اداریہ کالم

یوم دفاع اور قوم کا عزم صمیم

پاکستانی اپنے شہداءکی وارث ہے ، پاکستان کی بنیادوں میں ان شہداءکا لہو ہے اور پھر اس وطن کی دفاع کی خاطر پاک فوج کے شہداءنے اپنے خون کو اس دھرتی میں ملایا ، قوم ان کی دی ہوئی قربانیوں کو تاابد یاد رکھی گی ، 6ستمبر 1965کی رات کو بزدل دشمن نے بغیر بتائے پاکستانی سرحدوں پر حملہ کردیا مگر ہماری دلیر اور بہادر افواج ان کے سارے عزائم کو خاک میں ملادیا ، اس دن کی یاد ہر سال قوم پور ے جوش و جذبے اور ولولے کے ساتھ مناتی چلی آرہی ہے اور یہ سلسلہ کبھی رکا نہیں ،یوم دفاع و شہدا کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں پاکستان مانومنٹ شکر پڑیاں کا دورہ کیا، یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے یاد گار شہدا پر حاضری کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہدا نے جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ملک کو دشمن سے بچایا، بھارت کے ناپاک عزائم خاک میں ملائے، قوم شہدا اور غازیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنے شہدا اور غازیوں کو سلام پیش کررہی ہے جنہوں نے آج سے 57 سال پہلے پاکستان پر اندھیرے میں حملہ کرنے والے دشمن کیخلاف ملک کا دفاع کیا۔ ہمارے افسروں اور جوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کر کے نہ صرف دشمن سے بچایا بلکہ ایک ایک چپے کی حفاظت کی اور دشمن کے دانٹ کھٹے کر دئیے، پاکستان کی افواج نے اللہ کے سہارے اور اپنے عقیدے، مصمم ارادے سے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دئیے۔ پوری قوم آج اپنے شہدا اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کےلئے اکٹھی ہے جنہوں نے بھارتی جارحیت کے خلاف مادر وطن کے دفاع کےلئے اپنی جانیں نچھاور کر دیں، ہماری مسلح افواج اور عوام نے مل کر ہماری علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی بھارتی سازشوں کو ناکام بنایا۔ جو بھی ہماری مسلح افواج اور عوام کے درمیان تعلقات کو ٹھیس پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے وہ پاکستان کا دوست نہیں ہے، آئیے ایک قوم کے اس بندھن کو مضبوط کریں۔ پاکستان تاریخی سیلاب اور دیگر چیلنجز سے نبرد آزما ہے، ہمیں 1965کے جذبے کو سمیٹنے کی ضرورت ہے، قومی اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت ہے، آج پھر سیلاب کے حوالے سے پوری قوم یک جان دو قالب ہے۔ آج پھر جنگ ستمبر کی طرح کوئی پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچی، کشمیری یا بلتی نہیں بلکہ سب ایک لڑی میں پروے جا چکے ہیں، سب اس طلاطم خیز سیلاب کا مقابلہ کر رہے ہیں، پاکستان میں اس سے پہلے قدرتی آفت کے حوالے سے اس جیسی بڑی تباہی آنکھ نے دیکھی نہیں تھی، قوم، حکومت اور افواج مل کر اس آفت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔6ستمبرکا دن ہمیں نہ صرف ان شہداءکی یاد دلاتا ہے بلکہ اس بات کا عزم کرنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم کہ اس وطن عزیز کی دفاع کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے اور وطن عزیز پر اگر کبھی کوئی کڑا وقت آیا تو کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے اور اپنی جان و مال کو اس پاک دھرتی پر نچاور کردیں گے ۔ دنیا میں زندہ قومیں اپنے جوش جذبے اور راسخ عقیدے کی بنیادوں پر ہی انحصار کرتی ہے ، پاکستانی قوم اپنے ولولے میں کسی بھی قوم سے کم نہیں ، جس طرح 6ستمبر 1965کی اندھیری رات کو اس نے اپنے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا تھا ، انشاءاللہ آنے والے وقت میں اگر کبھی ایسا وقت آیا تو دشمن کو ایک بار پھر منہ توڑ جواب ملے گاکیونکہ قوم اور فوج ایک لڑی میں پروے ہوئے ہیں ۔
پاک چین تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق رائے
عوامی جمہوریہ چین پاکستان کا عظیم ہمسایہ دوست ملک ہے جس نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کی بھرپور امداد میں مدد کی اور پاکستان کے اندرونی و بیرونی مسائل کے حل کیلئے ہروقت کندھے کے ساتھ کندھا ملاکر کھڑا رہا ، چین نے پاکستان کے ساتھ نہ صرف دفاع میں بلکہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں بھی بھرپور تعاون کیا ہے ، پاکستان کو اس وقت معاشی ،دہشتگردی اور سیلاب جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس سے نمٹنے کیلئے عوامی جمہوریہ چین اپنا کردار بخوبی ادا کررہا ہے ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاک چین دوطرفہ میکنزم، سٹریٹجک ڈائیلاگ اور انسداد دہشت گردی سے متعلق مشاورت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔ چینی وفد سے ملاقات میں کہا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد ہے جس کی بنیاد علاقائی اور عالمی مسائل پر ہم آہنگی پر مبنی ہے۔ پاکستان علاقائی اور عالمی فورمز پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چین کی سفارتی حمایت کو سراہتا ہے۔ پاک چین سیکیورٹی تعاون علاقائی استحکام کا ستون ہے،خطرات کے باوجودسی پیک میں سیکورٹی اورانٹیلی جنس شیئرنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے دفاعی شعبے میں پاک چین تعاون ناگزیر ہے۔پاک بحریہ نے گوادر بندرگاہ اور پاکستان کے ساحل کے ساتھ سی پیک کے تمام منصوبوں کی میری ٹائم سیکیورٹی کو یقینی بنانے کو اولین ترجیح دی ہے۔اس لیے دونوں ممالک کےلئے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے میں بہت وسعت موجود ہے۔پاکستان کے دورے پر آنے والے وفد کے ساتھ کئے جانے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک تمام تر حالات میں آپس میں اقتصادی تعاون کو جاری رکھیں گے ، ذوالفقار علی بھٹو شہید نے کہا تھا کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند اور بحیرہ عرب سے گہری ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس دوستی میں دراڑ نہیں ڈال سکتی اور پھر وقت نے ثابت کر دکھا یا کہ ذوالقار علی بھٹو کے کہے ہوئے الفاظ محض الفاظ تک محدود نہیں تھے بلکہ حقیقت تھے جس کا اظہار دونوں قوموں نے عملی طور پر کرکے دکھایا ، آج بھی دونوں قومیں جسد واحد کی طرح ہے ، دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے بھر پور انداز میں فائدہ اٹھاتے چلے آرہے ہیں اور جسد واحد کی طرح ثابت قدمی سے آگے بڑھ رہے ہیں ، علاقائی ترقی امن اور استحکام کیلئے دونوں قومیں اپنا کردار بخوبی اور بہترین انداز میں ادا کرتی چلی آرہی ہے ، خطے کو دہشتگردی کا سامنا ہے جس کے پیچھے کچھ ممالک کا ہاتھ ہے اور اسے ناکام بنانے کیلئے آپس کا تعاون مفید ثابت ہوگا۔
7ستمبر یوم ختم نبوت
7ستمبر کا دن ہمیں ان تاریخی لمحات کی یاد دلا تا ہے کہ جب آج سے 48سال قبل پاکستان سے سب سے بڑے پارلیمان میں قادیانی فتنہ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دفن کیا تھا ، قادیانی فتنہ 200سال سے اسلام کیلئے ایک ناسور بناہوا تھا ، قادیانی مسلمانوں کے سینے منہ دلتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت کے انکاری تھے اور اس بات پر مصر تھے کہ مرزا قادیانی رسول خدا ﷺ کے بعد آنے والا پیغمبر ہے (نعوذ بااللہ) قادیانی مبلغ سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلا کر اپنے گرو ہ میں شامل کرتے مگر راسخ القیدہ مسلمان ان کفار کے تعاقب میں رہتے مگر یہ سب کوششیں انفرادی تھی ، 1958میں تحریک نفاذ ختم نبوت کا باقاعدہ آغاز ہوا جس کی پاداش میں مجاہد ملت مولانا محمد عبدالستار خان نیازی اور سید مودودی ؒ کو ملٹری کورٹس نے سزائے موت سنادی مگر بعد میں عوامی دباو¿ کا سامنا نہ کرسکی او ر انہیں باعزت بری کرنا پڑا ، ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں نے مسلمان طلبہ کی ٹرین پر حملہ کرکے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کی ، نہتے طلبا ءکی شہادت پر تحریک نفاذ ختم نبوت کی تحریک پورے ملک میں پھیل گئی ، پاکستان بھر کے مسلمان اپنے نبی مکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے اس گروہ کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے جس پر یہ معاملہ اسمبلی میں جا پہنچا ، کالا باغ کے نواب ذادہ ملک مظفر خان ایم این اے نے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے ، اسمبلی میں اس اہم اور نازک ترین مسئلہ پر دو ماہ تک مسلسل بحث چلتی رہی ، قادیانیوں کی اپنی خواہش پر ان کے سربراہ کو اسمبلی میں جواب دینے کا موقع دیا گیا ، اس کے جواب نے مسلم اراکین کی آنکھیں کھول دیں اور پھر 7ستمبر کے تاریخی دن کو قومی اسمبلی نے اس فتنہ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دفن کرتے ہوئے انہیں کافر قرار دیا ، اس جدوجہد میں حضرت مولانا شاہ احمد نورانی ، مولانا مفتی محمود ، مولانا غوث ہزاروی اور ذوالفقار علی بھٹو نے تاریخی کردار ادا کیا ، ہم ان سطور کے ذریعے ان مجاہدوں کو سلام پیش کرتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔