کالم

پاکستانی عوام 37 سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں

ijaz ahmad

ابھی پاکستانی اقتصادیات سیلاب اور بارش کی وجہ سے انتہائی خراب ہوگئی۔ 2000 کے قریب لوگ اس قدرتی آفت میں جاں بحق ہوئے ۔ ہزاروںزخمی ہوئے اور 12 لاکھ کے قریب اس میں جانور لقمہ اجل بن گئے ۔ مگر اسکے با وجود پاکستان کے غریب اور مڈل کلاس لوگ سیلاب اور بارش زدگان کی مدد کر رہے ہیں ۔ مجھے اشرافیہ بتا دیں انہوں اس قدرتی آفت میں عوام کی کیا مدد کی ہے۔ اسی طرح پاکستان کے 22 کروڑ عوام سینکڑوںقسم کے ٹیکس دیتے ہیں مگر حکمران پھر بھی ان سے خوش نہیں ۔اورہردور کے حکمران وطن عزیز کے باسیوں پر یہ الزام لگارہے ہیں کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔ اگر ہم غور کریں تو اس وقت پاکستانی مختلف ٹیکسوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ ان چیدہ چیدہ 37 ٹیکسوں میں انکم ٹیکس ، جنرل سیل ٹیکس،کیپٹل ویلیو ٹیکس،ویلیو ایڈڈ ٹیکس، سنٹرل سیلز ٹیکس،سروس ٹیکس، فیول ایڈجسٹمنٹ ٹیکس ،پٹرول لیوی،ایکسائز ڈیوٹی، کسٹم ڈیوٹی، آکٹرائے ٹیکس، ایمپلائنمنٹ ٹیکس،ٹی ڈی ایس ٹیکس ، پراپرٹی ٹیکس ، گورنمنٹ سٹیمپ ڈیوٹی, آبیانہ ٹیکس، عشر ، زکواة ، دھل ٹیکس، لوکل سیس، پی ٹی وی ٹیکس، پارکنگ فی، کیپٹل گین ٹیکس،واٹر ٹیکس، فلڈ ٹیکس، ڈیم کنسٹرکشن ٹیکس، فروفیشنل ٹیکس، روڈ ٹیکس، ٹال گیٹ فی ، سیکیورٹی ٹرانزیکشن ٹیکس ، ایجوکیشن سیس، ویلتھ ٹیکس، ٹرانزینس اکوپینسی ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس، ایجوکیشن فی، ایس ای سی پی لیوی، بجلی ٹیکس اور اسکے علاوہ بے تحا شہ مزید ٹیکس بھی ہیں۔مگر مجھے حکمران اور اشرافیہ بتا دیں کہ وہ ان کمر توڑ ٹیکسوں اور تاریخ کی بد ترین مہنگائی کے عوض پاکستانیوں کو کیا دے رہے ہیں؟۔کیا ریاست کے ذمے عوام کو روزگار، تعلیم، صحت اور تحفظ کے جو اقدامات شامل ہیںوہ انکو دے رہے ہیں؟ ۔ عالمی بینک ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور سابق وزیر اعظم عمران خان و دیگر کئی وزرائے اعظم ان کے مطابق وطن عزیز میں 45 فیصد لوگ ، تقریباً 12 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پی ٹی آئی کی ماضی قریب ، موجودہ اور سابق حکومتوں کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے اس میں مزید اضا فہ ہوا۔ اور اس وقت پاکستانی بچوںکی مہنگی تعلیم، نا قابل بر داشت صحت ، روز گار کے بوجھ کے علاوہ ریاست ، ریاستی اداروں ، اشرافیہ، کا رخانہ داروں، جاگیر داروں، سول اور ملٹری بیروکریسی شامل کا انتہائی اذیت ناک بوجھ بھی اُٹھا رہے ہیں۔اگر فرض محا ل غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے کروڑوں لوگوں کی آمدنی 2 ڈالر روزانہ ہے تو کیا حکمران وقت بتانا پسند فرمائیں گے کہ ان 15 یا 20 ہزار روپے میں 6 افراد پر مشتمل خاندان کی کفالت کیسے کیا جا سکتا ہے۔یہ بھی ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے حکمران پسے ہوئے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اپنے عیاشیوں میںمصروف ہیں۔ پاکستانیوں کو ہر دور اور ہر پا رٹی کے حکمرانوں پر کوئی اعتبار اور یقین نہیں۔ کیونکہ یہ حکمران غریب عوام اور ٹیکس دینے والے پسے ہوئے طبقات کے پیسوں پر پر تغیش زندگی گزار رہے ہیں۔ ما ضی قریب کے عمران کابینہ میں 70 فیصد بد عنوان ، وزیر ، ایم این اے، ایم پی اے و سینیٹرز حضرات نواز شریف ، پر ویز مشرف اور پی پی پی کا حصہ رہے ہیں۔ عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے جو ٹیکس دیتے ہیں حکمران اس کو عوام کا امانت نہیں سمجھتے اور اس دولت کو منی لانڈرنگ کی شکل میں باہر ملکوں میں منتقل کرکے جائیدادیں بنا رہے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس دینے کا رحجان بہت زیادہ ہے ۔پاکستان جیسے غریب ممالک والے ریجن جنوبی ایشاءمیں ٹیکس دینے کی شرح ملک کے کل آمدنی کا 12 فیصد ہے جبکہ یہ شرح پاکستان میں 11 فی صد ہے جو جنوبی ایشاء کے کسی ممالک سے کم نہیں۔ مگر اسکے باوجود بھی پاکستان جنوبی ایشائی ممالک بھارت، بنگلہ دیش، بھوٹان ، سری لنکا، افغانستان ، مالدیپ، نیپال سے فی کس آمدنی، خارجہ سکے کے ذخائر ، اور ڈالر کے ساتھ ان ممالک کے سکوں کے مقابلے میں کم ہے۔مثلاً بھارت کی فی کس آمدنی 2ہزار ڈالر، سری لنکا کی 2400 ڈالر، بنگلہ دیش کی 2900 ڈالر، مالدیپ کی 8300 ڈالر، جبکہ دنیا کی ساتویں اور مسلم دنیا کی اکلوٹی اٹیمی طاقت پاکستان کی فی کس آمدنی 1200ڈالر فی کس ہے۔ اس وقت بھارت کے ساتھ خارجہ سکے ذخائر 600 ارب ڈالر،بنگلہ دیش کے ساتھ 43ارب ڈالر، نیپال اور افغانستان کے ساتھ 10 ارب ڈالر، جبکہ بد قسمتی سے پاکستان کے پاس سب سے کم یعنی 8 ارب ڈالر ہے اور اس میں تقریبا 6 ارب ڈالر سعودی عرب ، چین اور کئی خلیجی ممالک کے ہیں۔اگر ہم ڈالرکے حساب سے جنوبی ایشیائی ممالک کی کرنسی کا موازنہ کریں تو 1افغانی روپیہ پاکستان کے 2.34روپے کے برابر ہے۔ جبکہ بنگلہ دیش کا ایک ٹکہ پاکستان کے 2.26روپے کا جبکہ بھارت کا ایک روپیہ پاکستان کے تقریباً 2.75روپے کے برابر ہے۔ یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ عمران خان کے پونے چار سال کے عرصہ میں 30 ہزار ارب روپے سے 54 ہزار ارب روپے تک پہنچ کیا۔ اور عمران خان کے پونے چار سال دور حکومت میں سمندر پار پاکستانیوں نے اوسطاً 25 ارب ڈالر تک پاکستان بھیجے اور ہر سال 5 ہزار ارب روپے ٹیکس جمع ہوتا رہا ۔ کرونا کی مد میں بیرونی دنیا نے ساڑھے تین ارب ڈالر دئے مگر سمجھ نہیں آتی کہ ان سب کے باوجود پھر بھی پاکستان آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کے لئے قوم کو کتنا ذلیل اور رسوا کر رہے ہیں۔در اصل بات یہ ہے کہ لیڈر شپ ملکوں کے اقتصادی ، مالی اور سفارتی حالات بدلتے رہتے ہیں مگر افسوس صد افسوس ہماری لیڈر شپ اور قیادت اس اہل نہیں کہ وطن عزیز کو اقتصادی اور مالی بحران سے نکال سکیں۔ اس وقت اگر ملک کو ضرورت ہے تو ایک مخلص اور اہل لیڈر شپ کی ہے۔علاوہ ازیں پاکستان میں غریب تو ٹیکس دیتے ہیں مگر امیر نہیں دیتے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ غریبوں پر مہنگائی کی شکل میں بے تحاشا ٹیکس لاگو کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔