کالم

آج پھر 65 جیسے جذبے کی ضرورت

riaz-chuadary

6 ستمبر 1965ءکوہم پر مسلط کی گئی بھارتی جنگ میں افواج پاکستان نے ہر محاذ پر دفاع وطن کے تقاضے نبھاتے ہوئے دشمن کے دانت کھٹے کئے اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرتے ہوئے مکار دشمن کی افواج کو زمینی‘ فضائی اور بحری محاذوں پر منہ توڑ جواب دیکر قربانیوں کی نئی نئی اور لازوال داستانیں رقم کیں۔ پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت و پاسبانی کے تقاضے نبھاتی رہی۔ بھارت کا خیال تھا کہ راتوں رات پاکستان کے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیں گے اور ناشتے میں لاہور کے پائے کھائیں گے لیکن انہیں اندازہ نہیں کہ انہیں کس قوم سے پالا پڑا ہے۔ افواج پاکستان اور عوام پاکستان نے مل کر دیوانہ وار دشمن کا مقابلہ کیا۔ سروں پر کفن باندھ کر دشمن سے بھڑ گئے، جسموں سے بارود باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے، عوام نے اپنا سب کچھ دفاع وطن کے لئے قربان کر دیا اور ہندو بنیے کے ناپاک عزائم کو رزق خاک بنا دیا۔طاقت کے نشے سے چور بھارت پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لئے آیا تھا لیکن ہمیشہ کے لئے ناکامی کا بد نما داغ اپنے سینے پر سجا کر واپس گیا۔ یہ صورتحال دشمن جرنیلوں کے لئے سخت ہزیمت کا باعث بن گئی انہوں نے لاہور سیکٹر پر ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد سیالکوٹ سیکٹر میں بھی جنگ چھیڑ دی۔ وہاں بھی دشمن کی فوج اپنے مذموم عزائم کی تکمیل نہ کرسکی اور پاکستانی جوانمردوں نے بھارتی ٹڈی دل فوجیوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ چونڈہ کے محاذ پر وطن کے بہادر سپوتوں نے ٹینکوں کی سب سے بڑی عالمی جنگ میں چونڈہ کا میدان دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنادیا۔ پاک فوج کے نڈر جوانوں نے چھمب سیکٹر میں پہاڑوں پر موجود دشمن کے فوجیوں کی گولہ باری کے باوجود کھلے میدان میں اپنی پیش قدمی سے انہیں مورچوں سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔ پاک فوج کے جیالے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے اس حد تک آگے چلے گئے کہ بزدل بھارتی اپنے آہنی مورچے چھوڑ کر دم دبا کر ایسے بھاگے کہ ان کی جوتیاں اوروردیاں دریائے توی کے کنارے (چھمب) کے میدان میں بکھری ہوئی دیکھی گئیں۔ راجہ عزیز بھٹی شہید، محفوظ شہید، شبیر شریف شہید، محمد اکرم شہید اور سوار محمد حسین شہید جیسے جوانمردوں نے شجاعت اور بہادری کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ دشمن بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکا۔ زمینی افواج کے ساتھ ساتھ بحری اور فضائی افواج نے بھی دشمن کی برتری کے خواب سمندروں اور فضاو¿ں میں بکھیر کر رکھ دیئے۔ پاک بحریہ نے محدود وسائل کے باجود دشمن کے ٹھکانوں پر کاری ضربیں لگا کر ثابت کیا کہ وہ اپنی سمندری حدود کی نگہبانی کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ فضائیہ کے پائلٹوں نے نہ صرف حملہ آور بھارتی طیاروں کے پائلٹوں کو دن میں تارے دکھا دئیے بلکہ دشمن کی حدود میں جاکر ایسے کارنامے دکھائے کہ دنیا مدتوں بھلا نہیں سکے گی اور دشمن پر ایسی ہیبت بٹھا دی کہ اب بھی یاد کرکے بھارتی سورماو¿ں کی روح کانپ اٹھتی ہوگی۔ بھارتی حکمرانوں کو ستمبر کی جنگ کے 17 دنوں میں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ انہیں یہ بھی احساس ہوا ہوگا پاکستانی قوم نے قیام وطن کے بعد سے 18 سالوں میں سو کر وقت نہیں گزارا بلکہ اس کی حفاظت کےلئے لمحہ بہ لمحہ آنکھیں کھلی رکھی ہوئی ہیں۔ اس جنگ نے ہی قوم میں ”پاک فوج کو سلام“ کا جذبہ پیدا کیا تھا جسکے نتیجہ میں ملک کی مسلح افواج نے اپنے سے تین گنا زیادہ دفاعی صلاحیتوں کے حامل مکار دشمن بھارت کی فوجوں کو پچھاڑ کر انہیں پسپائی پر مجبور کیا اور بھارتی لیڈر شپ اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی دہائی دیتی نظر آئی۔ آج پھر ہمارا مکار دشمن ہماری آزادی و خودمختاری اور سالمیت کو چیلنج کرتا ہمارے خلاف نئی جنگ مسلط کرنے کی تیاریوں میں ہے اور دہشت گردی کرکے ہماری سالمیت پر اوچھا وار کرنے اور اپنے اکھنڈ بھارت کے عزائم پایہ تکمیل کو پہنچانے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ پاکستان کو دھمکیاں اور مداخلت پرانا سلسلہ ہے۔ مگر مودی نے دورہ بنگلہ دیش میں پاکستان توڑنے میں بھارتی کردار کااعتراف اور پاکستان میں دہشت گردی کرانے کا دعویٰ حالات کی سنگینی کو ظاہر کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں وہ بلوچستان‘ گلگت‘ بلتستان اور آزاد کشمیر میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہے تھے‘ جس پر انکے بقول ان علاقوں سے فون کالز کے ذریعے ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند لیڈر براہمداغ بگتی نے مودی کو اس ہرزہ سرائی پر سلام پیش کیا۔بھارت نے ایک بار پھر موقع سے فائدہ اٹھایا اور دہشت گردوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے لگا۔ بلوچستان کے علیحدگی پسند اور کراچی میں امن کے دشمن پہلے ہی اسکے پے رول تھے۔ پاکستان کے بہترین مفاد کے منصوبے کالاباغ ڈیم کی مخالفت کو بھارت سپانسر کرتا ہے۔ خطے میں گیم چینجراور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی ضمانت کے منصوبے سی پیک پر بھارت چراغ پا ہے۔ وہ اس منصوبے کی کھل کر مخالفت کررہا ہے۔ چین پر اس منصوبے کے خاتمہ کیلئے دباﺅ ڈالا جارہا ہے۔ پاکستان کیخلاف زہریلے پراپیگنڈے میں اضافہ کردیا‘ اپنے پروردہ لوگوں کو پاکستان کیخلاف زہر اگلنے پر لگا دیا۔بھارت آج پاکستان کے ایٹمی پاور ہونے کے باعث اسکے ساتھ بارڈر پر جنگ کرنے سے قاصر ہے۔ وہ اپنی سازشوں اور ایجنٹوں کے ذریعے جنگ پاکستان کے اندر لے آیا ہے۔ ہم نے 65ءکی جنگ میں بھارت کو عبرت ناک شکست دی تھی۔ اپنے اندر آئے دشمن کو زیر اور نابود کرنا زیادہ آسان ہے۔ وہ اسی صورت ہو سکتا ہے کہ قوم ستمبر 65ءکی طرح فوج کے شانہ بشانہ ہو جائے۔ان دہشت گردوں کیلئے کسی بھی پاکستانی کے دل میں نرم گوشہ نہیں ہونا چاہیے۔یہ سنگین حالات سیاست دانوں سے بھی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہونے کا تقاضا کرتے ہیں ۔ آج ہمیں ایک نہیں بلکہ پاک سرزمین پر بہت سے محاذوں پر کئی دشمنوں کا سامنا ہے، ہمیں جہالت کے خلاف جنگ کرنی ہے، غربت کا خاتمہ کرنا ہے، خوشحالی کےلئے جان لڑانی ہے، معاشرتی برائیوں کا قلع قمع کرنا ہے، مذہبی فرقہ واریت کے خلاف ہتھیار اٹھانے ہیں۔ آیئے ملک دشمن عناصر کی گھٹیا سازشوں کو بے نقاب کرنے کےلئے ایک ہوجائیں اور ارض پاک کی سلامتی کےلئے تجدید عہد کریں۔آئیے مل کر عہد کریں کہ وطن عزیز پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر وطن عزیز کی فلاح اور دفاع کے لئے کردار ادا کریں گے اور اپنے قول و فعل سے کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے وطن عزیز کی عزت پرحرف آ سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔