کالم

تخلیقی سوچ ناپید

Asghar-Cheema

ہمارے معاشرے کا ایک بہت اہم مسئلہ وہ سوچ ہے جو امیر غریب کے فرق کی وجہ سے پروان چڑھ رہی ہے اور جس کی وجہ سے مادہ پرستی بہت عام ہو رہی ہے۔ اس مادہ پرستی نے معاشرے کے عام آدمی کو ذہنی اور اخلاقی طور پر مفلوج کر دیا ہے اور احساسات سے عاری کردیا ہے۔ مادی زندگی کے زور پر زندگی بہت مشکل اور ناخوشگواری سے گزرتی ہے۔ جب معاشرے میں مادیت پرستی عام ہو جائے تو تخلیقی سوچ ناپید ہو جاتی ہے اور تخریبی سوچیں جنم لیتی ہے جو معاشرے میں شدید تناﺅپیدا کر رہی ہے۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور غربت کی شرح میں اضافہ نے معاشرے کے ایک بڑے حصے کے لوگوں کو اس امیر غریب کے فرق کو مٹانے کےلئے تخریبی سرگرمیوں میں الجھایا ہ±وا ہے اِسی طرح معاشرتی برائیوں میں ایک اور اہم برائی برداشت کی کمی اور سوچوں میں ہم آہنگی نہ ہونا ہے جس کا سارا سہرا آج کل کے دور میں سوشل میڈیا کو جاتا ہے ۔ اگر ہم عالمی حالات دیکھیں تو جو قومیں انتشار کا شکار ہیں وہاں کی زیادہ آبادی سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے ذہنی انتشار کا شکار ہیں، جو معاشرے میں منفی رویوں اور عدم برداشت کو فروغ دے رہی ہیں۔ اگر آپ باقی قوموں کا چین سے مقابلہ کریں تو یہ واضح ہوگا کہ آج دنیا میں چائنا ایک گولی چلائی بغیر سپر پاور بننے جارہا ہے صرف اپنے سوفٹ پاور پر کنٹرول کی وجہ سے یعنی چائنا میں سوفٹ پاور جس میں میڈیا سینٹرک ٹول جیسے فیس بک، ٹوئٹر اور بچوں کی پلے اسٹیشن گیمز وغیرہ سب پر پابندی ہے ان کا کوئی استعمال نہیں کر سکتا۔ اسی لیے وہاں کی آبادی مثبت سوچوں کے ساتھ ملک کی ترقی میں مگن ہیں اس کے علاوہ بیڈ گورننس، حکومتی کمزور پالیسیاں، کرپشن اور سیاسی عدم استحکام نے بیروزگاری کو بہت فروغ دیا۔ جس کی وجہ سے اسٹریٹ کرائمز، خودکشی، امن و امان کی بدتر صورتحال، انسانی اعضاءکی اسمگلنگ، دہشتگردی، اغوا برائے تاوان جیسی معاشرتی برائیاں جنم لے رہی ہیں ۔ ٹیکسوں کی بھرمار، کمزور معاشی پالیسیاں اور دہشت گردی کی وجہ سے کئی بڑی صنعتیں بند ہوچکی ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ زراعت اور صنعت کے شعبوں کو ترقی دیں۔تعلیم کے شعبے میں زیادہ کام کرنا ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں تعلیم بھی طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ یکساں تعلیمی نظام اور تعلیمی سہولیات ہر طبقہ کو میسر ہونا چاہئے یہی بنیادی نکتہ ہے۔ اسلام کا مزاج یہی ہے کہ وہ جرم کو ختم کرنے کےلئے اس کے اسباب کا قلع قمع کرتا ہے اور ان محرکات و عوامل کو کنٹرول کرتا ہے جو کسی شخص کو جرم تک لےجانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ مثلاً بدکاری کو اسلام نے جرم قرار دیا ہے اور وہ نسل انسانی کے تحفظ اور تقدس کی خاطر معاشرے کو زنا سے پاک دیکھنا چاہتا ہے لیکن اسلام نے اس کےلئے صرف سزا¶ں پر قناعت نہیں کی بلکہ سزا¶ں کا معاملہ تو اس قدر دشوار بنا دیا ہے کہ بظاہر انتہائی سخت نظر آنےوالی سزا تک کسی مقدمہ کو پہنچانے کےلئے جو ثبوت درکار ہیں ان کا فراہم کرنا عام حالات میں مشکل ہو جاتا ہے۔ البتہ اسلام نے سخت ترین سزا¶ں کی دھمکی دیکر ان اسباب کی طرف اصل توجہ دی ہے جو بدکاری کا موجب بنتے ہیں۔ چنانچہ اس کےلئے اسلام نے مرد اور عورت کے آزادانہ اختلاط پر قدغن لگائی ہے، پردہ کا حکم دیا ہے، نگاہ بازی کو ممنوع قرار دیا ہے، محرم اور نامحرم کی حد قائم کی ہے، اور مردوں و عورتوں کے فرائض اور حقوق میں ایک واضح تقسیم کر دی ہے۔اب ظاہری بات ہے کہ اگر حلال و حرام کافرق نہیں ہوگا، محرم اور نامحرم کی تمیز نہیں ہوگی، آزادانہ گفتگو اور اختلاط میں رکاوٹ نہیں ہوگی اور حقوق و فرائض کی فطری تقسیم ختم کر کے ہر معاملہ میں مساوات کے نام پر باہم میل جول کیلئے بے حجاب مواقع میسر ہوں گے تو اس بدکاری کو نہیں روکا جا سکے گا جس کو اسلام جرم قرار دیتا ہے۔ پھر اس کے بعد دو ہی راستے باقی رہ جائیں گے۔ ایک یہ کہ اسے جرم قرار دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے جیسا کہ مغرب نے کیا ہے اور دوسرا یہ کہ اگر وہ جرم ہے اور اسے بہرصورت روکنا مقصود ہے تو پھر ان سب اسباب و عوامل پر قدغن لگائی جائے جو اس جرم تک انسان کو لے جاتے ہیں، اور اسلام نے یہی راستہ بتایا ہے۔الغرض عام جرائم کی بات ہو یا تخریب کاری اور دہشت گردی کا قصہ ہو۔ ہمیں اپنے طرز عمل پر بہرحال نظر ثانی کرنا ہوگی جو ہم نے اب تک اختیار کر رکھا ہے جس کے نتیجے میں جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔