نے قائم کی تھی۔ عطا اللہ السعیدان سعودی ریاست کے ابتدائی عہد میں یہاں امامت کیا کرتے تھے اور وہی مقدمات کی سماعت کرکےعدالتی فیصلے سناتے تھے۔ ان کی تقرری بانی مملکت شاہ عبادالعزیز نے کی تھی۔مسجد السعیدان مدرستہ القرآن کے حوالے سے بھی پہچانی جاتی تھی۔ یہاں ظہر سے قبل اور پھر عصر سے لے کر مغرب تک قرآن کریم کی تعلیم اور تحفیظ کی کلاسیں لگا کرتی تھیںمسجد السعیدان کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اس کے برابر میں دومتہ الجندل کا ایک پرانا کنواں بھی ہے۔ اسے ’ابا الجبال‘ (پہاڑوں کا بابا) کہا جاتا ہے۔ اس کنویں سے ایک نہر جاری ہوئی ہے جس پر پتھر کی چھت پڑی ہوئی ہے۔ یہاں نمازی وضو کے لیے سیڑھیوں سے نیچے جایا کرتے تھے۔
مسجد السعیدان کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ یہاں دیگر مساجد کے مقابلے میں وضو خانے بنے ہوئے تھے۔ ترمیم سے قبل اس کا رقبہ 179 مربع میٹر تھا۔ ترمیم کے بعد اس کا رقبہ 202.39 مربع میٹر ہوجائے گا۔ اس میں 68 افراد بیک وقت نماز ادا کرسکیں گے۔ ایک عرصے سے یہ مسجد غیر آباد ہے۔دوسری مسجد الفویھی سکاکا شہر میں ہے۔ یہ 1380ھ مطابق 1960 میں تعمیر کی گئی تھی۔ یہ سکاکا کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ یہ ’شامان مسجد‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ نام شامان خلف الفویھی سے نسبت کے باعث ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔