کالم

یواین کی الخدمت ریلیف پروگرام کی تعریف

riaz-chuadary

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سیلاب زدگان کی امداد کے حوالے سے الخدمت فاو¿نڈیشن کی سرگرمیوں کو سراہتے کرتے ہوئے کہا پاکستانی باہمت قوم ہے اورامید ہے وہ اس مشکل وقت سے بخوبی نکل آئے گی۔سیلاب زدگان کی امداد بارے الخدمت فاو¿نڈیشن کی کارروائیاں قابل ستائش ہیں۔الخدمت فاو¿نڈیشن پاکستان کے صدر محمد عبدالشکور نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے یو این کے سیکرٹری جنرل کو سیلاب متاثرہ علاقوں کی ابتر صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے الخدمت فاو¿نڈیشن پاکستان کی امدادی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ الخدمت فاو¿نڈیشن ملک کے چاروں صوبوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں کام کر رہی ہے اور متاثرین کو بڑے پیمانے پرپکا پکایا کھانا، پینے کا صاف پانی، خشک راشن، خیمے اور طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ الخدمت ایک ملک گیر تنظیم ہے اور اس کے کئی ہزار رضاکار ریسکیو اور ریلیف کے کام میں مصروف ہیں۔ پاکستانی ڈاکٹرز کی ایک بڑی تعداد ا±ن کے ہمراہ طبی سہولیات فراہم کرنے میں مصروف ہے۔ انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے عوام کیلئے اجنبی نہیں ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ان کا گہرا رشتہ ہے اور میرے دل کے قریب ہے۔ آج سے 17 سال قبل جب وہ اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے سربراہ تھے تو انہوں نے افغان مہاجرین کیلئے یہاں کام شروع کیا۔ انہوں نے 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے بعد پاکستان کا دورہ کیا، دہشت گردی کے باعث پاکستان کو بہت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے عوام نے بہت مشکلات جھیلی ہیں۔ پاکستان کو اس وقت بہت بڑے قدرتی المیے کا سامنا ہے۔نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل جناب لیاقت بلوچ نے سیاسی کارکنان اور نوجوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت فاو¿نڈیشن نے سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں میں نیا قومی جذبہ پیدا کیا اور محنت، تہذیب اور دکھ درد کے احساس کا کلچر دیا ہے۔ نوجوان ہی پاکستان کا مستقبل اور اصل سرمایہ ہیں۔ نوجوان قومی قیادت کی غلطیوں میں غرق ہونے کی بجائے اپنا مقام اور اپنا مستقبل خود محفوظ کریں۔ الخدمت کے 16ہزار رضا کار مستقل طور پر ریلیف آپریشن میں مصروف عمل ہیں جبکہ 35ہزار رضا کارالخدمت ریلیف آپریشن میں شریک رہے ۔ کراچی میں 150امدادی کیمپوں سمیت ملک بھر میں تقریباً 4ہزار کیمپ کام کر رہے ہیں۔ الخدمت رضا کاروں نے اپنی جانوں پر کھیل کر متاثرین کو ریسکیو کیا ہے۔ الخدمت کا ریلیف آپریشن جاری ہے اور ایک ایک متاثرہ شخص کی دوبارہ آباد کاری تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عوام سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی پروگرام کےلئے الخدمت فاو¿نڈیشن پر اعتماد کر کے اپنے عطیات فاو¿نڈیشن کے کیمپوں میں پہنچا رہے ہیں۔ سیلاب زدگان کے لیے الخد مت فاونڈیشن کے زیر اہتمام اسلام آباد میں قائم مرکزی فلڈ ریلیف کیمپ میں شہر کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات بالخصوص کم عمر رضار بچوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے مخیر افراد اور تنظیموں نے بھی الخدمت کے فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کر کے عطیات اور امدادی سامان جمع کروا یا۔الخد مت فاونڈیشن اسلام آباد کے زیر اہتمام متاثرین سیلاب کےلئے کروڑوں روپے مالیت کا امدادی سامان لے کر درجنوں ٹر ک اور گاڑیوں کے قافلہ ملک بھر کے مختلف علاقوں میں جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی اور الخدمت کی کوششوں اور جدو جہدکی وجہ سے صرف کراچی میں 150مقامات پرامدادی کیمپ مسلسل مصروف عمل ہیں۔ سندھ حکومت نے بارشوں اور سیلاب کی پیشگی اطلاعات کے باوجود پہلے سے اقدامات نہیں کیے،نہ صرف اپنی ذمے داری پوری نہیں کی بلکہ مجرمانہ غفلت و لاپروائی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث کراچی کی حالت بد سے بدتر ہوئی اور سیلاب سے متاثرین کو بھی بروقت ریسیکو اور ریلیف نہیں مل سکا۔ الخدمت سرکاری خیموں میں بھی کھانا فراہم کر رہی ہے۔ کراچی کے شہری بدستور مسائل کا شکار ہیں ۔ بارش کے بعد شہر کی حالت اور خراب ہو گئی ہے ۔ سڑکوں کی تعمیر و مرمت کےلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص تو کر دیے گئے ہیں مگر بہتری کی صورتحال کہیں دکھائی نہیں دے رہی اور خدشہ ہے کہ یہ رقم بھی سندھ حکومت کی نا اہلی اور کرپشن کی نذر نہ ہو جائے ۔ شہر کی منتخب قیادت ہی عوام کے مسائل حل کر سکتی ہے ، کراچی کے عوام کو بلدیاتی نمائندوں اور میئر کی ضرورت ہے اس لیے ہمارا یہ مطالبہ برقرار ہے کہ کراچی میں فوری بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔مشکل کی اس گھڑی میں الخدمت متاثرین کیساتھ کھڑی ہے ۔ جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنان نے الخدمت کے رضا کاربن کر خدمات انجام دی ہیں ۔ ہر طبقہ فکر اور شعبہ زندگی سے وابستہ افراد مردو خواتین سرکاری و نجی تعلیمی اداروں ، جامعات اور پروفیشنل کالجز کے طلبہ و طالبات ، اساتذہ ، علما کرام ، تاجر و صنعتکاروں ، مزدوروں نے سیلاب زدگان کیلئے دل کھول کر عطیات دیے اور جماعت اسلامی و الخدمت کی امدادی سرگرمیوںمیں بھی حصہ لیا۔حکمران ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر سیلاب کاجائزہ لے رہے ہیں۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہی چند تھیلے آٹا، اور دیگر کھانے پینے کی اشیاءسیلاب زدگان تک پہنچائی جارہی ہیں مگر یہ سب فوٹو سیشن کےلئے ہو رہا ہے۔ ایسے میں یہ الخدمت ہے جو بے لوث میدان عمل میں ہے۔الخدمت فاو¿ندیشن نے واقعی دل جیت لیے ہیں اور یہ آج کا واقعہ نہیں ، یہ روز مرہ ہے۔یہ ہمہ وقت میدان عمل میں ہوتے ہیں اور پوری حکمت عملی اور ساری شفافیت کے ساتھ۔ جو جب چاہے ان کے اکاو¿نٹس چیک کر سکتا ہے۔ یہ کوئی کلٹ نہیں کہ حساب سے بے نیاز ہو، یہ ذمہ داری ہے جہاں محاسبہ ہم رکاب ہوتا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ 2010ء میں سیلاب کے بعد بننے والے کمیشن کی رپورٹ اور سفارشات پر بھی عمل نہیں کیا گیا اگر اس پر عمل درآمد کیا جاتا تو آج صورتحال اتنی سنگین نہ ہوتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔