کالم

فریب کے نت نئے انداز

taiwar hussain

تاریخ کا گہری نظروں سے مطالعہ کریں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ پاکستان کا معاشی طور پر کمزور ہونا صرف اور صرف اس وقت کے حکمرانوں کی لوٹ مار کی وجہ سے ہے ۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے پاس یہ ملک گروی رکھ دیا گیا ۔ 1947میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد جو کچھ نہیں تھے وہ بہت کچھ بن گئے اور جو بہت کچھ تھے وہ کچھ بھی نہ رہے ۔ لیاقت علی خان کی مثال لے لیں وہ کرنال کے نواب ابن نواب تھے ، وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد کچھ بھی کلیم نہ کیا ۔ تین جوڑے کپڑوں کے اور دو عدد شوز یہ کل کائنات تھی ، اس نواب زادے کی جس نے اپنا خون دے کر سبز ہلالی پرچم کو بلند رکھا اور بھارت کو اپنا مکہ ہوا میں لہرا کر چیلنج دیا، قوم کے مورال کو ڈاو¿ن نہ ہونے دیا ۔ ا سکا ذاتی گھر بھی نہیں تھا آج اس کا بڑا بیٹا اکبر ہفتے میں تین دن ڈائیلاسز کرواتا ہے اوراور ایک لاکھ پچھتر ہزار روپے کا خرچ برداشت کرنے کے قابل نہیں ۔ وہ لوگ منوں مٹی کے نیچے خاک کو اوڑھے لیٹے ہوئے ہیں ۔ روح تو کبھی نہیں مرتی ، یہ زندہ رہتی ہے ۔مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے حالات کو محسوس کرکے باوفا سیاسی راہنما و¿ں کی روحیں تڑپتی ہوں گی ، چراغ لے کر بھی ڈھونڈھیں تو ہمیں سردار عبدالرب نشتر سوہروردی، خواجہ ناظم الدین ، نوابزادہ نصر اللہ جیسے مخلص راہنما میسر نہیں ہوسکتے ۔ وہ اور ان جیسے دیگر راہنما پاکستان کی بقا ترقی اور خوشحالی کیلئے کوشاں رہے ، انہوں نے بڑی بڑی جائیدادیں ہونے کے باوجود پاکستان سے ناجائز ذریعوں سے پیسہ نہ کمایا بلکہ جائز حقوق بھی ذاتی منفعت کیلئے حاصل نہ کئے ۔ ان مشاہیر کی بیگمات بھی انہیں کے نقش قدم پر تھیں انہوں نے بھی جائز ذرائع سے دولت کے حصول کو گناہ سمجھا ، وہ لوگ ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوازا ہوا تھا وہ بھوکے ننگے نہیں تھے کہ دولت دیکھ کر رالیں ٹپکنا شروع ہوجائیں وہ سیاست کو مخلوق خدا کی خدمت سمجھتے تھے ، پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں، وقت کے ساتھ ساتھ اقتدار کی باگ ڈور ان ہاتھوں میں چلی گئی جو جونکیں بن کر پاکستان کا اور اسکی غریب عوام کا خون چوستے رہے ، گھٹیاں خاندانوں کے لوگ جو انگریزوں کے خدام میں سے تھے وہ پاکستان کے حکمران بن بیٹھے ، انہوں نے سیاست کو دولت کمانے کی فیکٹری بنادیا جو اب سیاسی انڈسٹری بن گئی ۔ ماحول ایسا بنادیا ہے کہ ہر وہ شخص جو دولت کا مالک ہو ، جائز اور ناجائز ذریعے سے اسمیں اضافہ کررہا ہو ، اپنے ارد گرد ثنا خوانوں کا مجمع رکھتا ہو ، پیسہ اور طاقت کے زور پر اقتدار میں حصہ دار بن کر قوانین سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتے ہوئے قوم کا راہنما کہلوانے پر فخر محسوس کرتا ہے ۔ تعلیم اور تربیت کا دور نہ رہا ، ان نو دولیتے مٹھی بھر لوگوں نے طاقت کے زور پر ایسا ماحول بنادیا جہاں جان مال اور عزت برقرار رکھنا بھی مشکل سے مشکل تر ہوگیا۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن کی خبریںمعاشرے کی عکاس ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ قومی رابطے پر رات نو بجے خبریں نہیں نوحے پڑھے جاتے ہیں ۔ قوم کو مجموعی بداخلاقی کا ماتم ہوتا ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ حکمران بدلتے رہے ، حکمرانی کے انداز بدلتے رہے لیکن ملک کی تقدیر بے حسی کی دلدل میں دھنستی رہی ۔ قوم بد حال ہوتی رہی ، حکمران خوشحال ہوتے رہے ، قانون سہما رہا ، ملک کو بدحال کرنے والے گل چھرے اڑاتے رہے ، آہنی ہاتھ ان کی گرد نو ں تک نہ پہنچ سکے بلکہ قانون مصلحت کا دو شالہ اوڑھے تماشائی بنارہا ۔ ملک کی لوٹی ہوئی دولت اگر نام نہاد سیاست دانوں سے واپس ہوجائے تو ملک کی غربت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوسکتی ہے لیکن نقب لگانے والے پکڑائی نہیں دیتے ، انہیں بیماریاں گھیرلیتی ہیں نہ صحتیاب ہوں اور نہ ہی احتساب کرنے والوں کا سامنا کرسکیں ۔ یہ بدبخت اور ان کے جھولی چک قوم کو صحت یابی کی دعاو¿ں پر لگا دیتے ہیں ۔ دیار غیر میں بیٹھے زندگی کی تمام آسائشوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے انہیں کبھی ملک ، قوم کا احساس نہیں ہوتا ، شاید وہ تازہ دم ہورہے ہوتے ہیں کہ آئندہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد پھر کن کن نئے حربوں سے ملک ،قوم کی دولت کو سمیٹنا چاہیے، وہ دیار غیر میں ٹھنڈی فضاو¿ں میں بیٹھے خالص خوراکیں پیٹ کے دوزخ میں ڈالتے ہوئے کبھی ندامت سے اللہ کے حضور معافی کے طلبگار نہیں ہوتے ۔ دولت مند جرائم کرتے بھی ہیں اور مجرم کی پرورش بھی کرتے ہیں ، ایسی فضا انہیں راس آتی ہے ۔ وہ دغا بازیوں اور فریب کے نت نئے انداز اپناتے ہیں ، سمجھتے یہ ہیں کہ کوئی طاقت انہیںگرفت میں نہیں لے سکتی لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ، پھر وہ بے یارو مدد گار سر چھپانے کی جگہ تلاش کرتے ہیں لیکن زمین ان پر تنگ ہوجاتی ہے ۔ جاہ وجلال تزک و احتشام زندگی کی حفاظت کرنے والے کرائے کے چوکیدار سب کچھ ختم ہوجاتا ہے انہیں دولت کے نشے میں مدہوش رہنے عادت پڑ چکی ہوتی ہے ، یہ نشہ انہیں در در کی ٹھوکر یں کھانے پر مجبور کرتا ہے ۔ وہ دولت جس کے حصول میں وہ زندگی کا ایک ایک لمحہ صرف کرتے ہیں ، بدنامی کا داغ دینے کے سوا کسی کام نہیں آتی ، حرام کمائی کا ایک ایک لقمہ ان کے مردہ ضمیر پر ایسے گرتا ہے جیسے لوطؑ کی قوم پر اللہ نے نشان زدہ پتھروں کی بارش کی تھی۔ سوچیئے ملک کا تین بار وزیر اعظم بنا ہوا شخص ہوسٹ گورنمنٹ سے مزید ٹھہرنے کی بھیک مانگ رہا ہے ۔ جب تک اس کی درخواست پر فیصلہ نہیں ہوتا وہ وہاں رات کی تنہائی ارو خاموشی میں ضمیر کا قیدی بنا آرام دہ بستر پر نہیں بلکہ کروٹیں بدلتے کانٹوں کی سچ پر لیٹے آنکھیں پھاڑنے چھت کو بے بسی کے عالم میں تکتا رہتا ہوگا۔وقت کی بساط کسی کے قابو میں نہیں ہوتی وہ اپنی چالیں خود چلتی ہے ، پکڑائی دیئے بغیر دولت حاصل کرنے کی ہوس انسان کو دو کوڑی کا بھی رہنے نہیں دیتی ۔ اپنے ملک پر غور کریںتو معلوم ہوتا ہے دولت مندوں نے یہاں کی فضاو¿ں کو بھی طرح طرح کے جرائم میں ملوث کردیا ہے ۔ ماحول بدبودار کردیا ہے ۔ نیک کردار کی خوشبوو¿ں کی بجائے جرائم کی بدبو نے ماحول کو بگاڑ دیا ہے ۔ قوم اور ملک کو فریب دینے والے خود اپنے ہی اعمال کی زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں ، انہیں زرا خبر نہیں ہوتی کہ وہ اپنی بد اعمالیوں سے جو فریب کا تانا باتا بن رہے ہیں ایک دن خود ہی اسمیں گرفتار ہوجائیں گے ۔ انسان حرص اور طمع کا غلام بن کر بدنامی کی کھونٹی پر لٹک جاتا ہے ۔ پاو¿ں نہ زمین پر اور نہ ہی اقتدار کی لگام ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ اللہ کی نوازشات کو بھول جاتے ہیں ، آسائشوں کی تمنا کرنے والے اللہ کے قرب کی تمنا نہیں کرسکتے ۔ وہ دولت کے حصول کا وظیفہ پڑھنے میں مشغول رہتے ہیں ، حالات اور واقعات نے پاکستانی قوم کو آدھ مویا کردیا ہے لیکن امید کا دامن گرفت میں ہے ، کوئی تو ایسا انسان اللہ کی طرف سے نامزد ہوکر آئے گا جو ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈالے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔