کالم

سندھ، حکمرانوں کی غفلت سے ڈوبا

riaz-chuadary

سندھ میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ اندرون سندھ اور کراچی زیرآب آنیوالے متعدد دیہاتوں، علاقوں سے تاحال پانی کی نکاسی نہیں ہوسکی۔ متاثرین کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق نے کہا ہے کہ سندھ حکمرانوں کی غفلت سے ڈوب گیا۔ متاثرین دہائی دے رہے ہیں سرکار کہیں نظر نہیں آتی۔ عوام کو خیرات نہیں اپنا حق چاہیے۔ ظلم جاری رہا تو حالات سے تنگ لوگ حکمرانوں کے محلات اور دفاتر کا رخ کریں گے۔
وطن عزیز میں بارشیں ختم ہونے کے باوجود دریاو¿ں میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ خصوصاً سندھ میں یہ حال ہے کہ ٹنڈو آدم میں سیلابی ریلے سے کئی علاقے زیر آب آگئے جبکہ مٹیاری میں سیلابی صورتحال کے بعد 200 سے زائد دیہات ڈوب گئے، نیو سعیدآباد سے نواب شاہ جانے والا مہران نیشنل ہائی وے بھی زیر آب آگیا۔حیدرآباد میں لطیف آباد اور قاسم آباد سمیت کئی علاقوں میں برساتی پانی نہیں نکالا جاسکا۔ مقامی بااثر لوگ اپنی فصلوں کو بچانے کے لیے کہیں کٹ لگاکر تو کہیں پانی کا راستہ روک کر سندھ کے مزید شہروں کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے استفسار کیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بیس روز قبل ایمرجنسی کا اعلان کیا جو کہیں دکھائی نہیں دے رہی، بے یارومددگار لوگ سڑکوں کے کنارے بیٹھے ہیں۔ہم ماضی کی طرح سیلاب زدگان کے لیے سرکاری امداد کی تقسیم میں گھپلے نہیں ہونے دیں گے ۔ سندھ حکومت ایک ناکام حکومت ہے۔ حکمرانوں کا سارا زور ہوائی جائزوں پر جب کہ زمین پر قیامت برپا ہے۔
جماعت اسلامی اور الخدمت فاو¿نڈیشن کے ہزاروں رضاکاران متاثرین کی مدد کرنے میں مصروف ہیں۔ مکمل بحالی تک خدمت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کی مددونصرت اور عوام کی تائید سے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔
سیلاب کی صورتحال میں تینوں بڑی سیاسی جماعتیں آزمائش کے موقع پر بری طرح بے نقاب ہوئیں۔ قوم انتخابات میں ان کی نااہلیوں کا حساب چکتا کر دے گی۔ ظالم حکمرانوں نے ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا۔ حکومتیں مصیبت کے وقت عوام کو ریلیف دیتی ہیں ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے بل معاف کرے۔ پورے ملک میں بجلی کے بلوں پر عائد ٹیکسز ختم اور ٹیرف کم کیا جائے۔ کمرتوڑ مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں، ظالم حکمرانوں نے غریب کا زندہ رہنا بھی مشکل بنادیا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 35سے 50فیصد کمی کی جائے۔
سندھ حکومت کی بے حسی کے باعث پچاس ہزار کی آبادی کا جھڈو شہر بربادی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ حکومت چاہتی تو شہر بچ سکتا تھا۔ چاروں طرف مکانات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ 80 فیصد آبادی ہجرت کرنے پر مجبور ہوئی۔ گھر پانی میں ڈوبے ہوئے مگر رہائشیوں کوپینے کا پانی میسر نہیں۔ صوبائی حکومت بے بس نظر آ رہی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ حکمرانوں کی نااہلی سامنے آئی ہے۔ ہر آزمائش اور دکھ کی گھڑی میں حکمرانوں نے عوام کو تنہا چھوڑا ہے۔ سندھ کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ وڈیروں اور جاگیرداروں کی بجائے اہل اور ایمان دار لوگوں کو آگے لائیں تاکہ صوبہ میں بہتری آئے۔
جناب سراج الحق نے مطالبہ کیاکہ متاثرین میں امداد کی تقسیم کو شفاف بنانے کے لیے تحصیل کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور ان کمیٹیوں میں سول سوسائٹی، صحافی،وکلاء،علمائے کرام اور بزرگ شہریوں کو شامل کیاجائے۔ یہ آزمائش کا موقع ہے ہمیں توبہ استغفار کرنا چاہیے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدواربننا چاہیے۔
نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل جناب لیاقت بلوچ نے کہا کہ ساڑھے تین کروڑ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے پوری قوم، سول سوسائٹی کا جذبہ قومی سرمایہ ہے۔ عالمی اداروں، برادر، دوست اور اسلامی ممالک کی امداد انسانیت کی بڑی خدمت ہے۔ جماعتِ اسلامی اور الخدمت کے کارکنان رضاکاران دِن رات محنت اور مقدور بھر کوششوں کے ساتھ دینی، انسانی اور ملی فرض ادا کررہے ہیں۔ ریسکیو اور ریلیف کے مراحل کے بعد بہت بڑی تباہی سے دوچار متاثرین کی بحالی بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ حکومت بحالی کے لیے امداد کا منصوبہ شفاف اور بروقت بنائے۔ ماضی میں کرپشن، بدعنوانیوں اور پسند و ناپسند کی غلط کاریوں کا ازالہ کیا جائے۔
لیاقت بلوچ نے تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محمدرحمت اللعالمین اور خاتم النبیاءہیں۔ پوری ا±مت کے اہلِ ایمان کا یہ عقیدہ ہے۔ اِس سے انکار ہی کفر ہے اور منکر ا±مت سے اپنا الگ تشخص بنالیتا ہے۔ یہ ہی منکرینِ محمد کی ا±مت میں تفرقے اور تقسیم کرنے کے لیے اسلام دشمن قوتوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔
ختمِ نبوت کا انکار کرنے والوں کو عالمِ کفر تحفظ دیتا ہے۔ محمد سرچشمہ ہدایت ہیں۔ آپ نے غافل لوگوں کی تاریکی کو روشنی میں بدل دیا۔ محمد پر دینِ حق مکمل ہوگیا، انبیاءکا سلسلہ ختم ہوا۔ آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ عقیدہ کی پختگی کے ساتھ اتحاد، اخلاق، باہمی احترام، بلند اخلاق ا±متِ مسلمہ کی کامیابی کی کنجی ہے۔ محمد کی ذات قانون اور شریعت کا مآخذ ہے یہ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔