پاکستان

سندھ میں سیلابی ریلوں سے تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری

سندھ میں سیلابی ریلوں سے تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری

گزشتہ روزمنچھر جھیل میں پانی کا دباؤ کم کرنے کے لیے مزید دو مقامات پرکٹ لگا ئے گئے، جس سے سیہون ائیرپورٹ زیر آب آگیا۔
برسات اورسیلابی ریلوں کے سبب منچھر جھیل میں ضرورت سے زیادہ پانی آگیا۔ سہون شریف سمیت آس پاس کے بڑے شہروں کو بچانے کے لئے منچھرجھیل پر گزشتہ روز مزید دو کٹ لگائے گئے۔
منچھر جھیل کو آر ڈی پچاس سے باون تک کٹ لگایا گیا۔ جھیل میں کٹ لگانے سے سہون شریف سمیت بڑے شہر تباہی سے بچ گئے لیکن آس پاس کےپچاس دیہات زیرآب آگئے۔ وزیراعلیٰ سندھ کی آبائی یونین کونسل واہڑ بھی پانی پانی ہوگئی۔
جھیل سے نکلنے والا پانی سیہون ٹول پلازہ کے قریب انڈس ہائی وے سے ٹکرانے لگا ہے، سیہون ائیرپورٹ بھی ڈوب گیا اور وزیراعلیٰ سندھ کا آبائی گاؤں باجارا بھی زیر آب آگیا۔
محکمہ انہار کا کہنا ہے کہ منچھر جھیل میں پانی کی سطح کم نہیں ہوئی، لاڑکانہ سیہون بند پرپانی کی کمی کے بعد کٹ لگا کر منچھر جھیل کے پانی کو راستہ دیا جائے گا۔

شہباز ایئرپورٹ مکمل طور پر سیلابی پانی میں ڈوب گیا۔ ایئرپورٹ پر چار سے پانچ فٹ تک پانی موجود ہے۔ پارکو آئل کمپنی بھی سیلابی پانی کی زد میں آگئی۔ سیلابی پانی سے دادو حیدرآباد انڈس ہائی وے روڈ بھی متاثر ہوگیا۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے گاؤں مکمل ڈوب گئے ہیں، اکثر مقامات پردس دس فٹ پانی ہے۔
کئی دیہاتوں میں متاثرہ افراد پھنس گئے۔ جو فوری ریسکیو کے منتظر ہیں۔ کٹ لگنے کے بعد منچھرجھیل میں پانی کی سطح کچھ کم ہوئی ہے۔
دوسری جانب جوہی اور میہڑ کے رنِگ بندوں کی مضبوطی کا کام جاری ہے، دادو کے سیم نالے میں کالی موری کےمقام پر کمزوربند میں دراڑیں پڑنے لگیں، بند کو مضبوط کرنے کا کام جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔